فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟…

فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

﴿اِِلَّا اِِبْلِیسَ اسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ﴾ [ص ۷۳]

’’ سوائے ابلیس کے ‘ اس نے تکبر کیا ‘اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘

اگر تسلیم کرلیا جائے کہ اس کے کچھ نیک اعمال بھی تھے ‘ تو اس کے کفر کرنے کی وجہ سے وہ سارے ضائع ہوگئے۔ ایسے ہی باقی لوگوں کا حال ہے ؛ جو بھی کفر کریگا اس کے اعمال ضائع کردیے جائیں گے ۔ تو پھر ایسے مؤمنین سے تشبیہ کیسی ؟

پانچویں بات:....ان سے کہا جائے گا : ’’ تمہارا یہ کہنا کہ معاویہ شرک و کفر میں ہی رہے یہاں تک اسلام قبول کرلیا ۔‘‘

اس سے ان دونوں کے درمیان اجتماع کا فرق واضح ہوجاتا ہے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کفر کے بعد ایمان لائے؛ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں :

﴿قُلْ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ﴾ (الانفال:۳۸) 

’’آپ کافروں سے فرمائیں کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ معاف کردیجیے جائیں گے۔‘‘

آپ نے اپنے شرک سے توبہ کی ؛ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنَِ ﴾ [التوبۃ۱۱]

’’اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ اداکریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔‘‘

ابلیس نے ایمان کے بعد کفر کیا ‘ جس کی وجہ سے اس کے ایمان والے سارے اعمال ضائع ہوگئے ۔ جب کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے کفر کے بعد اسلام قبول کیا ؛ تو اسلام لانے سے ان کے دور کفر کے تمام اعمال ختم ہوگئے ۔ تو پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے جب کہ ایک ایمان لانے کے بعد کافر ہوا؛ اور دوسرا کافر تھا ایمان لے آیا ؟

چھٹی بات : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا ثابت ہے۔ اسلام سابقہ تمام گناہوں کو مٹا کر رکھ دیتا ہے۔اب جو کوئی آپ کے مرتد ہونے کا دعوی کرے ؛ اور اس کا جھوٹا ہونا معلوم نہ بھی ہو تب بھی یہ دعوی بغیر کسی دلیل کے ہے ۔تو پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب اس دعویدار کا جھوٹا ہونا معلوم ہو۔ آپ مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے۔ جس طرح دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسلام پر باقی رہنا معلوم ہے۔ جس ذریعہ سے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا [مرتے دم تک ] اسلام پر قائم رہنا معلوم ہوتا ہے ؛ اسی ذریعہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھی اسلام پر قائم و باقی رہنا معلوم ہوتا ہے۔ شیعہ حضرت ابو بکر و عمرو عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کو مرتد قرار دینے میں اسی طرح غلطی پر ہیں جیسے خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر تصور کرنے میں ۔ جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دینے والے جھوٹے ہیں ‘ ایسے ہی ان باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر و مرتد قرار دینے والوں کا جھوٹ بالکل واضح اور ظاہر ہے ۔اس لیے کہ ان لوگوں کے ایمان پر باقی رہنے کی دلیل صاف واضح اور ظاہر ہے۔اور خوارج کا شبہ روافض کے شبہ سے زیادہ قوی ہے ۔

ساتویں بات : ....اگر اس دعوی کو سچ تسلیم کرلیا جائے تو اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور دیگر کے لیے قدح واہانت ہے جو کہ کسی پر بھی پوشیدہ نہیں ۔[شیعہ صحابہ کو مرتد قرار دیتے ہیں تواس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ] حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ مرتدین کے مقابلہ میں مغلوب رہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبردار ہو کر اسے مرتدین کو تفویض کردیا۔جبکہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مرتدین کو مغلوب و مقہور کیا تھا۔تونتیجہ یہ ہوا کہ کفار کے خلاف نصرت الٰہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بجائے ہمیشہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے شامل حال رہی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ عادل ہے ؛ وہ کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتا۔ تو پھر نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا فتح و نصرت کا استحقاق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر تھا ۔ اس وجہ سے وہ اللہ کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ٹھہرے ۔

یہی نہیں ‘ بلکہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے لشکر اور نائبین کافروں پر غالب و فاتح رہے ؛ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مرتدین کی سرکوبی سے عاجزر ہے ؛ یہ مرتدین بھی کفار ہی تھے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴾ [آل عمران۱۳۹]

’’اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب رہوگے ، اگر تم مومن ہو۔‘‘

نیزاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَلَا تَہِنُوْا وَتَدْعُوْا اِِلَی السَّلْمِ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ﴾ [محمد۳۵]

’’پس نہ کمزور بنو اور یہ کہ صلح کی طرف بلاؤ اور تم ہی سب سے اونچے ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تم سے تمھارے اعمال کم نہ کرے گا۔‘‘

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ملک کی حفاظت نہ کرسکے [اور ہر طرف سے شورشوں کے مقابلہ میں عاجز آگئے ] تو انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس شرط پر صلح طلب کی کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے علاقہ پر حاکم رہے گا ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کافرما ن ہے :

﴿فَلَا تَہِنُوْا وَتَدْعُوْا اِِلَی السَّلْمِ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ َ﴾ [محمد۳۵] 

’’پس نہ کمزور بنو اور نہ صلح کی طرف بلاؤ اور تم ہی سب سے اونچے ہو؛ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے ؛اور وہ ہر گز تم سے تمھارے اعمال کم نہ کرے گا ۔‘‘

[شیعہ کے مفروضات کے مطابق ] اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی ہی مؤمن تھے ‘اور ان کے مخالفین مرتد تھے ؛ تو ضروری تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی غالب رہتے ؛ حالانکہ واقعات حال اس کے خلاف ہیں ۔

صفحہ 3 از 4