زخمی ہونے سے قبل سیدنا عمر فاروق اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کی ملاقات
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے چار دن پہلے، یعنی 23 ذی الحجہ بروز اتوار دو صحابہ یعنی حذیفہ بن یمان اور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ عراق میں دریائے دجلہ کے پانی سے سیراب کی جانے والی کھیتیوں اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ دریائے فرات کے پانی سے سیراب کی جانے والی کھیتیوں کا خراج متعین کرنے پر مقرر تھے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں نے کیسے خراج کا اندازہ مقرر کیا ہے؟ مجھے ڈر ہے کہ کہیں زمین کے خراج میں تم نے وہ اندازہ نہ مقرر کر لیا ہو جس کی اس میں صلاحیت نہیں؟ دونوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم نے اتنا ہی اندازہ لگایا ہے جتنی اس میں صلاحیت ہے۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے صحیح سالم زندہ رکھا تو عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہ جائیں گی۔ لیکن اللہ کا فیصلہ کچھ اور تھا اس گفتگو کے چار دن بعد سیدنا عمرؓ نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
(الخلفاء الراشدون: خالدی: صفحہ 82، صحیح البخاری: حدیث نمبر 3700)