فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 13

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام 

[اشکالات]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ بعض اہل سنت نے اس حد تک غلو سے کام لیا حتی کہ یزیدبن معاویہ کو امام تصور کرنے لگے؛ حالانکہ اس نے انتہائی قبیح افعال کا ارتکاب کیا؛اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؛ ان کے اموال پر قبضہ کرلیا؛اور عورتوں کو قیدی بنالیا۔ اور اہل بیت خواتین کو ننگے اونٹوں پر سوار کرکے مختلف شہروں میں گھمایا۔ جب کہ زین العابدین کے گلے میں طوق پڑا تھا۔ صرف قتل حسین رضی اللہ عنہ پر ہی اکتفاء نہیں کیا ؛ بلکہ آپ کو گھوڑوں کے نیچے کچل ڈالا؛ اور آپ کی پسلیاں توڑ دیں ۔ اور آپ کے سر کو نیزے پر اٹھایا گیا۔ حالانکہ مشائخ نے یہ روایت کیا ہے کہ جس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے اس دن آسمان سے خون کی بارش برسی ۔ رافعی نے اپنی کتاب ’’ شرح الوجیز‘‘میں اور ابن سعد نے ’’الطبقات ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ :جس دن حسین رضی اللہ عنہ قتل ہوئے اس دن آسمان میں ایک سرخی ظاہر ہوئی جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ : اس دن دنیا میں کوئی ایسا پتھر نہیں اٹھایا گیا جس کے نیچے سے خون نہ نکلا ہو۔ آسمان سے ایسی بارش برسی کہ اس کا اثر کپڑوں میں ان کے ختم ہونے تک رہا ۔ امام الزہری فرماتے ہیں : ’’ قاتلین حسین میں سے کو ئی بھی ایسا نہیں بچا جسے دنیا میں سزا نہ مل گئی ہو۔ یا تو اسے قتل کردیا گیا ؛ یا پھر وہ اندھا ہوگیا ؛ یااس کا چہرہ کالا ہوگیا ؛ یا پھر بہت ہی کم مدت میں اس کی حکومت ختم ہوگئی ۔‘‘ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت کے ساتھ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی بابت وصیت فرمایا کرتے تھے۔اور فرماتے تھے : یہ دونوں تمہارے پاس میری امانت ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿ قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ (الشوریٰ۲۳)

’’ فرمادیں : میں قرابت داری کی محبت رکھنے کے سوا تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ :’’ بعض اہل سنت نے اس حد تک غلو سے کام لیا حتی کہ یزیدبن معاویہ رضی اللہ عنہ کو امام تصور کرنے لگے۔‘‘

اگر شیعہ مصنف کی مراد یہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید بھی ہدایت یافتہ خلفاء راشدین ابو بکر و عمرو عثمان او رعلی رضی اللہ عنہم کی طرح تھا؛ تو [یہ جان لینا چاہیے کہ ] مسلمان علماء میں سے کوئی ایک بھی یہ بات نہیں کہتا۔ اگرچہ بعض جاہل [اور متعصب ] لوگ اس طرح کا نظریہ رکھتے ہوں ۔ جیسا کہ بعض جاہل کُردوں سے نقل کیا گیا ہے ؛ جو کہتے ہیں کہ : یزید صحابہ کرام میں سے تھا ۔ یا بعض کہتے ہیں : وہ نبی تھا۔بعض کہتے ہیں : وہ خلفاء راشدین میں سے تھا۔ یہ نظریات رکھنے والے ان قابل اعتماد اہل علم میں سے نہیں ہیں جن کی باتیں قابل نقل و حجت ہوں ۔ مگر اس جہالت کے باوجود وہ شیعہ کے جہلاء و ملحدین سے بہتر ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الٰہ ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔یا پھر آپ کو نبی مانتے ہیں ۔یا پھر کہتے ہیں کہ : شریعت کاباطن اس کے ظاہر کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اسماعیلیہ ‘ نصیریہ اوردوسرے [شیعہ فرقے ] کہتے ہیں کہ : ان کے خواص سے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج ساقط ہوچکے ہیں ۔ یہ لوگ معاد [آخرت ]کے منکر ہیں ۔بلکہ ان میں سے غالی لوگ تو خالق کے ہی منکرہیں ۔ان کا عقیدہ ہے کہ محمد بن اسماعیل [اسماعیلیہ فرقہ کا امام] محمد بن عبد اللہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] سے بہتر ہے اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کردیاہے۔ اور اپنے ائمہ کے متعلق اعتقاد رکھتے ہیں کہ تمام ائمہ معصوم ہیں ۔ [شیخ عدی بن مسافر المتوفی(۴۶۷۔۵۵۷) ایک عابد و زاہد شخص تھے انھوں نے دیکھا کہ شیعہ یزید پر طرح طرح کے بہتان باندھتے اور اس کے دین و اخلاق پر حملے کرتے ہیں ۔ روافض کے اس رویہ سے تنگ آکر شیخ عدی نے اعلان کردیا کہ یزید امام تھا اور شیعہ کے سب اتہامات اس کے خلاف کذب ہیں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ’’ العدویہ‘‘ میں لکھا ہے کہ شیخ عدی کا مسلک افراط و تفریط سے پاک تھا۔ شیخ عدی کے ایک نائب حسن کے زمانہ میں روافض اتباع عدی کی ایک جماعت پر حملہ آور ہوئے۔ اور عدی کے خلیفہ شیخ حسن کو قتل کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ عدی کے مریدوں نے اس طرح غلو سے کام لینا شروع کیا جس طرح شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے بارے میں مبالغہ آمیزی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ کرد جو شیخ عدی کے مرید تھے یزید کو نبی قرار دینے لگے۔ امام ابن تیمیہ کے زمانہ میں بعض کرد یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ شیخ الاسلام نے ان کو راہ راست پر لانے کے لیے ’’الرسالہ العدویہ‘‘ تصنیف کیا اور اس میں واضح کیا کہ شیخ عدی نیک آدمی تھے۔ اگر اس وقت زندہ ہوتے تو ارادت مندوں کے اس اغراق و مبالغہ کو ناپسند کرتے۔’’الرسالہ العدویہ‘‘ کا ایک قدیم ناقص الآخر نسخہ دارالکتب المصریہ میں تاہنوز محفوظ ہے۔ علامہ محقق احمد تیمور پاشا نے الرسالہ العدویہ کے چند فقرے اپنے رسالہ ’’الیزیدیت‘‘ میں درج کیے ہیں ہم رسالہ مذکورہ کو دو مرتبہ طبع کراچکے ہیں ۔ آخری مرتبہ یہ ۱۳۵۲ ہجری میں چھپا۔ رسالہ مذکور سے واضح ہوتا ہے کہ کرد یزید کو نبی قرار دیتے ہیں ، پھر اس سے بڑھ کر منصب الوہیت پر فائز کردیا، اس فرقے کا نام ’’یزیدیہ‘‘ ہے۔ قبیلہ کرد کی یہ جماعت شمالی عراق کے علاقہ منجارمیں بودو باش رکھتی ہے۔ کچھ لوگ روس کے صوبہ اور دمشق و بغداد و حلب کے نواح میں بھی سکونت گزیں ہیں ۔ شیخ عدی کردوں کے یہاں جبال ہکار میں جانے سے پیشتر لبنان و شام کے ایک گاؤں میں رہ کر مصروف عبادت رہا کرتے تھے۔ یہ بعلبک کے قریب بیت فارنامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ تصوف میں شیخ عبد القادر جیلانی اور عبد القاہر سہروردی، عقیل ینجی ۔ حماد دبّاس اور ابوالوفا حلوانی کے شاگر دتھے۔ اگر شیخ عدی کے اتباع ان کے طریقہ پر گامزن رہتے تو نہایت ہی صالح مسلمان ہوتے مگر انھوں نے کفر کی حد تک غلو سے کام لیا۔ دراصل ان کا غلوّ روافض کے غلو سے پیدا شدہ اور اس کے توڑکی کوشش ہے۔]

صفحہ 1 از 13