فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 13

اور صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛سنا ،انہوں نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنا دیں ؟ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے بعد [دنیاوی معاملات میں ] تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو ۔‘‘[البخاري ۵؍۳۳ ؛کتاب مناقب الأنصار؛ باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم للأنصار اصبروا....؛ مسلم ۳؍۱۴۷۴ ؛ کتاب الإمارۃ باب الأمر بالصبر عند ظلم الولاۃ و استئثارہم ....‘‘] 

صحیح بخاری کی ایک روایت ہے؛ یحیی بن سعید نے سنا جب وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار رضی اللہ عنہم کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں ۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو ، کیونکہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے۔‘‘[البخاری ؛ سبق تخریجہ ]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مسلمان مرد پر حاکم کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ہو ؛تنگی ہو یا آسانی ہو؛ اس کی بات سننا لازم ہے۔‘‘[مسلم؛ امارت اور خلافت کا بیان : ح:۲۷۱ غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب....کے بیان میں ۔]

صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے؛اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔‘‘[ایضًا]

یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان پر ترجیح دیے جانے کے وقت صبر کریں ؛ اور اگر حکمران ان پر دوسروں کو ترجیح بھی دیں ؛ تب بھی وہ اس پر صبر کریں ؛ اور حکومت کے معاملہ میں ان سے جھگڑا نہ کریں ۔اور بہت سارے وہ لوگ جو حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں ؛ یا ان کی اکثریت؛ جو اس لیے بغاوت کرتے ہیں کہ ان پر دوسروں کو ترجیح دی جارہی ہے؛ وہ اس پر صبر نہیں کرسکتے۔ پھر بیشک حکمران کے اس کے علاوہ دوسرے گناہ بھی ہوتے ہیں ؛ اور یہ انسان اپنے اس معاملہ میں دوسرے کو ترجیح دینے کی وجہ سے دوسرے گناہوں کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے۔ اور اس سے جنگ کرنے والا یہی گمان کرتا ہے کہ وہ اس لیے لڑ رہاہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین سر بلند ہو؛ اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔ اور اس کا سب سے بڑا محرک اور اس کی اپنی غرض کی طلب تھی؛ بھلے یہ غرض مال کا حصول ہو یا ولایت کا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ ﴾ (التوبۃ ۵۸]

’’ پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں ۔‘‘

اور صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا ، نہ ہی انہیں پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے۔اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس سے کہیں گے؛ آج کے دن تجھے میں اپنے فضل سے ایسے ہی محروم رکھوں گا؛ جیسے تو نے لوگوں کو محروم رکھا؛ حالانکہ تم نے اپنے ہاتھ سے اس میں کوئی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی ، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا ، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا توراضی رہا، اور اگر نہیں دیا تو ناراض ہو گیا۔اورتیسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اس سے زیادہ میں لی ہے؛ جو اسے دیا جارہا ہے ۔‘‘[سبق تخریجہ]

پس جب اس کے ساتھ شبہ اور شہوت بھی مل جائیں ؛ اور دوسری طرف سے بھی شبہ اور شہوات ہوں تو فتنہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور شارع علیہ السلام نے ہر انسان کو اس چیز کا حکم دیا ہے جس میں اس کی اور مسلمانوں کی مصلحت ہو ۔پس حکمرانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ عدل و انصاف اور ان کی خیرخواہی کریں ۔ آپ نے فرمایا :

’’کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی رعایا پر نگہبان بناتے ہیں ؛ اور پھر جب وہ مرے تو اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا سے دھوکہ کرنے والا ہو ؛ تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کردیں گے ۔‘‘[البخاری ۹؍۶۴ ؛ کتاب الأحکام ؛ باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح ۔ مسلم ۱؍۱۲ ؛ کتاب الإیمان باب استحقاق الوالي الغاش لرعیتہ ۔ سنن الدارمي ۲؍۳۲۴۔]

رعایا کو حکم دیا ہے کہ وہ حاکم کی اطاعت گزاری کریں اور خیرخواہی چاہیں ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا:

’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔‘‘صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کے لیے ؟

تو آپ نے فرمایا: ’’ اللہ کے لیے ؛ اس کی کتاب کے لیے ؛ اس کے رسول کے لیے ؛ مسلمان حکمران کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔ ‘‘[مسلم ۱؍۷۴ ؛ کتاب الایمان باب بیان أن الدین النصیحۃ ؛ و سنن الترمذي ۳؍ ۲۱۷ ؛ کتاب البر و الصلۃ ؛ باب في النصیحۃ ؛ وقال الترمذي : ہذا حدیث حسن۔]

صفحہ 11 از 13