فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 13

ان کے اپنے خواص کو ترجیح دینے کے وقت صبر کرنے کا حکم دیا؛ اور ان سے اختلاف اور جھگڑا کرنے سے منع کیا؛ حالانکہ وہ ظلم کررہے ہوں گے۔ اس لیے کہ اس جھگڑا اور لڑائی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی خرابی بہت بڑے فتنہ کی شکل اختیار کر لے گی جو حکمرانوں کے ظلم سے بہت بڑھ کر ہوگی۔ پس دو بڑی خرابیوں میں ایک ہلکی خرابی ہمیشہ سے بہتر سمجھی جاتی رہی ہے۔

جو کوئی کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سنتوں پر غور کرے گا؛ اوراپنے نفس میں اورگردو نواح میں غوروفکر کرکے درس عبرت حاصل کرے گاتو اس پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی صداقت کی حقیقت عیاں ہو گی:

﴿سَنُرِیہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہٗ الْحَقُّ ﴾ (فصلت ۵۳)

’’ عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یقیناً یہی حق ہے۔‘‘

بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کو کائنات میں پھیلی ہوئی اور خود ان کی ذات میں موجود اپنی نشانیاں دیکھاتے ہیں ؛ حتی کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ قرآن حق ہے؛ اور اس کی خبریں سچی ہیں ؛ اور اس کا احکام عادلانہ ہیں ۔ فرمایا:

﴿وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾ (الانعام ۱۱۵]

’’ اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہوگئی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

اس باب سے متعلق یہ علم میں سے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کوئی بہت بڑا اہل علم اور دین دار انسان ؛ خواہ وہ صحابہ و تابعین میں سے ہو ؛ یا ا ن کے بعد قیامت تک آنے والوں میں سے ہو؛ یااہل بیت میں سے؛یا کوئی دیگر؛ کبھی اس سے اس کے گمان کی بنا پر کوئی اجتہاد ہو سکتا ہے؛ جس میں کوئی ہلکی پھلکی اپنی خواہش نفس بھی شامل ہو؛ تو اس کا نتیجہ ایسا ہوتا ہے جس میں اس کی اتباع نہیں کی جاسکتی ؛ بھلے وہ اللہ تعالیٰ کا بڑا متقی ولی ہو۔

ایسا واقع جب پیش آجائے تو دو گروہوں کے مابین فتنہ پیدا ہو جاتا ہے؛ایک گروہ اس کی تعظیم و عظمت کا قائل ہوتا ہے؛ وہ اسکے اس فعل کو درست سمجھتے اور اس کی اتباع چاہتے ہیں ۔ جب کہ دوسرا گروہ اس پر تنقید اور اس کی ولایت اور تقوی پر قدح کررہا ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اس کے نیک و کار اور جنتی ہونے پر بھی قدح کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کے ایمان پر بھی کلام کرتے ہیں ؛ اور اسے ایمان سے خارج قرار دیتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک گروہ کی رائے فاسد ہے۔

خوارج اور روافض اور اہل أھواء فرقوں پر اسی عنصر کا دخل ہے۔ جو کوئی اعتدال کی راہ پر چلتاہے وہ صرف ان کی تعظیم کرتا ہے جو اس کے لائق ہو؛ پھر ان سے محبت اور دوستی کرتا ہے۔اہل حق کو ان کا حق دیتا ہے۔ وہ حق کی بنا پر تعظیم کرتا ہے؛ اور حق کی بنا پر رحم کرتا ہے۔اور وہ جانتا ہے کسی ایک انسان کی نیکیاں بھی ہوتی ہیں اور بدیاں بھی۔ پس وہ لائق ستائش بھی ہے اور لائق مذمت بھی؛اسے ثواب بھی مل سکتا ہے اور سزا بھی۔ اورایک بنا پر اس سے محبت کی جاسکتی ہے؛ اور دوسری کی بنا پر بغض۔یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے؛ جو کہ خوارج معتزلہ اور ان کے ہمنواؤں کے برعکس ہے؛ اور اپنی جگہ پر اس کی تفصیل بیان ہو چکی ہے۔

[اطاعت اور ولاء و براء کا معیار]

جب یہ بات واضح ہوگئی ؛ تو سمجھ لینا چاہیے کہ یزید کے متعلق وہی قول ہونا چاہیے جو اس کے مشابہ دیگر خلفاء اور ملوک سے متعلق ہے۔جو کوئی اطاعت الٰہی کے کاموں میں موافقت رکھتا ہو؛ جیسے نماز؛ حج؛ اور جہاد؛ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اقامت حدود ؛ وغیرہ ؛ تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کاموں پر ماجور ہوگا۔نیکوکار اہل ایمان ایسے ہی کرتے رہے ہیں ؛ جیسے حضرت عبداللہ بن عمر ؛ اور ان کے امثال۔ اور جو کوئی ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے ؛ اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے؛ تووہ گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ان کا مدد گار ہو گا۔ اور عذاب اورمذمت کا مستحق ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یزید کے اور اس جیسے دیگر کے ساتھ جہاد کرتے رہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یزید نے اپنے والد محترم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں غزوہ لڑا تھا۔ اس کے ساتھ اس لشکر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔یہ پہلا لشکر تھا جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جو پہلا لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا؛ وہ بخشا ہوا ہے ۔‘‘[تخریج آگے آئے گی]

عمومی طور پر خلفاء اور ملوک کے دور میں فتنے واقع ہوئے ہیں ۔جیسا کہ یزید بن معاویہ کے دور میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ قتل ہوئے۔ حرہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا گیا۔ اور مروان بن حکم کے زمانہ میں مرج راھط کا فتنہ اس کے اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے مابین پیش آیا۔ اور عبدالملک کے زمانہ میں حضرت مصعب بن زبیر اور ان کے بھائی عبداللہ بن زبیر کے واقعات پیش آئے۔ انہیں مکہ میں محصور کیا گیا تھا۔اورہشام کے زمانہ میں حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا۔ اور مروان بھی محمد کے زمانہ میں ابو مسلم کے قتل کا فتنہ پیش آیا ۔ حتی کہ ان کے ہاتھوں سے زمام حکومت نکل کر بنو عباس کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ پھر منصور کے زمانہ میں محمد بن عبد اللہ بن حسن بن الحسین کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا۔ اور بصرہ میں ان کے بھائی ابراہیم کا واقعہ ۔ یہ اتنے زیادہ فتنے ہیں جن کی تفصیل طوالت اختیار کر جائے گی۔

فتنے ہر زمانہ میں اس عہد کے لوگوں کے حساب سے پیش آتے رہے ہیں ۔ پہلا فتنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا فتنہ تھا؛ جو کہ بہت ہی بڑا فتنہ تھا۔ یہی وجہ ہے امام احمد رحمہ اللہ نے مسند میں ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے؛ فرمایا: ’’ تین فتنے ایسے ہوں گے جو ان سے بچ گیا؛ تو وہ نجات پا گیا۔ میری موت؛ مظلوم خلیفہ کا قتل ناحق ؛ اور دجال کا فتنہ ۔‘‘[مسند أحمد: ۳؍۱۰۵]

صفحہ 12 از 13