فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 13

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے فتنہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: ’’بیشک اس کے اور آپ کے مابین ایک بند دروازہ ہے ۔تو آپ نے پھر پوچھا: کیا اس دروازہ کو کھولا جائے گایا توڑا جائے گا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ؛ توڑا جائے گا۔‘‘

تو آپ نے فرمایا: ’’ اگر اسے کھولا جاتا تو دوبارہ بند کیا جاسکتا تھا۔‘‘ یہ دروازہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ قتل ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ تو آپ کی خلافت کے آخری عہد میں فتنوں کے اسباب پیدا ہوئے۔ حتی کہ آپ کو قتل کردیا گاے؛ اور قیامت تک کے لیے فتنہ کا یہ دروازہ کھل گیا۔ اسی سبب کی بنا پر جنگ جمل اور جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا۔ان کے رجال کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ بیشک یہ لوگ اپنے بعد آنے والے تمام لوگوں سے افضل تھے۔

ایسے ہی حرہ کا فتنہ اور ابن اشعث کا فتنہ بھی ہے۔اس میں بہت بڑے ایسے تابعین بھی شامل تھے؛ جن پر بعد میں آنے والوں کو قیاس کو نہیں کیا جاسکتا ۔ان ادوار میں ان فتنوں کے پیش آنے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس عہد کے لوگوں کودوسروں سے زیادہ برا ہونے کو واجب کرتی ہو۔ بلکہ ہر دور کا فتنہ اس عہد کے لوگوں کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :

’’ بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیاہے ؛ پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آئیں گے ؛ پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آئیں گے ۔‘‘[البخاری ؍ سبق تخریجہ]

اس زمانہ کے بعد کے فتنے بھی اس عہد کے لوگوں کے اعتبار سے ہوں گے۔جیسا کہ روایت میں ہے:

’’جیسے تم ہوگے تم پر ایسے ہی حکمران مسلط کئے جائیں گے ۔‘‘[رواہ السیوطي ؛ ضعیف الجامع الصغیر ۴؍ ۱۶۰ ۔شعب الإیمان للبیہقي ؛ وسلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ ۱؍۴۲۸ ۔ الدرر المنتثرۃ في الأحادیث المشتہرۃ ص ۱۶۲۔]

ایک دوسری روایت میں ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ میں اللہ عزوجل ہوں ؛ بادشاہوں کا بادشاہ؛ اور بادشاہوں کے دل اور پیشانیاں میرے ہاتھ میں ہیں ؛ جس نے میری اطاعت کی ؛ میں اس پر رحمت کرتا ہوں ؛ اور جس نے میری نافرمانی کی ؛ میں اس پر اپنی ناراضگی مسلط کرتا ہوں ۔ پس بادشاہوں کے سبب سے مشغول نہ ہو جاؤ ؛ میری اطاعت کرو؛ میں ان کے دلوں کو تمہارے لیے نرم کردوں گا ۔‘‘[سبق تخریجہ]

جب احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں شکست ہوئی ؛ تو اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا :

﴿اَوَ لَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ﴾ (آل عمران ۱۶۵)

’’اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقیناً اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے۔‘‘

گناہوں کی سزا ختم ہوسکتی ہے؛ توبہ اور استغفار کی وجہ سے ؛ اور گناہ مٹانے والی نیکیوں اور کفارہ بننے والی مصیبتوں کی وجہ سے۔ اور جو جنگ و قتل امت میں پیش آیا؛ اللہ تعالیٰ نے اس کی وجہ سے ان کے گناہ معاف کر دیے ہیں ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں بھی آتاہے۔ اور فتنہ جاہلیت کی جنس سے ہوتاہے؛ جیسا کہ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ: ’’جب یہ فتنہ پیش آیا تو اس وقت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثیر تعداد میں موجود تھے؛ان کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ : ’’ ہر وہ خون؛ اور مال اور شر مگاہ جو تأویل قرآن کی بنیاد پر حلال سمجھے گئے ہوں ؛ وہ ہدر ہیں ۔ اور ان کے ساتھ جاہلیت والا معاملہ کیا جائے ۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا۔ پس ہدایت کی بناپر حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور دین حق سے خیر کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے ۔ پس حق کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔پھر اس کا ارادہ بھی ہو اور اس پر عمل کرنے کی طاقت بھی۔ جب کہ فتنہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ فتنہ معرفت حق ؛ اس کے قصد و ارادہ اور اس پر قدرت میں مانع ہوتا ہے۔اس میں ایسے شبہات ہوتے ہیں جو حق کو باطل کے ساتھ ملا دیتے ہیں ۔ حتی کہ بہت سارے یا اکثر لوگ اس میں فرق ہی نہیں کرسکتے۔اس میں اتنی خواہشات؛ اور شہوات ہوتی ہیں جوحق کے قصد و ارادہ سے باز رکھتے ہیں ۔اس میں شر میں قوت ظہور اتنی زیادہ ہوتی ہے جو کہ خیر پر قدرت کو کمزور کردیتی ہے۔

اس لیے انسان فتنہ میں اپنے دل میں نکارت پاتا ہے۔ اور دل پر ایسے خیالات اور وساوس آتے ہیں جو حق کی معرفت اور اس کے ارادہ سے باز رکھتے ہیں ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ: فتنہ اندھا اور بہرا ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے: ’’فتنے اندھیری رات کے ٹکڑے کی طرح ہوتے ہیں ۔ اور اس طرح کے دیگر الفاظ میں بھی فتنہ کو بیان کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ فتنہ میں جہالت غالب ہوتی ہے اور علم مخفی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل فتنہ کو اہل جاہلیت کی منزلت پر سمجھا جاتا ہے۔اسی لیے نہ ہی جانوں کی ضمانت دی جاتی ہے اور نہ ہی اموال کی۔ اس لیے کہ ضمانت[؍یا معاوضہ ] تو اس چیز کی ہوتی ہے جس میں یہ پتہ چلے کہ فلاں انسان نے کسی دوسرے کی جان یا مال کا نقصان کیا ہے؛ یا حق مارا ہے۔ جس کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہ ہو؛ تووہ کفار مرتدین اور متأول باغیوں میں سے اہل جاہلیت کی طرح ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا ۔ اور نہ ہی کوئی ضمانت؍ یا معاوضہ ہوتا ہے۔ جیساکہ اس انسان پر کوئی تاوان نہیں ہوتا جو یہ سمجھتا ہو کہ اس نے برحق نقصان کیا ہے۔ اگرچہ یہ حق پر ہو۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل جاہلیت یا تو اس جہالت سے توبہ کرلیں ۔ پس ان کی توبہ سے ان کے عہد جاہلیت کے اعمال معاف ہوسکتے ہیں ۔ یا پھر وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جو اپنی اس جاہلیت کی بنا پر عذاب کے مستحق ہیں ؛ جیسے کفار۔ان لوگوں کے لیے آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کافی ہوگا۔ یا پھر یہ لوگ مجتہد متأول اور خطا کار ہوں ہوں گے۔ تو اس صورت میں جب ان کی خطائیں معاف ہوں گی تو ان کے خطاؤں کے موجبات بھی معاف کردیے جائیں گے۔


صفحہ 13 از 13