فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 13

جیسے ان کا مہدی اور اس کی اولاد ؛ مثلاً : معز ‘ حاکم اوران کے امثال۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ جو لوگ خلفاء بنو امیہ اور بنو عباس کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں [اگرچہ یہ بھی غلط ہے ؛ تاہم ] یہ لوگ شیعہ سے کئی وجوہات کی بنا پر بہتر ہیں ۔ اس لیے کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء ظاہری و باطنی طور پر مسلمان تھے۔ ان کے گناہ بھی ایسے ہی تھے جیسے دیگر کسی مسلمان کے گناہ ہوسکتے ہیں ؛ وہ کافر یا منافق نہیں تھے۔

یہ باطنیہ [ شیعہ] فرقہ کے لوگ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہیں ۔ جوان کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھے وہ ان لوگوں سے بڑھ کر جاہل اور گمراہ ہے جو خلفاء بنو امیہ اور بنو عباس کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ بلکہ اگر کوئی تمام مسلمان بادشاہوں کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھے جو ظاہری وباطنی طور پر مسلمان تھے؛ تو پھر بھی [باطنی شیعہ ان سے بڑھ کر گمراہ ہیں ؛ یہ لوگ ]ان سے بہتر ہیں جو ان ائمہ کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو جہالت اہل سنت والجماعت کے لوگوں میں پائی جاتی ہے ؛ شیعہ میں پائی جانے والی جہالت اور گمراہی اس سے کئی درجہ بڑھ کر ہے۔ خصوصاً ان [باطنیہ ‘ اسماعیلیہ وغیرہ] کی گمراہی نفاق اور زندیقیت پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ جہالت اورتأویل کی وجہ سے ۔ جب کہ ان [اہل سنت] میں اس کی وجہ جہالت ہوتی ہے؛ زندیقیت یا نفاق نہیں ہوتے۔بلکہ ان کی وجہ بدعات ؛ تاویل یا علم شریعت کی کمی ہوتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ کتاب و سنت کا صحیح پیغام جب ان لوگوں کے سامنے آتا ہے تو اپنے سابقہ عمل و عقیدہ سے رجوع کرلیتے ہیں ۔ جب کہ ملحدین اپنے باطن میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کے ساتھ تناقض رکھتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ اس مخالفت پر اس لیے کمر بستہ رہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ آپ نے اپنے عقل و فضیلت کی بنا پر ناموس [دین کوپوشیدہ اور راز میں ] رکھا تھا ۔ پس ہمارے لیے بھی ایسے ہی ناموس رکھنا جائز ہے جیسے آپ نے رکھا تھا۔[یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دین چھپانے کا الزام لگا کر خود حق بات چھپاتے ہیں ]۔اس لیے کہ ان کے ہاں نبوت ایک کسبی چیز ہے۔ ان کے ہاں نبوت ایسے ہی جیسے علماء و عباد کو حاصل ہونے والی فضیلت ۔ اور شریعت ویسے ہی ہے جیسے کسی عادل بادشاہ کی سیاست ۔ اس بنا پر وہ اس شریعت کو کسی دوسرے امام کی وضع کردہ شریعت سے منسوخ کرنا جائز سمجھتے ہیں ۔ ان کاکہنا ہے : ’’بیشک شریعت عامہ [عوام الناس؛ یا اہل سنت] کے لیے ہے ۔ جب کہ ان کے لیے وہی کچھ ہے جس پر باطن میں وہ عمل کرتے ہیں ۔ ان سے واجبات ساقط ہوچکے ہیں ‘ او رمحرمات ان کے لیے مباح کردی گئی ہیں ۔

یہ لوگ اوران جیسے دوسرے لوگ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہیں ۔بلکہ اگر مان لیا جائے کہ کچھ لوگ بنی امیہ یا بنی عباس میں سے کسی ایک عصمت کا عقیدہ رکھتے ہیں ‘ یا [ خیال کرتے ہیں کہ ] ان کا کوئی گناہ نہیں ؛ یا پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے ان کے گناہوں پر مؤاخذہ نہ کرے گا۔ جیسا کہ بنو امیہ کے بعض اتباع سے نقل کیا گیا ہے کہ خلیفہ کے نیک اعمال قبول کیے جاتے اور برے اعمال سے درگزر کی جاتی ہے۔ یہ لوگ بلاشبہ گمراہ ہیں ۔ مگر ان کی گمراہی ان لوگوں کے مقابلہ میں کم ہے جو امام منتظر کی عفت و عصمت کا عقیدہ رکھتے ہیں جوکہ اصل میں معدوم ہے۔یا ان لوگوں کی عصمت کے قائل ہیں جنہیں کوئی قوت و اختیار حاصل نہیں جس سے کوئی فائدہ حاصل ہوسکے ۔ اور نہ ہی ان کے پاس کسی عام مسلمان سے بڑھ کر کوئی علم اور دین ہے۔[جب کہ اس کے برعکس]ان [اہل سنت ]کا عقیدہ ہے کہ حاکم کی نیکیاں بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں جو اس کے گناہوں کو ڈھانک لیتی ہیں ۔ اور ایساہونا فی الجملہ ممکن ہے ۔ کسی بھی مسلمان کے لیے اس بات کا امکان ہے اس کی نیکیاں اتنی ہوں جو اس کی برائیوں پر غالب آجائیں ۔ اگرچہ یہ گواہی کسی متعین شخص کے لیے بغیر کسی شرعی دلیل کے نہیں دی جاسکتی۔ مگر یہ دعوی کرنا کہ مسلمانوں میں کوئی[ ایک صاحب شریعت سے] بڑھ کر دیندار اور عالم ہے ‘ اور خطأ سے معصوم ہے ؛ تو یہ نظریہ بالکل باطل ہے۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لیے بھی معصوم ہونے کا دعوی کرنا قطعی طور پر باطل ہے ۔ اس سے واضح ہوگیا کہ ان لوگوں میں سے جس کسی نے کسی کے معصوم ہونے کا دعوی کیا ہے وہ اپنی جہالت اور گمراہی کے باوجود حق کے زیادہ قریب اور رافضیوں سے کم درجہ کا جاہل ہے ۔جس انسان نے یزید کے صحابی یا نبی ہونے کا دعوی کیا وہ [گمراہ ہونے کے باوجود] ان رافضیوں سے جہالت و گمراہی میں کم تر ہے جو شیعہ شیوخ کے لیے نبوت و الوہیت کا دعوی کرتے ہیں ۔ خصوصی طور پر اسماعیلیہ اورنصیریہ کے شیوخ؛ جو کہ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہیں ‘ اور ان کے ماننے والے ان کے متعلق الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔

جب کہ علماء اہل سنت والجماعت کے مقبول ومروی قول کے مطابق ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو یزید اور اس جیسے دوسرے خلفاء کو جناب حضرت ابو بکر و عمر و عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم خلفاء راشدین مہدیین کے برابر سمجھتے ہوں ۔بلکہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ و ایمان اصحاب سنن کی روایت کردہ اس حدیث کے مطابق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ خلافت نبوت تیس سال تک ہوگی پھر ملوکیت کا آغاز ہوگا۔‘‘[یہ حدیث پہلے گزرچکی ہے]۔

صفحہ 2 از 13