فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 13

خلاصہ کلام ! جہاں تک ممکن ہوسکے اہل سنت و الجماعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی یہی ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ [تغابن ۱۶]

’’تم سے جتنا ہوسکے اللہ سے ڈرو۔‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

’’جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دو ں تو جتنا ہوسکے اسے پورا کرو۔‘‘[سبق تخریجہ ]

وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بندوں کی معاش اور معاد کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ اور بیشک آپ نے اصلاح کا حکم دیا ہے ؛ اورفساد سے منع کیا ہے۔پس جس کسی فعل میں صلاح اور فساد دونوں پہلو موجود ہوں تو وہ اس میں سے راجح کو ترجیح دیتے ہیں ۔ پس جب اس میں صلاح کا پہلو فساد پر غالب ہو تو وہ اس کے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اور اگر فساد کا پہلو صلاح پر غالب ہو تو اس کے ترک کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلحتوں کی تکمیل ان کے حصول اورمفاسد کے خاتمہ اور ان کے انسداد کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔پس جب کوئی خلیفہ خلافت پر فائز ہوتا ہے ؛ جیسے یزید اور عبدالملک اور منصور ؛ اور ان کے علاوہ دیگر؛ توپھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ: یاو اسے ولایت پر فائز ہونے سے روکا جائے اور اس سے جنگ کی جائے حتی کہ کوئی دوسرا مسند خلیفہ پر فائز ہو جائے؛ جیسا کہ ان لوگوں کا خیال ہے جو حکمرانوں کے خلاف تلوار چلانا جائز سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک فاسد رائے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس رائے کی خرابیاں اس کی مصلحتوں سے بڑھ کر ہیں ۔ اور بہت ہی کم ایسے ہوتا ہے کہ کسی نے کسی شان و شوکت والے حکمران کے خلاف خروج کیا ہو؛ مگر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا شر اورفساد خیروبھلائی سے بہت زیادہ اور بڑا تھا۔ جیسے ان لوگوں کے ساتھ ہوا جنہوں نے مدینہ میں یزید کے خلاف خروج کیا تھا۔ اور جیسا کہ ابن اشعث جس نے عراق میں عبدالملک کے خلاف بغاوت کی تھی۔اور ابن مہلب ؛ جس نے خراسان میں اپنے بیٹے کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اور داعی ابو مسلم ؛ جس نے خراسان میں خروج کیا تھا۔ اوروہ لوگ جنہوں نے مدینہ اور بصرہ میں منصور کے خلاف خروج کیاتھا۔ اور ان کے امثال و ہمنوا دیگر لوگ ۔

ان کا انتہائی انجام یہ ہوسکتا ہے کہ یا تو مغلوب ہو جائیں یا پھر غالب آجائیں ؛ لیکن پھر بھی ان کا ملک ختم ہی ہو جاتا ہے؛ اورانجام کار ان کے حق میں نہیں رہتا۔ عبداللہ بن علی اور ابو مسلم وہ دو اشخاص تھے جنہوں نے ایک بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا۔ مگر آخر کار منصور نے ان دونوں کو قتل کردیا۔ اور اہل حرہ اور ابن اشعث اور ابن مہلب وغیرہ اوران کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ گئے۔ نہ ہی وہ دین قائم کر سکے؛ اور نہ ہی دنیا کو باقی رکھ سکے۔ اگرچہ ایسا کرنے والے بہت بڑے متقی اولیاء اللہ اور اہل جنت میں سے ہو۔ وہ ہرگزحضرت علی اور حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم سے افضل نہیں ہوسکتا۔ مگر اس کے باوجود ان کے مابین جو جنگ ہوئی اس میں ان کا کوئی قابل تعریف کام نہیں تھا۔ حالانکہ ان کا مقام اللہ کے ہاں بہت بلند ہے؛ اور ان کی نیت بھی دوسرے لوگوں سے بڑھ صالح اور اچھی تھی۔

ایسے ہی اہل حرہ میں بہت سارے اہل علم اور دیندار لوگ موجود تھے۔ایسے ہی اشعث کے ساتھیوں میں بھی ایک بڑی تعداد اہل علم و دین لوگوں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائے ؛ [آمین]۔

حضرت اما م شعبی رحمہ اللہ سے ابن اشعث کے فتنہ کی بابت پوچھا گیا: اس وقت آپ کہا ں تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ نہ ہی نیک اور متقی تھے؛ اور بدکردار اور طاقتور۔‘‘

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ’’ حجاج اللہ تعالیٰ کا ایک عذاب ہے؛ اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اپنے ہاتھوں سے ختم نہ کرو ؛ لیکن اس حالات میں تم پر گریہ و زاری اور انکساری واجب ہوتی ہے؛ بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿وَلَقَدْ اَخَذْنَاہُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ﴾ (المؤمنون ۷۶]

’’اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔‘‘

حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ’’ تقوی اختیار کرکے فتنہ سے بچو۔‘‘تو آپ سے پوچھا گیا : کہ تقوی کی اجمالی تعریف بیان کریں ؛ تو آپ نے فرمایا:’’ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کے کام اس کے عطا کردہ نور کی روشنی میں کرو؛ اور اس کی رحمت کی امید رکھو؛ اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اس کے نور کی روشنی میں ترک کردو؛ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہو۔‘‘[رواہ احمد و ابن ابی الدنیا]

افاضل مسلمین فتنہ کے دور میں خروج اور قتال سے منع کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر؛ اور سعید بن مسیب اور حضرت علی بن حسین رحمہم اللہ ؛ اور ان کے علاوہ دیگر حضرات حرہ والے سال یزید کے خلاف خروج سے منع کرتے رہے۔ اور جیسا کہ حضرت حسن بصری اور مجاہد اور دیگر حضرات ابن اشعث کے فتنہ کے دور میں خروج سے منع کرتے تھے۔ اسی لیے اہل سنت کے معاملہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت صحیح احادیث کی روشنی میں فتنہ کے دور میں قتال ترک کرنے پر استقرار حاصل رہا۔ اوروہ اس مسئلہ کو اپنے ہاں عقائد میں ذکر کرتے رہے۔ اورحکمرانوں اس ظلم پر لوگوں کو صبر کرنے اور قتال ترک کرنے کی تلقین کرتے رہے۔اگرچہ فتنہ کی لڑائیوں میں بہت سارے اہل علم اور اہل دین حضرات شامل بھی ہوگئے تھے۔

صفحہ 7 از 13