فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 13

اہل بغاوت سے قتال اور اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے قتال کا باب فتنہ کے بارے میں کفار سے قتال کے باب سے مشابہت رکھتا ہے۔اس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔ اور جو کوئی اس باب میں وارد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت صحیح احادیث میں غور و فکر کرتا ہے؛ تو یقیناً وہ اہل بصیرت لوگوں کی سی عبرت حاصل کرتا ہے۔ اور وہ جان لیتا ہے کہ جو کچھ احادیث نبویہ میں وارد ہوا ہے ؛ وہ بہترین امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا؛ کیونکہ اہل عراق نے آپ کو بہت زیادہ خطوط لکھ کر بلایا تھا؛ تواہل علم اور اعلی فاضل دین دار لوگوں نے آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا؛ جیسے عبداللہ بن عمر؛ ابن عباس؛ اور ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث۔ ان کا غالب گمان یہی تھا کہ آپ کو قتل کردیا جائے گا۔ حتی کہ بعض نے تو الوداع کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا: ’’ اے قتل ہونے والے ! ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔‘‘

بعض نے کہا تھا: ’’اگر شفاعت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں آپ کو پکڑ لیتا ؛ اور اس خروج سے منع کرتا۔‘‘

ان لوگوں کا مقصد آپ کی نصیحت اور خیرخواہی تھا؛ اوروہ آپ کی اور مسلمانوں کی مصلحت چاہتے تھے۔ اللہ اور اس کا رسول اصلاح کرنے کا حکم دیتے ہیں ؛ فساد کا نہیں ۔ لیکن رائے کبھی درست ہوتی ہے اور کبھی غلط۔

پس بعد میں واضح ہوگیا کہ معاملہ ویسے ہی ہوا جیسے یہ حضرات فرما رہے تھے؛ اس خروج میں نہ ہی کوئی دین کی مصلحت تھی اور نہ ہی دنیا کی مصلحت ۔ بلکہ ان ظالم اور سر کش لوگوں کو نواسہء رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و ستم ڈھانے کا موقع مل گیا۔ حتی کہ آپ کو انتہائی مظلومیت کی حالت میں شہید کردیا گیا۔ اوریہی فساد آپ کے خروج اور قتل میں تھا جو کہ اگر آپ اپنے علاقہ میں بیٹھے رہتے ؛ تو کبھی بھی پیدا نہ ہوتا۔ اس لیے کہ آپ نے جس خیر و بھلائی کے حصول اور شر اوربرائی کے خاتمہ کاارادہ کیا تھا؛ وہ تو نہ ہوسکا۔ بلکہ آپ کے خروج اور قتل سے شر مزید بڑھ گیا۔اس کی وجہ سے خیر کم ہوگئی۔ اور بہت بڑا شر پیدا ہوگیا۔ بلا شک و شبہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی وجہ سے بڑے فتنے پیدا ہوئے۔ جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی وجہ سے فتنے پیدا ہوئے تھے۔ ان تمام امور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے ظلم پر صبر کرنے ؛ اور ان سے جنگ ترک کرنے کا جو حکم دیا ہے؛ وہ بندوں کے لیے معاش اور معاد ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ اور جس نے بھی اس کی مخالفت کی ؛ خواہ جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے ؛ تو اسے کوئی بھلائی نہیں ملی؛ بلکہ خرابی اور فساد ہی پیدا ہوا۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا:

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘

اس حدیث میں آپ نے صلح کرانے کی بنا پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش فرمائی۔

آپ نے کسی ایک کی بھی تعریف لڑائی ؛ فتنہ؛ حکمرانوں کے خلاف خروج اور ان کی اطاعت سے روگردانی اور جماعت سے مفارقت کی بنا پر نہیں کی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تمام صحیح أحادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے؛ فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا؛ وہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؛ آپ منبر پر تھے؛ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے؛ آپ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرما رہے تھے:

’’بیشک میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘

اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سردار ہونے کی خبردی ہے؛ اور یہ خبر بھی دی ہے کہ اللہ آپ کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔

اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ دونوں گروہوں کے مابین صلح کرانا محبوب اور ممدوح امر تھا؛ایسا کام جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے تھے۔ اور جو کچھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا ؛ وہ آپ کے بڑے فضائل اور ان مناقب میں سے تھا جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی تعریف کی ہے۔ اگر قتال واجب یا مستحب ہوتا؛ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ترک کرنے پر کسی کی تعریف نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کچھ جمل اور صفین میں پیش آیا؛ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی کوئی تعریف نہیں کی؛ کجا کہ واقعہ حرہ کا کوئی ذکر ہو؛ یا جو کچھ مکہ مکرمہ میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے وقت پیش آیا؛ یا پھر جو کچھ ابن اشہب اور ابن مہلب وغیرہ کے فتنوں میں پیش آیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ خوارج سے قتال کا حکم منقول ہے؛ جن سے پھر امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کے مقام پر قتال کیا تھا؛ اس سے پہلے وہ حروراء میں بھی بغاوت کرچکے تھے۔اس بارے میں سنت مشہور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ لڑنے کا حکم دیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ لڑی تو آپ اس جنگ پر بہت خوش تھے۔ اور ان کے بارے میں احادیث روایت کی گئی ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ان سے جنگ کے مسئلہ پر اتفاق و اجماع تھا۔ ایسے ہی ان کے بعد ائمہ اہل علم کے نزدیک یہ قتال جنگ جمل اور صفین کی طرح نہیں تھا جس کے بارے میں کوئی نص اور اجماع منقول نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس میں شریک افاضل حضرات نے اس کی کوئی تعریف کی ہے؛ بلکہ انہوں نے ندامت کے ساتھ اس سے رجوع کر لیا تھا۔

صفحہ 8 از 13