فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 13

یہ حدیث ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات نبوت میں سے ایک ہے۔اس لیے کہ اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے اس کردار کا ذکر کیا گیا؛ اور اس پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔پس جو کچھ آپ نے بیان فرمایا؛ اور جس پر تعریف کی ؛ وہ تیس سال بعد ویسے ہی حق اور سچ ثابت ہوا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صلح کراناسن ۳۱ھ میں پیش آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت رمضان ۳۰ ھ میں ہوئی۔ اور جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً سات سال تھی۔ آپ کی پیدائش سن ۳ہجری کو ہوئی تھی اورحضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فتح طائف والے سال مسلمان ہوئے۔ غزوہ طائف فتح مکہ کے بعد پیش آیا تھا۔ یہ حدیث جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کچھ فرمایا ہے؛ یہ سن آٹھ ہجری کے بعد کا واقعہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیس سال بعد تک خلافت نبوت تھی۔ تو اس فرمان کو تیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لیے کہ آپ نے موت سے قبل یہ جملے ارشاد فرمائے تھے۔ اسی مناسبت سے ایک وہ صحیح روایت بھی ہے جو سلیمان تیمی نے ابو عثمان نہدی سے روایت کی ہے؛ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ؛ فرمایا: ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا لیتے اور فرمایا کرتے : ’’ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ؛ تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘ [سبق تخریجہ ]

اس حدیث میں حضرت حسن اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما کے مابین جمع ہے۔اوریہ خبر دی گئی ہے کہ آپ ان دونوں سے محبت کرتے ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ بھی ان دونوں سے محبت کرے۔ ان دونوں حضرات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صحیح احادیث کی روشنی میں مشہور و معروف ہے۔جیسا کہ صحیحین میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے؛فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بابت فرمایا:

’’ اے اللہ میں اس سے محبت رکھتا ہوں ‘پس تو بھی اس سے محبت کر ۔‘‘[البخاری ۵؍۲۶؛ کتاب فضائل أصحاب النبي ؛ باب مناقب الحسن و الحسین ؛ مسلم ۴؍ ۱۸۸۴ ؛ کتاب فضائل الصحابۃ ؛ باب فضائل الحسن و الحسین ۔ سنن الترمذي ۵؍۳۲۷ ۔ ]

صحیحین میں زہری سے روایت ہے؛ وہ حضرت عروہ سے وہ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں ؛ فرمایا:

’’ مخزومیہ خاتون[فاطمہ بنت اسود] جس نے[غزوہ فتح کے موقع پر]چوری کر لی تھی ، اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا ۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کون کرے ؟آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز ہیں ۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا ....‘‘ [صحیح البخاری ۵؍۲۳ ؛ کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب ذکر اسامۃ بن زید رضی اللہ عنہما ؛ مسلم ۳؍۱۳۱۵ ؛ کتاب الحدود باب قطع السارق الشریف ؛ وغیرہ۔ سنن أبي داؤد ۴؍ ۱۸۸؛ کتاب الحدود ؛ باب في الحد یشفع فیہ۔والحدیث یوجد في سنن الترمذي و ابن ماجۃ و النسائی۔] 

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے؛ فرمایا :

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں ؟ کاش ! یہ میرے قریب ہوتے ۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمن !کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے ؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے:’’ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے ۔‘‘[البخاری ۵؍۲۴؛ کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب ذکر أسامۃ بن زید رضی اللّٰہ عنہما ۔]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی محبت میں جمع کیاہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ ان دونوں حضرات سے محبت کرے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں سے انفرادی محبت بھی بڑی معروف تھی۔ یہ دونوں حضرات ان جنگوں میں قتال کی رائے نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ صفین کے موقع پر قتال سے الگ تھلگ رہے۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی مل کر جنگ میں حصہ نہیں لیا۔

[شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور اہل سنت کا مؤقف ]

حضرت حسن رضی اللہ عنہ اپنے والد اور بھائی کو ہمیشہ جنگ ترک کرنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔پس جب معاملہ آپ کے ہاتھ میں آیا تو آپ نے قتال ترک کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے دو بڑے لڑنے والے گروہوں کے مابین آپ کے ذریعہ سے صلح کرادی۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی آخر میں یہ واضح ہوا کہ جنگ ترک کرنے میں جو مصلحت تھی؛ وہ جنگ کرنے سے زیادہ بڑی اوراہم تھی۔

ایسے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی صرف اورصرف مظلومیت کی حالت میں شہید کیا گیا۔آپ نے امارت کا مطالبہ ترک کردیا تھا؛ اور آپ واپس جانا چاہتے تھے؛ یا تو اپنے شہر کی طرف چلے جائیں ؛ یا محاذ جہاد کی طرف ؛ یا پھر لوگوں پر والی یعنی یزید کی طرف۔

جب کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ : بیشک حضرت علی اورحضرت حسین رضی اللہ عنہما نے آخری مرحلہ میں عاجز آجانے کی وجہ سے قتال ترک کردیا تھا؛ اس لیے کہ آپ کے اعوان و انصار باقی نہیں رہے تھے۔تو اب جنگ لڑنے میں بلاوجہ اور بغیر کسی مصلحت کے حصول کے نفوس کو قتل کروانا تھا۔

صفحہ 9 از 13