مدینہ میں جنگی غلاموں کی رہائش پر فاروقی پابندی
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مفتوحہ علاقوں کے جنگی غلاموں کو دارالخلافہ مدینہ منورہ میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ عراق اور فارس کے مجوسیوں اور شام و مصر کے نصاریٰ کو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مدینہ میں رہائش اختیار کرنے کی اس وقت تک اجازت نہ دیتے جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں۔ دراصل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ موقف آپ کی بالغ نظری اور حکمت و دور اندیشی کی بہت بڑی دلیل ہے، بلاشبہ اس مغلوب و شکست خوردہ قوم کے دل میں اسلام کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، وہ اسلام کے خلاف بغض و عداوت کو دل میں زندہ رکھتے اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف مکرو فریب اور سازشیں کرتے۔ اس لیے سیدنا عمرؓ نے مدینہ منورہ میں ان کی رہائش قطعاً ممنوع قرار دی تھی تاکہ مسلمان ان کے شر و فساد سے محفوظ رہیں۔ لیکن چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس انہی نصاریٰ اور مجوسیوں میں سے کچھ جنگی غلام تھے، انہوں نے سیدنا عمرؓ سے اصرار کیا کہ ہمارے ماتحت ان غلاموں کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دیجیے تاکہ ہم اپنے کاروبار اور ضروریات میں ان سے خدمت لے سکیں، چنانچہ سیدنا عمرؓ نے بادل ناخواستہ انہیں مدینہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی اور اس کا انجام وہی ہوا جس کی سیدنا عمر فاروقؓ کو توقع تھی اور جس سے آپ خطرہ محسوس کر رہے تھے۔
(الخلفاء الراشدون: خالدی: صفحہ 83)