ماہ رجب اور رسم کونڈا از: مولوی رئیس احمد عرشی کلیری - ردِ…

ماہ رجب اور رسم کونڈا از: مولوی رئیس احمد عرشی کلیری

  مولوی رئیس احمد عرشی کلیری

صفحہ 2 از 2

سیدنا امیرِ معاویہؓ انتہائی دانشمند مدبر معاملہ فہم منتظم رعیت شناس انسان تھے اور زمانہ نبوی سے ہی اپنی انتظامی صلاحیت مدبرانہ لیاقت اور سیاسی بصیرت میں ممتاز تھے ان کی قائدانہ صلاحیت کو دیکھ کر سیدنا عمرؓ نے انھیں کسرائے عرب کا لقب دیا تھا اور زمانہ فاروقی سے ہی شام کے عہدہ گورنری پر فائز تھے اور بیس سال سے وہاں کی کامیاب قیادت کرتے چلے آرہے تھے۔ 

سیدنا امیرِ معاویہؓ جس وقت مسند نشین ہوئے اس وقت ملک کے سیاسی حالات بےحد ناسازگار تھے طرح طرح کے فتنے جنم لے رہے تھے بفتنہ شیعیت کی جڑیں کافی مضبوط ہوگئی تھیں اور وہ طریقے بدل بدل کر اسلام میں رخنہ اندازیاں کر رہے تھے اگرچہ وہ خود داخلی انتشار کا شکار ہو کر کئی حصوں میں تقسیم ہو چکے تھے مگر سب کا مطمح نظر اور نصب العین ایک تھا اور سب کے سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اسلام دشمنی میں سرگرم تھے ایسے حالات میں نئی حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ سب سے پہلے بغاوت کے خاتمہ کے لیے کوئی مثبت اور ٹھوس قدم اٹھائے اور مفسدوں کی بیخ کنی میں سخت موقف اختیار کرے۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ جیسے ہوش مند انسان سے کیسے ممکن تھا کہ وہ اس اقتضاءِ حکومت کو نظر انداز کر دیتے اور فتنہ کے استیصال میں غفلت برتتے چنانچہ برسرِ اقتدار آتے ہی انہوں نے فتنہ و بغاوت کے سدِباب کو ضروری سمجھا اور شر پسند عناصر کی سرکوبی کی ملک گیر مہم چلائی اور باغیوں (شیعوں) کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنا اور سزائیں دینا شروع کردیا جس سے بہت سے شیعہ قتل ہو کر اپنے کیفرِکردار کو پہنچے اور کچھ لوگوں نے سزا کے خوف یا موت کے ڈر سے روپوشی اختیار کی اور کتمان مذہب (تقیہ) کر کے جان بچانے میں عافیت سمجھی۔

ایک شیعہ مؤرخ اس وقت کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

”شیعانِ علی کے مال و متاع ضبط کر لیے گئے وہ قتل کیے گئے اور اس قدر ظلم ان پر کیے گئے کہ کوئی اپنے کو شیعہ نہ کہہ سکتا تھا۔“ 

(تاریخ اسلام صفحہ 33 جلد 1 از ذاکر حسین جعفری شیعہ)۔

مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ بہت سے شیعہ قتل ہوکر ٹھکانے لگ گئے اور جو کچھ باقی رہے وہ بھی اس قدر دہشت زدہ اور خائف تھے کہ خود شیعہ کہلوانا چھوڑ دیا تھا اور اپنے انجامِ بد کے ڈر سے خانہ نشین ہو گئے۔

یہ لوگ بظاہر خاموش ہوگئے مگر درحقیقت ان کے سینوں میں بغضِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی آگ بدستور بھڑک رہی تھی اور وہ ان کے خلاف سانپ کی طرح پیچ و بل کھا رہے تھے اور ان کی حکومت سے گلو خلاصی اور چھٹکارے کے شدت سے منتظر تھے۔

چنانچہ بیس سال انتہائی کامیاب حکومت کرنے کے بعد 22 رجب 60ھ کو ملتِ اسلامیہ کا یہ عظیم مدبر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حاسدینِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ ان کا جانی دشمن دنیا میں نہیں رہا اس لیے انہوں نے وفاتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خبر سن کر خوب خوشیاں منائیں اور اظہارِ مسرت کے طور پر میٹھی ٹکیاں (کونڈوں کی پوریاں) بنائیں اور ایک دوسرے کو کھلا کر اپنے جذبہ عناد کو تسکین دی اور یہ ساری کاروائی سنیوں سے چھپ کر اور پوشیدہ طریقہ سے انجام دی گئی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاروائی مخفی کیوں رکھی گئی اور انہوں نے وفاتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اپنی خوشی کا اظہار کھلم کھلا کیوں نہیں کیا؟ مولانا عبدالعلیٰ صاحب فاروقی اس کی وجہ لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:

”کیوں کہ اس وقت اہلِ سنت والجماعت کا غلبہ تھا اور وہ صحابی رسولﷺ کی توہین اور ان کی وفات پر اظہار مسرت کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اس لیے رافضیوں نے چھپ چھپا کر اپنے اپنے گھروں میں ہی ٹکیاں بنالیں اور انہیں آپس میں تقسیم کر کے خفیہ طور پر اظہار مسرت کر کے دشمنی اصحاب کا ثبوت فراہم کیا بعد میں جب اس کا چرچا شروع ہوا تو نہایت ہی شاطرانہ انداز میں سیدنا جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کر دیا۔ (تعارف مذہب شیعہ صفحہ 158)۔

یہی وجہ ہے کہ اس رسم میں آج تک اس بات کی پابندی ہے کہ کونڈوں کی ٹکیاں کسی خفیہ جگہ پر پکائی جاتی ہیں پھر بڑے اہتمام سے انھیں ڈھک کر رکھا جاتا ہے اور فاتحہ بھی کسی اندھیری جگہ پر دلائی جاتی ہے اور پھر پردے کے ساتھ ہی انھیں کھایا کھلایا جاتا ہے۔

لیکن آگے چل کر جب اس سازش کی خبر سنیوں کو ہوئی اور اس راز سربستہ سے پردہ اٹھا تو شیعوں نے اپنا جرم چھپانے کے لیے اس کا رخ سیدنا جعفر صادقؒ کی فاتحہ کی جانب موڑ دیا۔

یہ ہے اس رسم کی اصل اور حقیقت جس میں نادانستہ طور پر بعض ناخواندہ اہلِ سنت بھی شریک ہیں اور اس رسم کو امرِ دین اور کارِ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ یہ ”حبِ سیدنا علیؓ کے پردے میں بغضِ سیدنا امیرِ معاویہؓ“ کا مصداق ہے۔

ماہنامہ دارالعلوم شماره 07 جلد 93 رجب 1430 ھ مطابق جولائى 2009ء۔


صفحہ 2 از 2