Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت اور جدید قیادت کے لیے مجلس شوریٰ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت

حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جس دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے میں فجر کی نماز میں صف بندی کیے کھڑا تھا، میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ سیدنا عمرؓ جب دو صفوں کے بیچ سے گزرتے تو فرماتے: صفیں درست کر لو۔ جب صفیں درست ہو جاتیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آگے بڑھتے اور تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کرتے۔ عموماً سورہ یوسف یا سورہ نحل یا اسی طرح کی کوئی لمبی سورت پہلی رکعت میں تلاوت کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پہلی رکعت پا لیں۔ (آج آپ نے) اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع ہی کی تھی کہ میں نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: کتے نے مجھے مار ڈالا، یا کہا: کھا لیا۔ پھر یہ مجوسی مردود اپنا دو دھاری چھرا لے کر بھاگا، دائیں بائیں جو مسلمان بھی ملا اسے زخمی کرتا ہوا بھاگتا رہا، یہاں تک کہ تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا، ان میں سے سات لوگ شہید ہو گئے۔ یہ حال دیکھ کر ایک مسلمان نے اس پر اپنا جبہ پھینک کر پھنسا لیا، جب اس نے سمجھا کہ اب میں پکڑ لیا جاؤں گا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ ادھر سیدنا عمرؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو امام بنا دیا (کہ نماز پوری کریں) جو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے، انہوں نے تو یہ سب حال دیکھا اور دور والے مقتدیوں کو یہ خبر ہی نہیں ہوئی، مگر قرأت میں انہوں نے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آوازنہ سنی تو سبحان اللہ کہنے لگے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جلدی سے ہلکی پھلکی نماز پوری کی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: دیکھو تو میرا قاتل کون ہے؟ کچھ دیر تک وہ گھومے (خبر لیتے رہے) پھر آئے اور کہنے لگے: مغیرہ کا غلام۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہی کاریگر غلام؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: اللہ اسے غارت کرے، میں نے اس کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے، اس نے مجھے کسی ایسے شخص کے ہاتھ سے قتل نہیں کرایا جو خود کو مسلمان کہتا ہو۔ اے ابن عباس! تم اور تمہارے والد یہ چاہتے تھے کہ یہ مجوسی غلمٹے مدینہ میں خوب آباد ہوں۔ عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بہت زیادہ غلام تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر آپؓ کہیں تو ان سب غلمٹوں کو قتل کرا دوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ کیا غلطی کر رہے ہو، جب وہ تمہاری عربی زبان بولنے لگے، تمہارے قبلے کی طرف نماز پڑھنے لگے اور تمہاری طرح حج کرنے لگے تو پھر کیوں کر قتل کر سکتے ہو؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر اٹھا کر لائے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مسلمانوں پر اس سے پہلے کوئی مصیبت ہی نہیں گزری۔ کوئی کہتا تھا: گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کوئی کہتا تھا: مجھ کو تو ڈر ہے (وہ جان بر نہ ہوں گے)۔ پھر آپ کو کھجور کا شربت پلایا گیا۔ آپ نے اسے پیا تو پیٹ سے باہر نکل گیا، پھر دودھ لایا گیا، سیدنا عمرؓ نے اسے بھی نوش کیا، لیکن وہ بھی زخم سے باہر نکل پڑا۔ اب سب نے جان لیا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بچنے والے نہیں، عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس گئے، اور لوگ بھی آئے، سب ان کی تعریف کر رہے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور کہا: عبداللہ! دیکھو کہ میرے اوپر قرض کتنا ہے؟ لوگوں نے حساب کیا تو چھیاسی ہزار درہم یا کم و بیش کچھ ایسا ہی قرض نکلا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میری اولاد کا مال اس قرض کو کافی ہے تو ان کے مال میں سے یہ قرض ادا کر دینا، ورنہ (میری قوم) بنی عدی بن کعب سے سوال کرنا، اگر ان سے بھی یہ قرض ادا نہ ہو سکے تو قریش کے لوگوں سے مانگنا، بس قریش کے سوا اوروں سے نہ مانگنا۔ اس طرح میرا قرضہ ادا کر دینا۔ اور (اے عبداللہ) تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتا ہے، یہ نہ کہنا کہ امیرالمؤمنین سلام کہتے ہیں۔ آج میں مسلمانوں کا امیر نہیں ہوں۔ پھر ان سے یہ کہنا کہ عمر آپ سے اجازت مانگتا ہے۔ اگر اجازت دیجئے تو وہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ حجرے میں دفن ہو۔ چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے اور سلام کر کے اندر جانے کی اجازت مانگی، پھر اندر گئے تو دیکھا کہ وہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غم میں رو رہی تھیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس دفن کیے جانے کی اجازت چاہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ جگہ تو میں نے اپنے لیے رکھی تھی مگر آج میں ان کو اپنی ذات پر مقدم رکھوں گی۔ جب عبداللہ رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ عبداللہ آگئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو ذرا اٹھاؤ۔ ایک شخص نے ان کو اٹھا کر اپنے اوپر ٹیک دے دی۔ آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کہو، کیا خبر لائے ہو؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہی جو آپ کی آرزو تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الحمدللہ، میرے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ اہم نہ تھی اب جب میں مرجاؤں تو میرا جنازہ اٹھا کر لے جانا تو ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کو سلام کہنا اور کہنا: خطاب کا بیٹا عمر آپ سے اجازت چاہتا ہے۔ اگر وہ اس وقت بھی اجازت دیں تو میری لاش حجرے میں لے جانا اور دفن کر دینا، ورنہ مسلمانوں کے مقبرے (بقیع غرقد) میں دفن کر دینا۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ: جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو ہم آپؓ کی میت لے کر نکلے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کو سلام عرض کیا اور کہا: عمر، خطاب کا بیٹا آپ سے اجازت چاہتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: لے جاؤ، حجرے میں دفن کر دو۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حجرے میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیے گئے۔

(صحیح البخاری: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر: 3700)

بعض دوسری روایات میں کچھ مزید تفصیلات ملتی ہیں جن کا ذکر عمرو بن میمونؒ کی اس روایت میں نہیں ہے۔ مثلاً ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سحری کے وقت زخمی کیے گئے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو لؤلؤ نے سیدنا عمرؓ کو خنجر مارا تھا، وہ ایک مجوسی غلام تھا۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ حیاۃ الفاروق: صفحہ 369)

اور ابو رافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابو لؤلؤ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا مجوسی غلام تھا اور آٹا تیار کرنے والی چکی کا کاریگر تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے تھے۔ ابولؤلؤ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اے امیر المؤمنینؓ! مغیرہ نے مجھ پر محصول کافی گراں کر دیا ہے، آپؓ ان سے کہیں کہ کم کر دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈرو اور اپنے مالک کے ساتھ بھلائی کرو۔ اس سے یہ کہنے کے باوجود آپ کی نیت تھی کہ مغیرہ سے ملیں گے اور محصول کم کرنے کے لیے ان سے کہیں گے، لیکن غلام، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات پر سخت غصہ ہوگیا، اور کہا: میرے علاوہ پوری دنیا کے لیے آپ کا انصاف ہے؟ اور اسی وقت آپ کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔ پھر اس نے ایک خنجر بنایا، جس کے بیچ میں دستہ اور دونوں طرف نیزے کے پھل تھے، اس کی دھار کو خوب تیز کیا، پھر اسے زہر آلود کیا اور ہرمزان کے پاس لایا اور اس سے کہا: اس خنجر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: میرے خیال میں اس خنجر سے جس پر تم وار کرو گے اسے قتل ہی کر دو گے۔ پھر ابولؤلؤ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تاک میں رہنے لگا۔ ایک دن فجر کی نماز میں وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آکر کھڑا ہوا، سیدنا عمرؓ نے اپنے معمول کے مطابق آج بھی نمازیوں سے کہا: اپنی اپنی صفیں درست کر لو۔ صفوں کی درستی سے فارغ ہو کر اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع ہی کی تھی کہ اسی لمحہ ابو لؤلؤ نے خنجر سے ایک وار سیدنا عمرؓ کے کندھے پر اور دوسرا وار پہلو پر کیا، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ زمین پر گر گئے۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ حیاۃ الفاروق: صفحہ369)

عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب آپ کو خنجر کی ضرب لگی تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:

 وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 38)

ترجمہ: اور اللہ کا فیصلہ نپا تلا مقدر ہوتا ہے۔