الحسن بن موسیٰ أبو محمد النوبختی کی توثیق از شیعہ معتبر کتب
جعفر صادقالحسن بن موسیٰ أبو محمد النوبختی کی توثیق از شیعہ معتبر کتب (رجال النجاشی ، الفھرست)
میں اس عالم نوبختی کی توثیق بھیج دیتا ہوں۔
⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️
1:مشہور شیعہ ماہر علم رجال نجاشی کہتا ہے الحسن بن موسی ابو محمد النوبختی بہت بڑے شیعہ متکلم اپنے ہم عصروں پر فوقیت رکھنے والے جیّد عالم تھے۔
2: اس کے علاوہ شیعہ جیّد عالم طوسی بھی نوبختی کے متعلق لکھتا ہے۔۔
امام ابو محمد نوبختی بہت بڑے متکلم (علم کلام کا ماہر) فلسفی، اور صحیح العقیدہ شیعہ عالم تھے۔
3: قاضی نور اللہ تستری نے مجالس المؤمنین میں نوبختی کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ۔۔
نوبختی شیعہ فرقہ کے اکابرین میں سے ہیں اور وہ بہت بڑے متکلم فقیہ اور فلسفی ہیں۔( عربی اسکین موجود ہے۔ مطالبے پر پیش کردوں گا۔)
(نوٹ: اس کتاب میں عربی اسکینز بھی شامل کئے جا رہے ہیں۔)
*میں نے ابھی اپنی دلیل مکمل نہیں کی، لیکن آپ کے فضول الزامات اور اعتراضات اتنے آچُکے ہیں کہ پہلے انہیں کلیئر کرنا بھی ضروری ہے۔*
شاید آپ بھول گئے کہ میری دلیل اور میرا استدلال کس طرح پیش کیا گیا ہے۔میں نے صرف اقوال شیعہ علماء کہیں سے نکال کر پھر کہیں دوسری جگہ سے صحیح روایات نکال کر انہیں آگے پیچھے کر کے من پسند استدلال بیان ہی نہیں کیا۔
⬅️ علامہ کشی نے تین صحیح روایات ترتیب سے ایک جگہ بیان کی ہیں اور اس کے بعد ابن سبا پر مجہول لوگوں کا ذکر کر کے مؤقف بیان نہیں کیا بلکہ ان کے نزدیک وہ مؤقف *اہل علم لوگوں کا ہے،* کوئی عالم جب اہل علم کہہ کر صحیح روایات کی شرح بیان کرے تو اس رائے کی اہمیت اس وقت تک ہوگی *جب تک اس کے رد میں صحیح روایات اور ان کے ذیل میں متعارض اقوال علماء پیش نہ کئے جائیں۔* یہ بالکل سادہ سا نکتہ ہے۔ اسے اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیں۔
جس قول کی سند کا آپ مطالبہ کر رہے ہیں وہ اسی عالم کا ہے ، جس کی وہ کتاب ہے، اس نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ، اس جگہ جہاں صحیح روایات ترتیب کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔