سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندسابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی
سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قم رحمہ اللہ
نام و نسب
آپ کا نام سید ابوالفضل ابن الرضا ہے۔
آپ سنہ 1908 میں قم (ایران) میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد کا نام سید حسن تھا جو ایک مجتہد سید احمد کے بیٹے تھے۔ جب کہ والدہ کا نام سکینہ سلطان تھا جو ایک مشہور عالم کی بیٹی تھیں۔ آپ کا نام نسب اور شجرہ نامہ یہ ہے
ابوالحسن بن حسن بن احمد بن رجی الدین بن میر یحیی بن میر میران بن امیران الاول ابن میر صفی الدین بن میر ابوالقاسم بن میر یحیی بن السید محسن الرضوی بن رضی الدین بن فخر الدین علی بن رضی الدین حسین پادشاہ بن ابی القاسم علی بن ابی علی محمد بن احمد بن محمد الاعرج ابن احمد بن موسی المبرقع بن امام محمد الجواد علیہ السلام۔
پس آپ کا نسب امام موسی مبرقع تک پہنچتا ہے اس لیے آپ کو برقعی کہا جاتا ہے۔ چونکہ امام رضا تک نسب پہنچتا ہے اس لیے آپ کو ابن الرضا یا رضوی بھی کہا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ پر آپ کا نام ابن الرضا اسی لیے لکھا ہوا تھا۔
آپ کا خاندان قم میں سالوں سے رہ رہے تھے۔اسی لیے قُم سے نسبت کی وجہ سے اور حوزہ علمیہ قم سے علم حاصل کرنے کی بنا پر آپ قمی کا لقب بھی آپ استعمال کرتے تھے۔
تعلیم: آپ کے والد چونکہ ایک بہت غریب آدمی تھے جو محنت مزدوری کر کے اپنا گزرا کر لیتے تھے اس لیے مالی مشکلات کی وجہ سے وہ برقعی کی تعلیم کے حوالے سے قابل قدر انتظامات نہیں کر سکتے تھے ۔چنانچہ آپ کی والدہ کو بہت شوق تھا کہ برقعی کو لکھنا پڑھنا سکھائیں اسی لیے اس کی پڑھائی کا بندوبست کرنے کے لیے انتہاء درجے کی کوشش کر کے کچھ پیسے جمع کیے تھے جو وہ برقعی کے استاد کو دیتے تاکہ وہ برقعی کو پڑھا سکیں۔ برقعی فرماتے ہیں کہ میری ماں بہت بہادر اور دلیر خاتون تھیں۔ جب میں پندرہ سال کا تھا تو ایران میں پہلی جنگ عظیم کے دوران روسی افواج داخل ہوگئی تھی اور قحط سالی تھی لیکن اس زمانے میں بھی ان کی والدہ نے ان کو اس مشکل وقت مین بھی تنگی سے بچایا۔ برقعی چونکہ تنگ دست تھا اس لیے وہ باقاعدہ طریقے سے پڑھ نہیں سکا لیکن کسی نہ کسی طرح پڑھنا لکھنا سیکھ گئے۔ آپ مکتب جاتے اور وہاں معلم دوسرے بچوں کو سکھاتے وہ سننے کے لیے بیٹھ جاتا اور اسی طرح سیکھتا رہا۔ برقعی کے لیے معاشی حالات کی وجہ سے کاپی کاغذ خریدنا ممکن نہیں تھا اسی لیے مختلف دکاندار یا مصالحے بیچنے والے جو کاغذات ردی کے طور پر پھینکتے برقعی ان کو اٹھا لیتا اور اس پر لکھتے رہتا۔ بہرحال نوجوانی کی عمر میں برقعی نے فارسی لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سیکھ لیا تھا۔
حوزہ میں تعلیم
برقعی کہتے ہیں کہ انہی ایام مین شیخ عبدالکریم حائری یزدی اپنے خاندان کی دعوت پر قم آئے اور آراک کے مقام پر ٹھرے تھے انہوں نے طلباء کے لیے ایک مدرسہ کھولا، اس وقت برقعی بارہ سال یا دس سال کے تھے انہوں نے اس مدرسہ جانے کا عزم کیا اور مدرسہ رضوی میں داخل ہوگئے۔ یہ مدرسہ قم کے پرانی مارکیٹ میں موجود تھا۔ آپ کی والدہ کے چچا زاد بھائی وہاں کے پرنسپل تھے اسی لیے انہوں نے الگ کمرے کی درخواست کی، لیکن ان کی کم عمری کے سبب بڑی مشکل سے مان گئے اور آخر ایک میٹر کا کمرہ جس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور کچرے پاس ہی ہوتے تھے، برقعی کو وہاں جگہ ملی۔ لیکن جیسا کہ اس کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے اس وجہ سے موسم گرما کی گرمی اور سرما کی سردی سے خود کو بچانا برقعی کے لیے مشکل ہوگیا،ان کی امی نے ان کے لیے ایک کارپیٹ کا بندوبست کیا جو انہوں نے کمرے میں بچھایا۔ دن رات برقعی اب اس کمرے میں پڑھنے اور مطالعہ میں مصروف رہتے۔ دو سال تک برقعی اسی کمرے میں رہے، چونکہ مالی تنگی کی وجہ سے کوئی رشتہ دار برقعی کے لیے پیسہ خرچ کرنے پر راضی نہ تھے۔ برقعی نے تاجروں اور ریڑھی بانوں کے ساتھ چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹا کر کچھ پیسے کما لیے۔ یہاں تک کہ اللہ کے فضل و کرم سے برقعی نے گرامر اور لغت میں مہارت حاصل کر لی۔ انہون نے المغنی اور الجامی بھی پڑھ لی۔ یہاں تک کہ انہوں نے حاجی عبدالکریم یزدی وغیرہ ممتحنون کے سامنے امتحان بھی نمایاں نمبر لے کر پاس کر لیا۔ اس کے بعد مجھے ہر مہینے پانچ ریال بطور وظیفہ ملنے لگا۔ یہاں تک کہ یہ رقم برقعی کے لیے ناکافی تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ عبدالکریم حائری سے کہ کر ان کا وظیفہ بڑھایا جائے اور ان کا وظیفہ بڑھا دیا۔ ان کو آٹھ ریال وظیفہ ملنے لگا اور برقعی نے اپنی تعلیم جاری رکھی یہاں تک کہ سطح کا امتحان پاس کیا۔ برقعی نے فقہ اور اس کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد آپ اپنے جونیئر طلباء کو مختلف کتب بھی پڑھانے لگے اور برقعی نے کتب کی عدم دستیابی کے باعث اپنے ذہن سے کام لے کر جو چیزیں یاد تھیں فقہ، گرامر، منطق کی کتب ان کو پڑھائیں یہاں تک کہ آپ حوزہ میں مدرس یا استاد بن گئے اور 20 سال تک قم کے حوزہ میں پڑھاتے رہے۔
شاگردوں کے نام
جیسا کہ برقعی نے اپنی سوانح حیات میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد مدرس پڑھایا۔ انقلاب ایران کے بعد ان کے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔ ان میں سے چند شاگرد یہ ہیں
1- شیخ محی الدین انواری
2- شیخ محمدی گیلانی
3- شیخ لاہوتی
4- شیخ محمد رضا مھدوی کنی
5- شیخ عباس محفوظی
6- شیخ سید رضا برقعی
یہ صرف ان چند شاگردوں کے نام ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ قم میں ان کی شاگردی اختیار کی ورنہ ان کے شاگرد جو حوزہ میں ان سے فیض حاصل کرتے رہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ان کے علاوہ بھی ان کے مختلف مقامات پر شاگرد رہے۔ البتہ ایک شاگرد شیخ وند کا ذکر برقعی نے کیا ہے کہ جس کو برقعی نے چند توصیفی کلمات لکھے تھے بعد میں اس نے ان کلمات کے ذریعے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ برقعی نے مجھے اجازہ اجتہاد دیا ہے اور اس کا غلط استعمال کرنے لگے اور بزعم خود اس مجتہد نے برقعی کے دوست استاد و فقیہ جناب مصطفی حسینی کے خلاف اپنے بغض و عداوت ظاہر کر دی اور برقعی سے استفادہ کرنے والوں میں سے وہ دوست جنہوں نے یزد میں شہر بدری کے دوران بھی ساتھ نہیں چھوڑا ان میں آقای جمال الدین رشیقی اور آقای حسین علیزادہ مقدم قابل ذکر ہیں۔
اولاد
آیت اللہ برقعی کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا اور ان کی رہائی اور اخلاقی مدد بھی جاری رکھی۔ ان کے نام یہ ہیں:
1- محمد حسن برقعی
2- محمد حسین برقعی
3- فاطمہ برقعی
4- زہراء برقعی
5- انیسہ برقعی
آپ کے اساتذہ
آپ کے اساتذہ کے نام یہ ہیں:
1- شیخ ابولقاسم کبیر قمی
2- حاجی شیخ محمد علی قمی کربلائی
3- آقای مرزا محمد سامرائی
4- سید محمد حجت کوہ کمری
5- حاجی شیخ عبدالکریم حائری
6- حاجی ابوالحسن اصفہانی
7- آقائی شاہ آبادی
8-آغا بزرگ تہرانی
9- عبدالنبی نجفی عراقی
10- آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی
11- سید شہاب الدین مرعشی نجفی
12- محمد بن رجب علی تہرانی
13- آغا خراسانی
رسالہ عملیہ
آیت اللہ برقعی نے جو رسالہ عملیہ یا توضیح المسائل لکھی ہے وہ اپنے دور کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ آپ نے اپنے رسالہ عملیہ کا نام “احکام القرآن” رکھا۔ جس مین تمام فقہی مسائل کو قرآن مجید کی آیات سے استنباط کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے مختلف فقہی مسائل کے علاوہ کافی مسائل عقائد سے متعلق بھی ذکر کیے اور توحید و شرک کے متعلق آیات کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس رسالہ کو بقول خود آیت اللہ برقعی بہت سے ملاؤں نے پڑھنا اور دکانوں پر رکھنا اور بیچنا یا خریدنا حرام قرار دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کتاب یا رسالہ عملیہ میں بیان کردہ عقائد ہمارے مسلک کے برخلاف ہیں۔ اس رسالہ عملیہ کے شروع میں آیت اللہ برقعی نے اپنا اجازہ اجتہاد بھی کیا تھا جو انہیں آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی نے درجہ اجتہاد پہنچنے پر دیا تھا۔ اس کا عکس ہم نیچے پیش کرتے ہیں۔ اس رسالہ کے سرورق پر آیت اللہ برقعی کو”مجتہد مجاہد علامہ برقعی" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
فدائیان اسلام
برقعی کے متعلق جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ فدائیان اسلام کے بانی اراکین میں سے تھے۔ فدائیان کے لیے آپ نے کافی خدمات انجام دیں۔ فدائیان کے ارکان کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں شریک رہے۔ یہی وجہ تھی کہ آیت اللہ بروجردی آپ کے سخت خلاف ہوگئے اور حوزہ علمیہ قم سے برقعی کو نکالنے کے لیے سازشیں کرنے لگے، شاید یہی وجہ تھی کہ بالآخر برقعی کو حوزہ علمیہ قم چھوڑنا پڑا کیونکہ ان کی مستعدی ،تحریکوں میں شرکت اور بیداری امت کے لیے تحریریں حوزوی منہج سے مختلف لگنے لگی تھی۔
حکومت جمہوری اسلامی کتاب
جیسا کہ ہم نے کہا کہ برقعی نے فدائیان اسلام کا ساتھ دیا ،اور ان کے ساتھ مل کر معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کا عزم طاہر کیا۔اور دوسری طرف برقعی کی شدید خواہش تھی کہ ایک اسلامی حکومت ایران میں قائم ہو جائے۔ انہوں نے مختلف علماء اور عوام سے مل کر اس کے لیے انتہائی کوشش کی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی کتاب “اسلامی جمہوری حکومت” نامی کتاب ہے۔ اس کتاب میں برقعی نے اسلامی حکومت کے متعلق انتہائی اہم ضروریات و معلومات جمع کیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ خمینی کی جب حکومت اسلامی کے لیے جدوجہد جاری تھی تو بہت سے اشاعتی مراکز نے برقعی کی اجازت کے بغیر یہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے مفت تقسیم کیں، اور سر ورق پر خمینی کی تصویر لگائی اور چند صفحات میں اپنی مرضی سے تحریف کی تھیں، اس کا ذکر سوانح ایام میں برقعی نے کیا ہے۔
اجازت نامہ
آیت اللہ برقعی کو کافی علماء یا مجتہدین نے اجازت اجتہاد سے نوازا۔ ان میں سے آپ کے چند اہم اساتذہ جنہوں نے اجازت دیئے ان کی تعداد تقریبا پندرہ ہے۔ آیت اللہ برقعی نے اپنے رسالہ عملیہ میں آیت اللہ سید اصفہانی کی جانب سے اپنے لیے جاری شدہ اجازت اجتہاد کا عکس شائع کیا تھا۔ دیگر علماء جنہوں نے برقعی کو اجازت اجتہاد دیا وہ یہ ہیں۔
برقعی کے متعلق مرعشی صاحب نے بالکل درست کہا:
” اللہ تعالیٰ کے نام سے۔حضرت آقای علامہ برقعی دامت برکاتہ العالیہ ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے۔ مشہور قول کے مطابق کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے، انہون نے بہت اچھے مطالب مقام امیر المومنین اور دوسرے ائمہ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ”عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے اور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والا گروہ نے ان کے متعلق کیا ہے،انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پڑھی اور اپنا ایمان خراب کیا ہے اور معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں (جیسا کہ عقلاء معلوم ہے) اور ائمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ پر ڈالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی، تاریخ شہر ذی القعدہ 1389
کتب کے نام
آیت اللہ برقعی نے شروع شروع میں شیعہ مسلک کی اشاعت کے حوالے سے کافی کتب لکھیں۔ آپ نے ایسی کتب لکھیں جو کہ بڑی تعداد میں شیعہ مبلغین نے پھیلا دیں۔ مثلاً آپ کی کتاب عقل و دین اور گلشن قدس اور کلمات قصار و دیگر ائمہ اہل بیتؓ کے فرمودات پر مشتمل کتب بہت مقبول رہیں۔
آپ کی زندگی کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، آپ کی زندگی کا پہلا حصہ ایک متعصب اثناء عشری شیعہ کی طرح گزرا آپ نے شیعہ حوازات قم و نجف میں پڑھنے کے بعد حوزوی خرافات میں مبتلا تھے اور اسی لیے متعصب فرقہ پرست کی طرح اپنے مسلک کے دفاع کے لیے مگن ہوگئے۔ چنانچہ اس دوران آپ نے مختلف شعری مجموعے لکھے نیز شیعت کے دفاع کے ساتھ ساتھ احمد کسروی وغیرہ کی جانب سے شیعت پر کیے گیے حملوں کے خلاف دفاعی کتب لکھیں۔
آپ کی زندگی کا دوسرا دور چالیس سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے،اس عمر میں آیت اللہ برقعی نے جیسا کہ خود فرمایا اپنی سوانح ایام میں کہ میں اس دوران قرآن میں تدبر کرتا رہا اور مجھ پر یہ حقیقت اور راز کھل گئی کہ میں اور ہمارے مسلک کے علماء خرافات میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ان کی کتاب سے اقتباس پیش خدمت ہے:
آپ کی عمر کا آخری حصہ یا ستر سال سے وفات تک کا عرصہ بہت زیادہ مصائب و آلام اور آزار میں گزرا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے شیعہ اثنا عشری مسلک میں موجود خرافات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ ان تمام عقائد کو بھی رد کیا جو ان کے خیال میں اسلام و قرآن کے خلاف تھے۔
چنانچہ اسی ضمن میں انہوں نے شیعہ مسلک کی چوٹی کی کتاب الکافی کا رد پیش کیا جو “کسر الصنم یا بت شکن” کے نام سے مشہور ہے۔ شیعہ مسلک میں قبور کی زیارت کے حوالے سے بدعات کے رد میں آپ نے کتاب “خرافات وفور در زیارت قبور” لکھی۔ اس کے ساتھ ساتھ “تضاد مفاتیح الجنان بایات قرآن” نامی کتاب لکھی جس میں شیعہ مسلک میں موجود من گھڑت دعاؤں کا نہ صرف رد کیا بلکہ اماموں کے متعلق غلو کے رد کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے دو سو صفحات میں توحید عبادت کو مکمل بیان کیا۔، مزید آپ نے یہ کیا کہ تضاد "مذہب جعفری با اسلام و قرآن" اور "نقد المراجعات" نامی کتب لکھیں اور متعہ کے حرام ہونے پر آپ نے “تحریم متعہ در اسلام" نامی کتاب لکھی۔ بس پھر کیا تھا ایران کے بڑے بڑے مجتہد ان کے پیچھے پڑ گئے اور یہ مشہور ہو گیا کہ برقعی وہابی ہو چکا ہے یا سنی بن گیا ہے۔ برقعی پر مزید تہمت یہ لگی کہ برقعی حدیث غدیر اور حدیث ثقلین کا منکر ہو چکا ہے اور دشمن اہل بیتؓ بن چکا ہے۔
حکومت ایران نے یہ حالت دیکھی تو برقعی کی کتابوں پر پابندی لگائی اور برقعی کے خلاف فرد جرم عائد کیا اور 80 اسی سال سے زیادہ عمر کے اس بوڑھے عالم کو جیل بھیج دیا ایک تاریک کوٹھری میں تنہا ان کو رکھا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں “اسلامی جمہوریہ ایران” کے عہدیداروں اور قاضیوں کی طرف سے برقعی پر ڈھائے گئے۔ جیل کے اندر ملاؤں میں سے بعض نے برقعی کو دھمکی دی کہ تم مرتد ہو چکے ہو، چنانچہ ان کو جیل کے اندر ہراسان کیا جاتا اور کئی کئی دنوں بعد ان کو بالآخر روشنی دیکھنا نصیب ہوئی۔ جیل میں انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان کو سخت غذائیں دیں کیونکہ برقعی کے دانت گر چکے تھے اس لیے ان کی تکلیف کو بڑھانے کے لیے ایسی غذائیں دی جاتیں۔
ان کی تمام کتب جو انہون نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار مین لکھین ان کے نام یہ ہیں:
مرات الایات یا راہنمائی مطالب قرآن
کلمات قصار حضرت سید الشھداء
گنج گھر 1500 سخن از پیغمبر
گنج حقائق کلمات قصار امام صادق
رسالہ حقوق در حق خالق و مخلوق
عشق و عاشقی از نظر عقل و اسلام
حقیقۃ العرفان
التفتیش
فہرست عقائد عرفاء و صوفیہ
فہرست عقائد شیخیہ
فہرست عقائد حقہ اسلامیہ
عقل و دین جلد اول توحید
عقل و دین جلد دوم نبوت و امامت و معاد
خزینہ جواہر کلمات امام باقر
شعر و موسیقی از نظر عقل و اسلام
گلشن قدس یا عقائد منظوم
پاسخ بکسروی
دلیل حکم محاسن و شارب
سرگزشت مرحوم شہید نوری
فریب جدید
حواشی بر مکاسب
حواشی بر صلوۃ ہمدانی
مثنوی منطقی
فقہ استدلالی
فہرست مجالس المؤمنین
مجموعہ از اشعار
مجموعہ ای از اخلاق
تراجم الرجال دس جلد
تراجم النساء دو جلد
رسالہ پیش آھنگی
حواشی بر کتب حدیث
اربعین
جبر و تفویض
تحفۃ الضوی
ترجمہ مختار ثقفی
جدول در ارث
ترجمہہ بعضی از دعاھا
ترجمہ بعضی از وسائل
حافظ شکن
ترجمہ مقداری از توحید صدوق
ادعیۃ المعتبرہ
اسلام دین کار و کوشش
حدیث الثقلین
رسالہ احکام القرآن
ان کتب کے بعد برقعی نے جو کتب لکھیں وہ اپنے مسلک کی اصلاح کی خاطر لکھیں جن میں سے چند یہ ہیں:
اعلان عام
جب مخالفین کی جانب سے آیت اللہ برقعی پر وہابی یا گمراہ ہونے اور دشمن اہل بیت کہنے یا مرتد قرار دینے کے اعلانات جاری ہوئے تو آیت اللہ برقعی نے تمام اپنے وقت کے مجتہدین کو مناظرہ کی دعوت دی اور کہا کہ کسی پبلک مقام پر مناظرہ کرتے ہیں اور اگر میرے عقائد غلط ہیں تو میں ان سے رجوع کروں گا اور اگر آپ لوگوں کے عقائد غلط ہیں تو آپ ان سے دستبردار ہو جائیں لیکن کسی مجتہد میں یہ ہمت نہیں تھی کہ آیت اللہ برقعی سے مناظرہ کر سکیں۔ بلکہ آپ کو ہمیشہ گالیوں، تہمتوں اور دھمکیوں سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی جس کو آپ نے مسترد کر دیا۔
قید و بند کی صعوبتیں
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر مختلف مجتہدین کو قید و بند کی سہولتیں دی جاتی رہی ہیں جیسے آیت اللہ منتظری وغیرہ۔کچھ مجتہدین کو تشدد کر کے قتل بھی کیا گیا۔ آیت اللہ آشوری وغیرہ کو مختلف بہانوں سے سزائے موت دی گئیں۔ آیت اللہ صالحی نجف آبادی کو اپنے نظریات کی وجہ سے آخر عمر تک جیل میں بند رکھا گیا اور آج بھی بہت سے مجتہدین علماء اور دیگر مسالک کے لوگوں کو محض عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔ آیت اللہ برقعی کو بھی ان کی تجدید و اصلاح پر مبنی کتب لکھنے کی وجہ سے کئی مرتبہ جیل ڈالا گیا ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے جس کا ذکر آیت اللہ برقعی نے اپنی “سوانح ایام” میں کیا ہے:
مولویوں کے لیے مخصوص جیل انفرادی کوٹھریوں سے کئی لحاظ سے بدتر تھا کیونکہ وہاں پر مٹھی بھر مولوی جو متعصب، مغرور اور کم عقل تھے ان کو خیانت کے جرم میں جیل میں ڈالا گیا تھا۔ مثلاً ایک اخوند جو کہ امام جمعہ تھا اور کئی ملین لاکھوں پیسوں کے فراڈ کی وجہ سے وہاں تھا یا فلاں اخوند قاضی تھا اور چند لوگوں کو بغیر کسی جرم ثابت ہونے کے سزائے موت دی تھی یا رشوت لی تھی یا دیگر فلاں فلاں کاموں کے یہ مرتکب ہوئے تھے۔
لیکن جیل میں جو کھانا دیا جاتا تھا جوان لوگ تو کھا سکتے تھے۔ لیکن میرے دانت بڑھاپے کی وجہ سے موجود نہیں تھے اور میرا قوت ہاضمہ بھی اچھا نہیں تھا، میں بہت تکلیف اور درد کے ساتھ یہ کھا لیتا تھا اور موٹی روٹی بھی میرے لیے درد دل اور بے سکونی کا سبب تھا۔ میں نے تھوڑا سا پراٹھا خریدتا اور اس کو میں کھاتا تھا۔
ایک عرصے تک میں پہلے مہینے میں تنگ کوٹھری میں مجھ کو رکھا گیا۔ میں نے کئی بار ان سے کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی۔یہاں تک کہ میری طبعیت شدید خراب ہوگئی۔ مجھے ایک کپڑاپٹی دیا اور مجھ سے کہا کہ اس کو اپنی آنکھوں پر باندھ لو۔ میں نے وہ کپڑا آنکھوں پر باندھی۔ تو اس کے بعد وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ بہت دیر بعد انتظار اور کھڑا رہنے کے بعد ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھ کے دیا اور وہ مجھے دوبارہ میرے سیل میں واپس لے آئے اور تین روز بعد ایک سپاہی دوا لے کے آیا اور کوٹھری کی پشت پر رکھا۔میں نے کہا کہ دروازہ کھولو اور مجھے دوا دے دو۔اس نے کہا کہ مجھے دروازہ کھولنے کی اجازت نہیں ہے اور تین روز تک دوا وہاں پڑی رہی۔ پھر ایک ہمدرد سپاہی آیا اور اس نے مجھے دوا دے دی۔
بے شک میں نے اس ملت کی خدمت اور ان کی بیداری اور خرافات سے ان کو نجات دینے کے لیے ہی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن انہوں نے شکریہ ادا کرنے کی بجائے مجھ پر ظلم کیا اور دشمنی نکالی۔ آج کا زمانہ ہی ایسا ہے کہ خادم کو روندتے ہیں اور خائن کو یہ سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ملاؤں نے اس دوران مجھ پر بہت سارے ظلم ڈھائے۔ پھر یہ عرصہ گزرنے کے بعد مجھے مولویوں کے جیل میں لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مولوی نما لوگوں کے ایک گروہ کو جنہوں نے ملاؤں کی حکومت (اسلامی جمہوری ایران) سے خیانت کی تھی اس وجہ سے یہ مولوی جیل میں تھے۔
اسی جیل میں کچھ بدعتی اخوند مولوی تھے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ لوگ میرے جانی دشمن تھے اور اگر وہ مجھے قتل کرنے کی طاقت رکھتے تو مجھے قتل کر دیتے کئی مرتبہ جیل میں انہوں نے مجھ پر حملہ کیا، مجھے مارا اور پیٹا لیکن دوسرے لوگوں نے درمیان میں آکر مجھے بچایا اور ان کو روکا۔
میرے لیے یہ بہت سخت اور مشکل دن تھے۔ ان میں سے ایک کا نام تو اچھا تھا لیکن بہت بدکردار اور مازنداران کے رہنے والے اور جاہل و متعصب اور خرافاتی تھے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ میں نرمی اور عاقلانہ گفتگو بھی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان لوگوں سے بحث کر سکتا تھا کیونکہ ان میں ادب ہی نہیں تھا اور مجھے یہ گندی گالیاں دیتے تھے اور کسی قسم کی اذیت اور تکلیف مجھے پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔اور جتنا ان سے ہوتا یہ لوگ غیبت کرتے اور تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ اس نے آغا کاظم شریعت داری کی مجلس ترحیم برپا کی تھی، اس کو نام نہاد اسلامی جمہوریہ کے قاضیوں نے چند سال کے لیے قید کی سزا سنائی تھی۔
دوسرا اخوند مولوی اس کا معاون تھا جو کہ جیل میں اس کی وجہ سے میرے لیے دوگنا تکلیف کا سبب بن گیا، اور یہ لوگ دوزخیوں کی طرح تھے جیسے کہ اللہ نے فرمایا: تخاصم أهل النار
یہ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے تھے اور گندے الفاظ بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے تھے لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام مولوی اخوند میرے خلاف متحد تھے۔ حالانکہ وہاں موجود ان مولویوں میں سے کسی نے بھی میری ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی، اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ میں کیا کہتا ہوں اور میرے عقائد کیا ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ جیل کے اندر ایک دوسرے کی جاسوسی بھی کرتے تھے اور کوئی شخص سادہ گفتگو کرنے کی بھی جرأت نہ کرتا تھا۔
جیسا کہ میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ جیل میں دیا جانے والا کھانا جوان قیدی تو کھا سکتے تھے لیکن میں ایک اسی 80 سال کا بوڑھا بیمار شخص یہ کھانا نہیں کھا سکتا تھا، اسی لیے بہت زیادہ تکلیف اور بے سکونی کے ساتھ میں یہ اوقات بسر کرتا تھا اور اس تمام عرصے میں میں جیل میں بیمار رہا۔ میں بہت ساری بیماریوں جیسے کمر درد، پاؤں کا درد، پیشاب کی تکلیف اور جلد کی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ایک مرتبہ میں اس قدر شدید بیمار ہوا کہ دوسرے مجھے لے کے نہیں جاسکتے تھے اور میں سکرات موت کی حالت میں تھا۔ مجھے انہوں نے اسٹریچر پر رکھا اور ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑ رکھا تھا۔مجھے چھے گھنٹے کے بعد کسی قدر طبعیت میں بہتری محسوس ہوئی، اور مجھے واپس جیل میں لے آئے، کچھ موٹی روٹی اور دو کھیرے لے آئے لیکن میں اس کو کھا ہی نہیں سکا۔یہ تھی اس جیل کی بدترین حالت کی ایک جھلک۔
اس بار جیل میں قید رہنے کے دوران اور اس سے پہلے بھی جب میں قید رہا مجھے کئی بار دھمکی دی گئی کہ مجھے سزائے موت دی جائے گی۔ جیسے ایک مرتبہ مجھے اسد اللہ لاجوردی کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے ملاقات کے وقت جب اس نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تمہیں موت کی سزا دینی چاہیے اور میں تمہیں سزائے موت دونگا۔
میں نے جواب میں کہا کہ یہ تو بہت بہتر ہوگا فوراً تم مجھے سزا دے دو تاکہ میں سکون پا سکوں اور تمہاری اذیتوں سے نجات پاؤں۔ اس آیت کو میں تم جیسے لوگوں کے متعلق ہی سمجھ کر پڑھتا ہوں۔
وسكنتم في مساكن الذين ظلموا أنفسهم و تبين لكم كيف فعلنا بهم
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا
یہاں یہ بات واضح کر دیں کہ مولوی لاجوردی کہ جس نے برقعی کو دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں قتل کر دونگا اور سزائے موت دونگا اللہ کی مشیت اور قدرت دیکھیں کہ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اس کو کسی نے اس کے گھر پر ہی ایک قاتلانہ حملے میں بری طرح ہلاک کیا تھا۔ اس طرح اللہ نے مظلوم برقعی کی سن لی اور لاجوردی کو دکھا دیا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، اگر کسی پر ظلم کرو گے تو تم کو بھی ایک وقت دیکھنا ہوگا۔ برقعی نے جو آیت تلاوت کی تھی، وہ اللہ نے سچ کر کے دکھایا۔
اس دوران مولوی فلاحیان اور دوسرے مولوی علی رازینی نے بھی مجھ سے کہا کہ تم مرتد ہو چکے ہو اور اس کی سزا کے طور پر ہم تمہیں سزائے موت دیں گے۔ معلوم ہوا کہ ان دو مولویوں کی حالت عام آدمی عوام سے مختلف نہیں تھی کیونکہ ان کو بھی معلوم نہ تھا کہ دین اور مذہب میں فرق کیا ہے۔ میں نے اس کے جواب میں کہا کہ تم جلدی سے مجھے قتل کردو تاکہ تم لوگوں کے شر سے میں نجات پا سکوں، لیکن یہ جان لو کہ اللہ نے فرمایا ہے: و من يرتدد منكم عن دينه
اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا۔
اور یہ نہیں فرمایا: من يرتدد منكم عن مذهبه
اور جو کوئی تم میں سے اپنے فرقے سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص شافعی مسلک کا تھا وہ مالکی مذہب قبول کرے، یا جعفری مسلک کا تھا اس نے زیدی مسلک قبول کیا تو اس کو مرتد نہیں کہا جائے گا۔ ایک مرتبہ تو اس قسم کے فہم و دانش کے لوگوں نے بہت سختی سے میرا گلا دبایا کہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ اگرچہ زبان سے خود کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شیعہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں اور عملی طور پر یہ ابنِ ملجم کے شیعہ ہیں۔ تین یا چار مہینے اور کچھ ہفتے گزرنے کے بعد میں نے اپنے بیٹے محمد حسین کو دیکھا، اس کو مجھ سے بالکل بھی ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بعد میں ملاقات کے بعد میں نے اپنے بیٹے سے کہا: جیل کے عہدیدار کچھ بھی نہیں سمجھتے اور بات نہیں مان رہے، جتنی جلدی ہو سکے قم جا کر آیت اللہ منتظری کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ دو علماء (مجتہدوں) کو تہران بھیجو تاکہ میں ان سے بحث کر سکوں، شاید یہ سمجھ سکیں کہ میں نے کوئی خلافِ اسلام کام نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اپنے دوسرے بیٹے سے کہا کہ شیخ محی الدین انواری سے کہنا کہ مجھ سے ملنے کیلے آجائے۔ وہ طالب علمی کے زمانہ میں میرا شاگرد تھا اور مجھ سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔اگرچہ وہ مجھ سے ملنے آیا لیکن میرے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا تھا اس میں بالکل بھی فرق نہ آیا۔ میں(برقعی) نے بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد(مدرس) پڑھایا۔ انقلاب ایران کے بعد میرے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔ جب میں حوزہ علمیہ قم میں مدرس (استاد) تھا تو یہ مجھ سے پڑھا تھا اور اچھی طرح مجھ کو یہ سب جانتے بھی تھے، لیکن میں جانتا ہوں کہ غالباً ان کا مقام ان کے انصاف کی عکاسی کرتی ہے، میں نے سب کو پیغام تو نہیں دیا جیسے شیخ محمدی گیلانی، شیخ لاہوتی، شیخ محمد رضا مہدوی کنی، شیخ عباس محفوظی، شیخ سید رضا برقعی وغیرہ حوزہ علمیہ قم میں میرے شاگرد رہے تھے۔
یہ بات بھی بتا دوں کہ جن دنوں میں آیت اللہ منتظری کے نمائندے جیل کے معائنے کے لیے آئے، تو ان جیل کے عہدیداروں نے ان کو دھوکہ دینے کے لیے مجھے دوسرے چند لوگوں کے ہمراہ کسی اچھی جگہ منتقل کر دیا لیکن جب یہ نمائندے واپس چلے گئے تو واپس مجھے پہلی جگہ جیل میں لے آئے۔دوسرے قیدیوں کے برخلاف مجھے قرآن بھی مطالعہ کرنے کے لیے انہوں نے نہ دی، دوسری کتابیں مطالعہ کے لیے مل سکتی تھیں۔
کتابوں پر پابندی اور رد عمل
برقعی رحمہ اللہ نے یوں تو بہت ساری کتب لکھیں لیکن ان کی جس کتاب کی وجہ سے صوفیہ، شیخ اور دیگر شیعہ فرقے ان کے مخالف بن گئے وہ کتاب”التفتیش در مسلک صوفی” ہے۔ اس کتاب کے بعد ان کی دوسری کتاب جس کی وجہ سے نہ صرف شیخ و صوفیہ ان کے خلاف ہوئے اور ان کے خلاف عوام کو بھڑکایا بلکہ بہت سارے علماء بھی ان کے خلاف ہو گئے، اس کتاب کا نام “درسی از ولایت” ہے۔ اس کتاب کے بعد ان پر نہ صرف کفر و فاسق ہونے کے فتوے لگائے گئے بلکہ ان کو دھمکیاں دی گئیں اور وہابی مذہب کی تبلیغ کا الزامات بھی لگے۔ چنانچہ برقعی کے حق میں چند علماء نے فتوے بھی دیے مگر عوامی تحریک اور دباؤ کے سامنے یہ علماء بھی آخر بے بس ہوگئے۔ برقعی خود لکھتے ہیں:
میری کتابوں میں سے جس کتاب کی وجہ سے میرے دشمن بڑھ گئے اور وہ سب میرے خلاف ایک ہوگئے، وہ کتاب “درسی از ولایت” تھی۔ اس کتاب میں میں نے کچھ حقائق بیان کرنے کی جرأت کی تھی۔ شیعہ نما لوگ، صوفیہ اور شیخ کے شرک سے متعلق حقائق سے پردہ اٹھایا تھا اور میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ انبیاء و اولیاء اللہ کے صفات و افعال میں شریک نہیں ہیں۔ انبیاء و اولیاء کی تولیت اور ولایت صرف قانونی و شرعی امور میں ہے۔ ایجاد خلق و رزق اور ان جیسے دیگر کاموں میں ان کی تولیت اور ولایت کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس کتاب کے شائع ہوتے ہی میرے خلاف ہنگامہ اور شور برپا ہوا کہ خود میرے لیے بھی یہ تعجب کی بات تھی۔ میرے خلاف مولویوں کی جانب سے تہمت اور بدگوئی کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ سبحان اللہ! یہ کیا ہو گیا؟ آخر میں نے کیا غلط بات لکھ دی؟ کیا میں نے تو اس کتاب میں صرف قرآنی آیات اور قرآن کے موافق احادیث ہی تو لکھی تھی۔ صوفیہ و شیخ کی میری سابقہ کتابوں کی وجہ مجھ سے عداوت و دشمنی تو سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ میں نے ان کے بازار یا تجارت کی رونقیں ختم کر دی تھیں، مگر اس دفعہ مجھ سے وہ لوگ دشمنی کر رہے تھے جو خود کو اسلام و ظواہر شریعت کے محافظ و دفاع کرنے والے سمجھتے ہیں۔ کیا ان کی تجارت کی دکان بھی میری وجہ سے بند ہو گئی تھیں؟
جو بھی ہو بہرحال بہت سے عمامہ پوشوں نے قصیدہ خواں اور ذاکروں اور عوام کو میرے خلاف ابھارا اور مجھے کسی قسم کی گالی دینے اور بدگوئی کرنے سے دریغ نہیں کیا۔
البتہ کتاب کے شائع ہونے کے بعد بعض علماء نے یہ کتاب پڑھی تھی، کچھ عرصہ تک میری حمایت اور دفاع کیا تھا لیکن جب انہوں نے مذہبی دکانداروں کی جانب سے میرے خلاف کھڑے ہونے والی مخالفت کے سلسلہ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور خاموشی اختیار کر لی اور ان میں سے بہت سارے اب مجھ سے یا میری کتاب کا دفاع کرنے اور پہلے جو میرے متعلق اور کتاب کے متعلق کہا تھا وہ دوبارہ بتانے کو تیار نہ تھے کیونکہ وہ عوام سے اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے تھے اور میری وجہ سے خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔
جیسے آیت اللہ ذبیح اللہ محلاتی نے لوگوں کے سوال جو میری کتاب ولایت کے دروس کے متعلق تھی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا: “میں نے حجت الاسلام اور عادل عالم دین جناب برقعی کی کتاب پڑھی ہے ان کا عقیدہ درست ہے اور انہوں نے وہابیت کی ترویج نہیں کی ہے۔ لوگوں کی ان سے متعلق باتیں محض تہمت ہے۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ شعر درست نہیں ہے:
دنیا اگر فنا ہو جائے تو اس کو علی نے فنا کیا ہے
قیامت اگر برپا ہو جائے تو یہ علی نے برپا کیا ہے
میں بھی کہتا ہوں کہ یہ شعر درست نہیں ہے۔
مہر محلاتی۔”
آغا علی مشکینی نے نیز یوں لکھا تھا
“میں علی مشکینی نے کتاب“درسی از ولایت” کا مطالعہ کیا ہے اس کے مضامین عالیہ عقل سلیم اور منطق دین کے مطابق پا کر میں خوش ہوا ہوں۔
مہر علی مشکینی۔”
آقای حجت الاسلام سید وحید الدین مرعشی نجفی نے لکھا تھا:
” اللہ تعالیٰ کے نام سے حضرت آقای علامہ برقعی دامت برکاتہ العالیہ ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے اور مشہور قول کے مطابق کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے انہوں نے بہت اچھے مطالب مقام امیر المومنین اور دوسرے ائمہ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ”عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے اور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والے گروہ نے ان کے متعلق کہا ہے انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پڑھی اور اپنا ایمان خراب کیا ہے معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں جیسا کہ عقلاء کو معلوم ہے اور ائمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ پر ڈالا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی، تاریخ شہر ذی قعدہ 1389 “
لیکن اس کے باوجود مخالفت و بدگوئی،سب و شتم ، توہین و افتراء کا سلسلہ عمامہ پوشوں کی جانب سے جاری رہا اور میں نے مطلب پرستوں کے منہ بند کرنے اور عوام کو جو میری کتاب کے مطالب سے آگاہ نہیں تھے۔”
1: سوانح ایام برقعی
2: امام جمعہ و جماعت
3: مسجد پر قبضہ
4: اخبار یا رسالہ حیات المسلمین
5: دوسروں کی نگاہ میں
6: تفسیر پر کام
7: فقہ اسلامی پر کام
8: احادیث و روایات پر کام
9: رد بدعات پر کام
10: چند یادگار واقعات
11: کیا برقعی وہابی تھے؟
12: فرقہ پرستی سے آزادی
13: بزرگ تہرانی کی کتاب سے
14: خمینی کے ساتھ ہم نشینی
آپ کے خلاف لکھی گئی کتب
قانون جمہوری پر اعتراضات
برقعی کا سب سے بڑا ایک جرم یہ بھی تھا کہ انہوں نے “اسلامی جمہوریہ ایران” کے آئین پر تنقید کی اور اس میں موجود کئی خامیوں کی طرف اشارہ بھی کیا، ان کے اس تنقید کو کئی ایرانی مجلات اور اہل سنت و اقلیتی نمائندگی کرنے والے اخبار و رسائل نے شائع کیا۔ جس کا متن کچھ یوں ہے:
بسمہ تعالٰی
اعتراض بہ ماده 12
قانون اساسی کو تفرقہ کا سبب نہیں بننا چاہے
قانون اساسی لکھنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلائیں اور اپنا دامن داغدار کریں۔ كتاب خدا و سنت رسولﷺ میں مذہب نہیں ہے، بلکہ دین کا تذکرہ ہے۔ اس جانب میں جو خود کو لغوی طور پر شيعہ حقيقی سمجھتا ہوں اور ائمہ اہل بيتؓ کو قبول کرتا مانتا ہوں، لیکن مقام امام و امامت کو مقام رہبری و رہنمائی کو دين کے برابر نہیں سمجھتا يعنی امام تابع دين ہے اور اس کی ترویج کرنے والا نہ اصل دين اور نہ ہی اسکی فرع ہے۔ دين مجموعہ ہے ایک قوانين اصول و فروع کا، اور ہر امام کو اس دین کا تابع و مبلغ ہونا چاہیے۔ دين اسلام دين واحد ہے اور كسی کو حق نہیں کہ اس میں کسی چیز کو کم اور يا زيادہ کرے اور اس کا وہ حق نہیں رکھتا۔
پس از اسلام مذہب بياورد اور کوئی بھی ائمہ شيعہ و يا سنی نے الگ مذہب لانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ امام جعفر صادقؓ خود کو جعفری نہیں کہتے تھے، اور یہ نہیں کہا کہ میں ایک مذہب “جعفری” کے نام سے لایا ہوں ۔
اور اسی طرح ابوحنيفہؒ و يا شافعیؒ نے نہیں کہا ہم ایک مذہب لائے ہیں، حضرت اميرالمومنينؓ نے نہیں فرمایا میں فلاں مذہب رکھتا ہوں۔ امام حسينؓ نے نہیں فرمایا میں جعفری ہوں۔ ان کے پیروکاروں نے 300 سال و يا بيشتر سال گزرنے کے بعد مقتدر باللہ عباسی کے زمانہ میں کہ جب فتویٰ و مذاہب کی کثرت ہونے لگی تو مذہب کو منحصر کیا چار فقہی مذہب پہ: جن کو مذاہب اربعہ کہا جاتا ہے، شيعوں نے نيز اہلسنت کے مقابل میں اپنا نام نہاد مذہب جعفری کے نام سے رکھا، یہ پانچواں مذہب قرار پایا اور تفرقہ سے دامن گیر ہوا، لیکن كتاب خدا نے اتحاد کی دعوت دی ہے اور تفرقہ پھیلانے والوں کو مشرک کہا، (سوره روم آيت 31، 32) میں فرمایا:
ولا تکونن من المشرکین۔مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
ترجمہ: اور مشرکین میں سے مت ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں(شیعہ شیعہ) میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے
مسلمان کو چاہیے کہ نام و عنوان دين ان کا وہی ہو جو خدا نے رکھا ہے اور فرمایا: سماكم المسلمين نہ مذہب اور دیگر نام تعجب یہ ہے كہ بعض علماء نام تشيع کے نام و عنوان سے استدلال كرتے ہیں کہ حديث رسول خداﷺ میں فرمایا: و شيعة علی هم الفائزون ان کے جواب میں کہنا چاہیے اولاد شيعہ علی وہ ہے جو كہ اصول و فروع دين میں علی کے مانند ہو اور مذہب کے نام پر تفرقہ ايجاد نہ کرے اور اصول دين اس کا علیؓ کے اصول دین سے مختلف نہ ہو کیونکہ آنحضرت نے نہج البلاغہ میں تفرقہ ايجاد کرنے والوں سے بيزاری کا اظہار کیا اور خطبہ 125 میں فرمایا: و إياكم والتفرقة و من دعا إلي هذا الشعار فاقتلوه و لو كان تحت عمامتي هذا يعنی تفرقہ سے دوري اختیار کرو اور ہر شخص جو شعار تفرقہ کی دعوت دے اس کو قتل کرو اگرچہ خود میں ہوں۔
اور خود آنحضرت نے کسی مذہب کے نام سے خود کو نہیں پکارا اور ايجاد تفرقہ نہیں کیا اور جماعت المسلمين سے جدا نہ ہوا اور خلفاء سے میل جول اور رابطہ رکھا۔ اپنے فرزندوں کا نام نام خلفاء پر رکھا اور اپنی بیٹی أم كلثومؓ کو خليفہ ثانی کے زمانہ میں خليفہ دوم عقد ازواج کیا، پس کیا خوب ہے كہ جو علماء حديث سے استدلال کرتے ہیں شیعہ کہلانے کیلے، کہ وہ قرآن کی طرف بھی توجہ كرے كہ اس تفرقہ سے قرآن نے منع کیا اور فرمایا کہ شيعہ شيعہ نہ ہو جاؤ۔ ایک جگہ سوره انعام آيت 159 فرمایا:
إِنَّ اَلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ
ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے (شیعہ شیعہ) ہو گئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اور سوره انعام آيت 65 میں فرمایا:
قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا و يا تمہیں لباس تفرقہ پہنا دیں اور وہ شيعہ شيعہ کر دے اور ایک کے ذریعہ دوسرے کو عذاب کا مزہ چکھا دے۔
اور ایک جگہ سوره روم آيت 31 میں تفرقہ پھیلانے والوں کو كہ یہ نام شيعہ ايجاد تفرقہ كرتے ہیں مشرک قرار دیا۔ ہمیں نہیں معلوم مگر کیا اسلام ناقص ہے كہ اس میں ایک مذہب کا اضافہ کیا جائے؟ ہزار سال ہوگئے كہ لوگوں کو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے جان لے رہے ہیں اور اور اس راہ میں خون کے نہر بہا دئے۔ آيا حضرت علی رضی اللہ عنہ و سارے ائمہ خود کو جعفری قرار دیا ہے؟ نہیں واللہ کیونکہ دين اسلام دين آزادی ہے اور ہر شخص ہر عقیدے کا حامل، یا ہر وہ ہاتھ جو کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچائے آزاد ہے اور اپنا بھی عقيده بیان کرنے میں بھی نبردآزما ہے. متأسفانه دين مبين اسلام کے مبانی کے برخلاف اگر كسي پر تہمت سنی ہونے کا لگے تو پھر اہلِ تشيع کے درمیان زندگی اس کی دشوار ہو جاتا ہے۔ ہر ساعت دھمکیوں کا موجب اور اس کی جان و مال خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اب جب امام خميني نے فرمایا سنی و شيعہ بھائی بھائی ہیں۔ اور امور حکومت چلانے والے آزادي و استقلال کے بہانے کرنے والے اور اس کا مذاق اڑانے والے اگر کسی ایک شخص کو دیکھیں کہ وہ حقائق اسلام کو بيان كریں، تو وہ اس کو سنی ہونے کے نام پر اس کو زد وکوب کرتے ہیں، حتیٰ کہ حق حيات بھی اس سے چھن جاتی ہے اور بعض محصلين و شيعہ نا آگاه اس کو كافر و واجب القتل سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عنوان آزادی و جمہوری اسلامیفقط لقلقہ زبان ہے اور یہ مصداق خارجی نہیں رکھتا بلكہ اسلام کی بدنامی کا موجب بنتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ہیں جو کہ یہ آزادی ان کو حاصل نہیں یہاں کہ حقائق اسلام کو بیان کر سکے اور لوگوں کو وحدت اسلامی کی دعوت بھی نہیں دے سکتا، اور اگر کوئی سمجھائے کہ امام تابع دين ہے۔ حقائق کا كتمان چھپانا مت کرو، سینکٹروں تہمتیں افترا اس پر لگتے ہیں۔ بنابریں جیسا کہ یہ ذکر کیا کہ مقام امامت، مقام رہبری بہ سوی دين ہے نہ کہ خود دين ہے، اور كسی کو حق نہیں ہے کہ امام و امامت کے نام سے اصول و يا فروع اسلام کو كم اور زيادہ كرے. میں ان مطلب کو قانون اساسی لکھنے والون کیلے تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ وہ مواد قانون کے شق یا اصل جو کہ مذہب سے متعلق ہے اور موجب تفرقہ ہے، حذف یا پھر ترمیم کی جائے اور آئندہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کو یاد رکھیں۔
ہم کہتے ہیں اصول دين، ايمان وہ چیز ہے کہ خدا فرمایا کہ ان پر ايمان لاؤ اور علی رضی اللہ عنہ ان پر ايمان لاۓ۔ خود اور اپنے پر ایمان کو حضرت علیؓ نے اصول دين و يا مذہب قرار نہیں دیا۔ کسی ایک جگہ بھی نہیں فرمایا میں خود پر اور یا اپنی اولاد پر ایمان لایا، يعنی آپؓ کے اصول دين میں سے ایک اپنی امامت اور اپنی اولاد کی امامت نہیں تھا، اور ہم حضرت کو امام سمجھتے ہیں، چاہیے کہ ہم ان تمام چیزون پر ايمان رکھیں كہ جن پر خود حضرت علیؓ ايمان رکھتے تھے کیونکہ اصول دين امام و مأموم سب کیلے ایک ہی ہونا چاہیے۔ بنابریں کوئی شخص مذہب کے نام پر ایک اصول کا دين حضرت امير المومنين کا اضافہ کرتا ہے وہ دشمنان آنحضرت میں سے ہے، نہ کہ ان کا پیروی کرنے والوں میں سے بعضي از افراد نا آگاه کہتے ہیں کہ جب بعض ممالک اسلامی نے مذہب حنفی و يا شافعی کو رسمی مذہب قرار دیا، تو ہمیں بھی مذہب جعفری کا عنوان اور نام دینا چاہیے۔ جواب یہ ہے كہ انہوں نے برا کیا یا نہیں یا پھر اچھا کیا؟ اگر برا کیا تو کیا ہم کو بھی ان کی پیروی میں برا کام کرنا چاہیے، نہیں اس کے علاوه ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے مسلمان وحدت كلمہ رکھے، اور مسلمين جہاں کو دعوت اتحاد و يگانگی دیتے ہیں۔اور تمام مسلمين کو ایک پرچم تلے جمع کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تمام رہبران دينی اور زعمای روحانی پر واجب ہے كہ حقائق کو بيان كریں
جیسا کہ آية 159 فرمایا: إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّـٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَـٰبِ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّـٰعِنُونَ ۔
جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں
والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته، ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وماتوفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
الأحقر السيد ابوالفضل العلامه البرقعي
نوٹ:اس میں آیت اللہ برقعی نے جو “مذہب اور دین” میں فرق بتایا ہے، آپ نے اس فرق کو 25 یا 30 کے قریب نکات میں بیان کیا ہے کہ دین اور مذہب میں کیا فرق ہے۔اور اسلام دین ہے مذہب نہیں
دیگر مسالک سے حسن ظن
آیت اللہ برقعی دیگر اسلامی مسالک سے حسن طن اور محبت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہون نے امام شافعیؒ کے احکام القرآن، ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوہاب کی کتابوں کا ترجمہ کیا اور ساتھ ہی زیدی شیعہ مذہب کی چوٹی کی کتاب مسند امام زید کا فارسی ترجمہ اور نیز دیگر کتب کے حوالے اپنی کتاب الجامع المنقول میں ذکر کیے۔ چنانچہ فرقوں کو باہم قریب لانے کے متعلق ان کا نظریہ درج ذیل ہے۔
ان کے الفاظ ملاحظہ کیجیے:
شروع کرتا ہوں اللہ عزوجل شانہ کے نام سے
مترجم کتاب(برقعی) سالوں سال ایران کے مذہبی پیشواؤں کی جانب سے محافل و مجالس میں حجاز میں موجود وہابی فرقہ کے بارے میں بدگوئی اور لعن و طعن سنتا رہا ہے۔ جس طرح شیعہ اپنے علماء میں سے کسی عالم کے مقلد ہیں بالکل اسی طرح حجاز سعودی عرب والے فروع دین میں محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کرتے ہیں اسی لیے ان کو وہابی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ محمد بن عبدالوہاب نے خود کو کبھی وہابی نہیں کہا بلکہ خود کو مسلمان ہی کہلاتے تھے، اور محمد بن عبدالوہاب ایک عالم دین تھے جنہوں نے بارہویں صدی ہجری کے شروع میں مسلمانوں میں موجود شرک اور بدعات کو دور کرنے کے لیے قیام کیا اور ان چیزوں کے خلاف کھڑے ہوگئے اور ایک گروہ کو اپنے اصلاحی نظریات کی طرف دعوت دی۔مسلمان فرقوں نے اس کی باتوں کو ماننے والوں کو "وہابی" کا لقب دیا۔ ایران میں ہر وہ سچے بزرگ اور عالِم دین جو لوگوں کو حقائق قرآن اسلام اور توحید بیان کرے یا دین میں موجود کسی بدعت کو وہ رد کرتا ہے تو اس پر فوراً وہابی ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے اس کے رد پر دلائل نہیں لاتے سوائے اس کے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور اس پر تشدد کرتے ہیں۔
میں خود تعجب کرتا ہوں اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ وہ شخص جو قرآن کے حقائق بیان کرے، اسے کیا وہابی کہا جائے؟ آخر وہابیوں کے عقائد کیا ہیں جو ہم قبول نہیں کرسکتے؟ کیا محمدﷺ اور علی بن ابی طالبؓ اور تمام نامور بزرگانِ دین قرآن سے تمسک کرنے والے نہیں تھے؟
ہمارے اس زمانے میں بہت سارے علماء دین کے معاملے میں روشن فکر ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی انہوں نے کسی دینی حقائق میں سے کسی حقیقت سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کو توحید اور قرآن سے آگاہ کیا تو لوگوں نے اس کو فوراً وہابیت کا بہانہ بنا کر اس کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔ عوام کو اس کے خلاف ہمیشہ بھڑکایا۔ جیسے آیت اللہ بزرگ حاجی سید اسد اللہ خرقانی، آیت اللہ خالصی زادہ اور نابغہ کبیر شریعت سنگلجی، آیت اللہ وحید الدین مرعشی نجفی، آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم حجت الاسلام والمسلمین آغا سید جلال جلالی قوچانی اور دیگر بہت سارے لوگ۔ اللہ ایسے لوگ مزید پیدا کرے۔
کثراللہ تعالی امثالھم۔
پس انسان اس قاعدے کے مطابق کہ الانسان حریص علی ما منع،انسان اسی چیز کی جستجو کرتا ہے جس چیز سے روکا جاتا ہے۔ میں نے بھی جستجو شروع کی اور تحقیق کی اور میں نے دیکھا کہ وہابی جماعت کیا کہتی ہے؟اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ اگر واقعی میں وہ لوگ مسلمان ہیں تو پھر ان کا خون اور ان کے مال و عرض و آبرو کی حفاظت واجب اور ان کی بدگوئی اور غیبت کرنا حرام ہے۔کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرے اور موحد نہ بنے۔ فرمایا عرض المسلم کدمہ
یعنی مسلمان کی عزت و آبرو اس کے خون کی طرح (حرام)ہے۔
یعنی جس طرح کسی مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کی آبرو برباد کرنا بھی نیز گناہ کبیرہ ہے۔
بہت افسوس کا مقام تھا کہ کہ ایران میں کوئی وہابی نہیں رہتا تھا کہ میں اس سے جا کر تحقیق کر سکوں اور نہ وہابیوں کی کوئی کتاب مجھے پڑھنے کو ملی۔ یہاں تک کہ سال 1352 شمسی کو مجھے اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ الحرام کی توفیق دی اور مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺ کی زیارت کے لیے جب میں گیا تو مجھے وہاں ایک کتاب دیکھنے کو ملی جس کا عنوان یہ تھا ’العقیدہ الاسلامیہ لشیخ محمد بن عبدالوہاب۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہر شخص کے عقیدہ کو خود اس سے پوچھ کر یا ان کی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کرنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ دوسرا شخص کسی شخص یا کسی کے عقیدے کے متعلق کم یا زیادہ یا تحریف کر کے غلط معلومات دے سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے غلط بیانی بھی کر سکتا ہے۔ پس بہتر یہ ہے کہ خود اس شخص محمد بن عبدالوہاب کی کتاب جو اس مذہب کے بانی و مرجع ہیں۔ اس کا مطالعہ کروں تاکہ اس کے اور اس کے پیروکاروں کے عقائد کو میں جان سکوں۔
بہرحال میں نے وہ کتاب پڑھنے کے لیے پکڑی اور جب میرے کچھ دوستوں نے میرے پاس یہ کتاب دیکھی تو مجھ سے درخواست کرنے لگے کہ چونکہ ہم وہابیوں کے عقائد کے متعلق جانتے نہیں اس لیے اس کتاب کا ترجمہ سادہ فارسی زبان میں بغیر کمی بیشی کے کر دی جائے اور اگر ہو سکے تو مختصر توضیح بھی لکھ دیں تاکہ ہم بھی جان سکیں۔ اس لیے میں نے مختصر توضیح بھی اس کتاب کی لکھی ہے۔ یہ کتاب عقیدہ اسلامی تین رسالوں پر مشتمل ہے جو خود محمد بن عبدالوہاب کی ہے سال 1390 قمری مین شائع ہوا تھا اور تقریباً 63 صفحات پر مشتمل تھا۔
پہلا رسالہ خدا شناسی دین اور پیغمبر شناسی پر مشتمل تھا۔دوسرا رسالہ صحیح راستہ کا بیان اور دین حنیف ملت ابراہیمی کے متعلق تھا اور تیسرا رسالہ ان لوگوں کی شبہات کے رد میں تھا جو انہوں نے اسلام اور توحید کے متعلق کیے تھے اور ان کو جوابات بھی دیے گئے تھے۔
محمد بن عبدالوہاب کی اس کتاب کا فارسی ترجمہ لکھنے اور اس کو شائع کرنے کا میرا مقصد بس یہی ہے کہ لوگ جان سکیں کہ آج کا دور تفرقہ اور نفاق کا زمانہ نہیں ہے اور مسلمانوں کے فرقوں میں سے ہر فرقہ پر واجب ہے کہ وہ نزاع اور جدل اور ایک دوسرے کی بدگوئی کرنے سے پرہیز کرے اور استعماری ایجنٹوں کے ہاتھوں کھلونا اور آلہ کار نہ بن سکیں۔آج جب مسلمان تفرقہ فرقہ واریت اور انتشار کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں اور دشمنانِ اسلام نے ان کے دمیان رخنہ اور پھوٹ ڈال دیا ہے اور ان کی دین و آبرو اس وقت سخت خطرے میں ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں متحد ہو جائے اور آل محمدﷺ کی ولایت کے نام پر بےچاری عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نہ بھڑکائیں۔ آج تمام مسلمان حتیٰ کہ اہل سنت کا متعصب طبقہ متعصب سنی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی آل محمدﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ امیر المومنین علی بن ابو طالبؓ کی محبت اور سیدہ فاطمہؓ کی اولاد پر وہ بھی فخر کرتے ہیں۔ آل محمدﷺ کے حقیقی محب اور دوست وہ ہیں جو امت میں تفرقہ نہ پھیلائیں۔ دوسرے مسلمانوں کے خلاف فحاشی گالی دینے اور بدگوئی سے بھی پرہیز کریں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کہنے والوں کو خود سے الگ نہ کریں اور تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی سمجھیں اور آیت شریفہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کو مد نظر رکھے۔ وہ اہل بیتؓ کے سچے محب ہرگز نہیں جو تفرقہ بازی کریں، مسلمانوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرے اور علمی یا دینی مسئلے میں کسی غلطی کی وجہ سے فوراً تکفیر کرے۔ اس پر لعنت کرے یا اس کو فاسق قرار دے کر خود سے جدا کریں۔ جال و جنجال کی راہ پیدا کرے۔ بلکہ آپس میں نرمی و خیرخواہی اور علمی و قرآنی دلائل سے ایک دوسرے کو جواب دے۔ باہمی اختلافات کو کم کرے نہ کہ یہ شیوہ ہو جس طرح کہ بعض صاحبان منبر کرتے ہیں کہ کسی کی بدگوئی کریں اور افتراء باندھے اور مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا سہارا لیں۔ بہت سارے خطیبوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ عقل نہیں رکھتے یعنی بغیر مطالعہ کے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
پس ہمارا مقصد اور ہدف اِس فرقے اور اُس فرقے کی طرف دعوت دینا نہیں ہم مسلمان ہیں اور ہماری دعوت خدا و رسول اور قرآن و اسلام ہے۔ آج تمام مسلمان فرقے قرآن کو مانتے ہیں اور قرآن کو اپنی الہامی کتاب مانتے ہیں۔ میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے ہر فرقے سے محبت رکھتا ہوں اور حق بات ان فرقوں میں سے جو بھی فرقہ کرے، اس کو قبول کرتا ہوں۔ عداوت و عناد سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کہ تمام مسلمان فرقوں کو چاہیے کہ خود کو مسلمان نام دیں اور جب اللہ نے سورہ یونس آیت نمبر 72 میں فرمایا کہ:
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مسلمان رہوں
نیز ہمیں چاہیے کہ رسول اللہﷺ کی اتباع کرتے ہوئے خود کو صرف مسلمان کہیں اور ناموں اور مذاہب فرقوں سے جو کہ فرقہ واریت کی وجہ ہیں خود کو دور اور الگ کر لیں۔ پس مسلمان فرقوں میں سے ہر فرقے کو چاہیے کہ وہ خود کو تعصب سے دور کر لیں اور خود کو صرف مسلمان کہلوائیں تو وحدت اور اتحاد کا ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور لا اقل تمام مسلمانوں کی فرقوں کے نام پر تکفیر بھی نہ کی جائے۔
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ: اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ( آل عمران 85 )
بہرحال میں نے محمد بن عبدالوہاب کے اس رسالہ کے مندرجات کو قرآن و سنت رسولﷺ کے برخلاف نہیں دیکھا۔اور اس میں کسی کو گالی اور لعنت مجھے نہیں ملی اور ان کے عقائد ایسے نہیں کہ مجھے ان کے باطل ہونے پر دلیل لانے کی ضرورت پڑے۔ بلکہ ان کی کتاب کو میں نے کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کے عین مطابق پایا۔ اگر پھر بھی کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کے رسائل عقیدہ اسلامی کے مطالب باطل یا پھر قرآن مجید کے خلاف ہیں تو اس کو چاہیے کہ سب و لعن کرنے کی بجائے دلائل پیش کرے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام آیت 108 میں فرمایا
وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔
اس شخص پر سب اور اس کی بدگوئی نہ کرے جو کہ غیر اللہ کو پکارے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں اللہ کو گالی دے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو گالی دینے یا سبّ کرنے سے منع فرمایا ہے۔پس جو شخص اہل بیت رسول اللہﷺ کی محبت اور دوست ہونے کا دعویٰ کرتا ہو بھلا کیسے وہ دوسرے مسلمان فرقوں کی بدگوئی کرتا ہے؟ امیر المومنین علی بن ابوطالبؓ کے متعلق نہج البلاغہ خطبہ نمبر 204 میں ذکر ہے کہ آپﷺ نے اپنے اصحابؓ میں سے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ لشکر معاویہ کی بدگوئی کر رہا ہے تو آپ کرم اللہ وجہہ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا اور کہا:
إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ وَ لَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي اَلْقَوْلِ وَ أَبْلَغَ فِي اَلْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ اَللَّهُمَّ اِحْقِنْ دِمَاءَنَا وَ دِمَاءَهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَ بَيْنِهِمْ
میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے لگو، بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اور حالات کو بیان کرو تاکہ بات بھی درست ہو اور حق کی حجت بھی تمام ہو جائے، نیز یہ دعا کرو کہ اے اللہ ہمارا اور ان کا خون محفوظ فرما اور معاملات کی اصلاح کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستے پر لگا۔
بہرحال شہادتیں (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا اقرار کرنے والے کو گالی دینا اور بدگوئی کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا کرنا استعمار کی خوشی کا سبب ہے۔ اگر فرض کریں کہ صدر اسلام میں ایک گروہ نے یزید کی طرح اپنی ریاست کو بچانے کے لیے مومنین سے دشمنی کی، تو آج کے مسلمانوں کا کیا قصور ہے کہ ہم ان دور حاضر کے مسلمانوں سے دشمنی رکھیں اور ان کی بدگوئی کریں؟ ہمیں گزری ہوئی تاریخ کو بہانہ اور بنیاد بنا کر ہرگز ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ آیت نمبر 141 میں فرمایا ہے:
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
(تحریر: آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی رضوی،تہران )
نوٹ: آیت اللہ برقعی نے محمد بن عبدالوہاب کے رسائل “عقیدہ اسلامی” کے علاوہ ان کی مشہور کتاب “کتاب التوحید” کا بھی فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ کسی فرقے کے متعلق سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی بجائے فارسی زبان جاننے والے خود براہ راست جان سکیں۔
جنگ عراق پر موقف
بعد از انقلاب حالات پر نظر
دولت اسلامی مملکت اسلامی نے عوام کے ایک گروه کو حزب جمہوری اسلامی اور شعار حزب فقط حزب اللہ کے نام پر اکسایا ہے کہ ہر روز در خیابانوں میں یا دانش گاہوں میں لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور ڈنڈے و چماق( آگ جلانے کی چیز) بلکہ قصابوں کی طرح چھڑیاں لے کر اور ہر مرتبہ سینکڑوں لوگوں کو زخمی و مجروح و مقتول کر چکے ہیں اور کسی شخص کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجازت نہیں۔
میں خود جن ایام میں مشہد میں تھا میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ جن میں زیاده نادان لوگ یعنی نوجوان تھے کہ ڈنڈے و چماق لے کر پھرتے تھے اور دو نفر آخوند مولوی سیاه عمامہ پہنے ان لوگوں کے ساتھ چلتے تھے اور نعره لگاتے
حزب فقط حزب الله رهبر فقط روح الله
اور اس طرح اس حالت میں دانشگاه مشہد کی طرف چل دیے اور درجنوں لوگوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا اور پانچ کو قتل بھی کردیا اور ہر روز مجھے خبر ملتی تھی کہ فلاں فلاں شہروں میں اس قسم کے لوگوں کو مارنے پیٹنے اور قتل کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بہت سارے کتب خانے انہوں نے جلا دیے اور بہت سارے کتاب فروشوں کی دکانوں کے سٹال پر حملے کیے اور ان کی کتابوں کو خیابانوں اور نہروں میں بہا دیا اور کتب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔
اور اگر کوئی عدالت یا قاضی کے پاس پہنچتے تو وہاں بیٹھا قاضی یا وکیل اس کی مخالفت ہی کرتا۔ اسلام میں تو قاضی کو بے طرف ہونا چاہیے لیکن جمہوری اسلامی کے یہ قاضی خصومت اور ضد کے مجرم ہیں، یہ کیسے قوانین بنے ہیں؟ میری عمر کے ستر سالوں میں مجھے ایسا طریقہ اور قانون دیکھنے کو نہیں ملا اور اب میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں خوار ہوں اور خانہ نشین ہوں اور میں نفوذ کلام نہیں رکھتا، کہ میری وجہ سے کسی پر ظلم ہوتا اور اللہ کے حضور بازپرس مجھ سے ہوتا، جمہوری اسلامی کے نام پر ایسے کام کرتے ہیں کہ اسلام کے موافق نہیں اور عالم و جاہل ان کے اسلام کے مقررات سے بےخبر اور ناآگاه ہیں اور جب تک لوگ ناآگاه ہیں بلکہ ایسا ہوتا کہ لوگ ایسی صورت دیکھ کر کمیونسٹ اور لبرل ازم یا لائیسم اور بے دینی اختیار کرتے ہیں۔ خواه آج کے زمانہ حال کا ہو یا گزشتہ زمانے میں کچھ لوگوں نے چرب زبانی سے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہے اور جس وضع کو خود چاہا لوگوں پر تھوپ دیا۔ چنانچہ اس سال کردستان اور خوزستان میں جوانوں کو دشمن سے جہاد کے نام پر اکسایا اور، ہر روز اطراف مملکت میں زد و خورد و کشت و کشتار ہے۔ حزب حاکم کا ہر مرنے والا شخص ان کے مطابق شہید ہے اور جار و جنجال کے ساتھ ریڈیو پر او ر محافل میں اس کو شہید کہا جاتا ہے، حالانکہ ملت ایران کا ہر مخالف شخص خدا و رسول کے ضد میں مارا گیا ہے اور دوزخی ہے۔ گویا ان کے ہاتھ میں بہشت اور جہنم کی چابی ہے اور یہ قسیم الجنة و النار ہے
بندر انگہ میں سینکڑوں لوگ سنی و شیعہ کے نام پر قتل ہوئے، گنبد قابوس میں لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور کردستان میں ہر روز جنگ و قتال برپا ہے، و با اینحال میخواهند جمهوری اسلامیرا به ممالک دیگر صادر کنند و نمیدانند که اسلام مانند حبوبات نیست که آن را صادر کنند بلکه باید قوانین اسلامیرا در مملکت خود پیاده کنند و به واسطه عدالت و تساوی توجه دیگران را جلب نمایند نه با زور و تظاهر و تزویر
سال 1359 میں ,میں خیابان آزادی میں اپنے گھر میں کوچہ بامدادان کے ایک کمرے میں تھا روز جمعہ نماز جمعہ اقامت کرتا، مولویوں کی دولت حکومت جس نے آزادی و عدالت کے بہت نعرے لگائے تھے بسیار، مامور فرستاد یعنی پاسدار ان کے مسلح گروه کو میں نے بس میں بھیجا اور میرے گھر کو خراب کیا اور مجھے دیگر بہت سے لوگوں کے ہمراہ پکڑ کر جیل میں ایک مہینہ کیلئے ڈال دیا.
اور رہائی کے بعد جب میں نے یہ دیکھا کہ میرے دوستوں کی جان خطرے میں ہے میں نے نماز جمعہ پڑھانا ترک کر دیا اور میرے گھر کو ان مدعیان عدالت نے غارت کیا اور اس کو روندا اور کئی سال ہوگئے واپس نہیں کیا۔ انہوں نے جتنا یہ کر سکتے تھے تہمت، اذیت اور ایذا مجھ کو پہنچانے سے دریغ نہیں کیا اور مسلسل مجھے زندان میں ڈالتے رہے اور تفتیش کیلے لیے جاتے رہے اور جو جو اذیتیں اور تکلیفیں مجھے دے سکتے تھے دیں
ایک جوان فاضل و محقق جو احمد مفتی زاده کے نام سے ہے۔اہل علم ہے اور کردستان( اہل سنت تھے ) کے ایک دور کے ایک علاقے کے جوانوں کو جمع کیا ہے اور ان کو اصل دین اور قرآن سکھاتا ہے۔ کردستان کے ناآگاه لوگوں اور ایران کے دولت خرافی نے یہ کام کیا کہ ان کو کردستان سے بے دخل کیا اور ہجرت پر مجبور کیا۔ حالانکہ وه خود کردستانی ہیں اور اب 6 سال ہوگئے كہ مولویوں کی اس حکومت نے اس کو ناحق اور ظالمانہ طور پر جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ اسی حکومت کے منصوب کرده قاضی نے ان کو 5 سال کے قید کی سزا سنائی ہے۔ ہرچند یہ قاضی کا حکم ظالمانہ اور شریعت کے خلاف تھا، بعد میں اپنی مرضی سے اس سے زیاده عرصہ اس فاضل کو قید رکھا۔”
اسی کتاب سوانح ایام میں برقعی لکھتے ہیں:
“اسلامی جمہوریہ کے نااہل عہدیداران
ہمارے ایک دوست جو کہ علانیہ اور برملا مجھ سے اظہار ارادت کرتا تھا آغا سید خسروبشارتی تھا جو کہ کن و سلقان کے درمان راستی میں جزء حومہ تھران کے پاس بغیر کسی جرم اور عدالت کے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے شہید کر دیے گیے رحمت اللہ علیہ ورضوانہ۔ انہوں نے تو ایک بار میری دفاع میں ایک مقالہ میں حجت الاسلام متانت صاحب کو جواب دیا تھا جو کہ روزنامہ اطلاعات شمارہ نمبر 13 مورخہ 59 18۔4 کو شائع ہوا تھا”۔
یاد رہے ان کو پاسداران انقلاب اٹھا کر تفتیش کے بہانے لے کر گئے تھے اور بعد میں اس مقام سے ان کی لاش ملی تھی، جس پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے کافی احتجاج کیا اور آج بھی ان کا نام بے گناہ قتل شدگان کی فہرست میں ملتا ہے۔
جب آیت اللہ برقعی نے دیکھا کہ جس اسلامی نظام کی خاطر ہم نے جدوجہد کی اس کا بدترین نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور اسلام کے نام پر ہر جگہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ مردوں اور عورتوں کو جیلوں میں بناجرم سزائیں دی جا رہی ہیں بلکہ ان کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو ان کو اس پر بہت افسوس ہوا، فرمایا کہ اب میں اللہ سے دعا کرتا ہون کہ مولویوں کو کبھی حکومت نہ دے، کیونکہ یہ کسی ڈکتیٹر سے کم نہیں اور لوگوں کے تمام حقوق چھین لیتے ہیں۔
“ہمارے زمانے میں کچھ لوگ سیدنا علیؓ کے شیعہ کے دوعی کر کے فقیہ کے نام پر حکومت کرتے ہیں، یہ کسی ڈکٹیتر سے سو گنا بد تر حکمران ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ لوگوں کو بغیر کسی شرعی جرم اور صحیح عدالت کے قتل کرتے ہیں یا زندان میں ڈالتے ہیں۔ حالت اس قدر بدتر ہیں کہ جو شخص حکمران کے خلاف کچھ برملا بولے یا ان کے کسی کام پر اعتراض کرے تو اس کو بے دین اور مرتد قرار دیا جاتا ہے اور اس کا خون حلال قرار دیا جاتا ہے۔
سوانح ایام برقعی،ایران کی موجودہ صورتحال پر اشعار
پھر آپ نے چند اشعار اس موقع پر تحریر کیے ہین جس کا مفہوم درج ذیل ہیں:
“میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک محفل میں تھا، وہ ایک آگاہ اور نیک دین دار دوست تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اسلام کے متعلق کیا جانتے ہو کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا اسلام وہ دین ہے جس میں ملائیت نہیں، کشیش اور احبار اس دین میں نہیں۔ مصطفٰیﷺ مجتہد نہیں تھے امّی تھے، اور مرتضٰی بھی مجتہد نہیں تھے یہ دونون بیکار شخص نہیں تھے کہ فارغ بیٹھ کر لوگوں کی کمائی کھائے بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کر کے کماتے اور کھاتے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا لوگوں کا رہنما کون ہے، کس کو ہونا چاہیے؟ دین کی حفاظت کون کرے کس کی ذمہ داری ہے؟ اس نے جواب دیا، دین کا رہنما قرآن ہے اور دین کی حفاظت ہر کسی پر واجب ہے۔ دین میں ہر شخص پر جو دین کا طالب ہے اس پر علم حاصل کرنا عین واجب ہے۔ ہادی دین نے دین فروشی کہاں کی تھی، دین بیچنے والا لوگوں کا لیڈر نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ دین کوئی بیچنے کی چیز تو نہیں کہ اسے بیچا جائے اور اس کی کمائی سے کھائے۔ دین کو سیاست میں آنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ کہ اس کو بیچا جائے اور اپنی دکانداری چمکائے۔ سیدنا علیؓ سے بڑھ کر تو کوئی حکمران نہیں تھا لیکن ان کے نزدیک حکومت کی قیمت ایک جوتی سے بڑھ کر نہیں تھی اور وہ دلوں پر حکمرانی کرتے تھے نہ کہ ملکوں بلغاریہ،حجاز یا ہند پر حکومت نہیں کرتا تھا۔ میں نے اس سے علماء کے کردار کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ لوگوں کے گردن پر سوار بوجھ ہے۔ اس کا کام کیا ہے؟ اس نے کہا ملاؤں کا کام لوگوں کو قتل کرنا ہے۔ ان کی تکفیر اور ان کو قید کرنا ہے۔ وہ غرور کے نشے میں ہے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ حزب اللہ کا مطلب کیا ہے؟ اس نے جواب دیا اس کا مطلب تاتاریوں کے دور اور قانون کو زندہ کرنا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مملکت کی حالت کیا ہے، اس نے کہا کہ ایک بیمار کی طرح ہے، جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو۔میں نے اس سے پوچھا کہ انقلاب کے ہم پر کیا اثرات ہیں؟ اس نے کہا ہمارا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ہم اس کی وجہ سے بیدار ہو گئے ہیں۔۔ لوگوں نے ملاؤں کو دل سے منتخب کیا تھا اور وہ خیال کر رہے تھے کہ حقیقت میں ان کو آزادی ملے گی۔ لیکن وہ گڑھے میں گر گئے،کنواں میں پڑ گئے اور ہماری مشکلات سو گنا بڑھ گئی۔ غلطی سے دام میں پھنس گئے لیکن بیداری اور چوکنا ہوگئے اب میں نے اس سے پوچھا کہ نجات کب ہوگی؟ اس نے کہا کہ اگر تم اللہ سے دعا تضرع و زاری کرو تو نجات ملے گی اور تمہیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ان مشکلات اور آفات سے نجات دے۔”
جمہوری اسلامی کے نااہل عہدیدار کے نام سے لکھتے ہیں کہ:
”یہ جمہوری اسلامی کی اصطلاح بنو امیہ سے بھی بدتر ہے۔ نوجوانوں کی ایک تعداد جو جاہل ہیں اور اسلام و قوانین اسلام کا ذرہ برابر معلوم نہیں یہ لوگوں پر مسلط ہوگئے ہیں۔ یہ نوجوان کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے بلکہ جو ان کو ان کے بڑے یا لیڈر کہتے ہیں اس کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کو کسی قسم کی اذیت و ایذا سے دریغ نہیں کرتے۔ خود کو اسلام کا پاسدار محافظ کہتے ہیں۔ یہ مغرور ہیں اور دھوکے میں ہیں کہ ہم حزب اللہ ہیں اور ہم ہی اسلام کو نافذ کرنے والے ہیں۔ جو ہمارے بڑے حکم دینگے ہم اس کو بجا لائیں گے چاہے اس حوالے سے جو کرنے کا کہا جائے اسے درست سمجھتے ہیں۔
میری تو ہمیشہ خواہش تھی کہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے اور اس کی خاطر سالہا سال میں نے کوشش اور مبازرہ کیا لیکن اب دعا کرتا ہوں کہ مولویوں کی حکومت قائم نہ ہو کیونکہ اخوند اسلام اور حکومت اسلامی کے معنیٰ سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر چھپاتے ہیں تاکہ اپنا فائدہ گھاٹے میں نہ پڑے۔ علمائے سیستان و بلوچستان خاص طور پر عبدالرحیم ملازادہ صاحب جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ بھی حکومت کے عہدیداروں کے شر سے محفوظ نہیں۔ اس کے علاوہ آغا آل اسحاق بھی لمبے عرصے سے جیل میں تھا یاد رہے خمینی صاحب کے نظام حکومت کی تنقید پر ان علامہ اسماعیل آل اسحاق کی کتاب مشہور ہے۔ مشہور اصلاح پسند شیعہ عالم رہے آغا قریشی طالشی صاحب جن کے پاس میری ایک کتاب تھی اور طالش میں اہل سنت کے لیے ایک مدرسہ بنانے کے جرم میں عرصے سے قید تھا،مزید آغا زنگنہ اصفہانی، آغا محمد تقی خجستہ و آقای عطائی لنگہ ای اور ورجان کے سابق امام جمعہ آغا حسینی قمی اور بہت سارے علماء جیل میں بند تھے اور تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اللہ ان سب کو اجر دے اور حکومتی کارندوں کے شر سے محفوظ رکھے۔”
برقعی اکثر جیل کے عہدیداروں سے اپنا جرم پوچھتے تو یہی جواب ملتا کہ ہمیں آپ کا جرم معلوم نہیں اوپر سے آرڈر ہے تہران سے۔
اور جیل کے اندر جو حالت تھی وہ یہ ہے:
خمینی پر تنقید
چند عقائد
ایک مغالطہ
اخلاق عالیہ
دروس قرآن
مبارزہ با خرافات کا عہد
مناطرے کا چیلنج
فقہی تفردات
قرآن فہمی کا اثر
مسجد گزر وزیر دفتر
اشتہارات
حج پر سفر
قلمداران اور طباطبائی کے ساتھ
قاتلانہ حملہ
علاقہ بدری
ان پر تحقیقی کام
شاہ ایران کے خلاف اقدامات
کسروی
اپنی مظلومیت پر اشعار
وفات
آپ نے سنہ 1993 عیسوی میں وفات پاگئے