Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قم رحمہ اللہ

نام و نسب

آپ کا نام سید ابوالفضل ابن الرضا ہے۔

آپ سنہ 1908 میں قم (ایران) میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد کا نام سید حسن تھا ،جو ایک مجتہد سید احمد کے بیٹے تھے۔جب کہ والدہ کا نام سکینہ سلطان تھا جو ایک مشہور عالم کی بیٹی تھیں۔ آپ کا نام نسب اور شجرہ نامہ یہ ہے

ابوالحسن بن حسن بن احمد بن رجی الدین بن میر یحیی بن میر میران بن امیران الاول ابن میر صفی الدین بن میر ابوالقاسم بن میر یحیی بن السید محسن الرضوی بن رضی الدین بن فخر الدین علی بن رضی الدین حسین پادشاہ بن ابی القاسم علی بن ابی علی محمد بن احمد بن محمد الاعرج ابن احمد بن موسی المبرقع بن امام محمد الجواد علیہ السلام۔

پس آپ کا نسب امام موسی مبرقع تک پہنچتا ہے اس لیے آپ کو برقعی کہا جاتا ہے۔اور چونکہ امام رضا تک نسب پہنچتا ہے اس لیے آپ کو ابن الرضا یا رضوی بھی کہا جاتا ہے۔شناختی کارڈ پر آپ کا نام ‘ابن الرضا’ اسی لیے لکھا ہوا تھا۔

آپ کا خاندان قم میں سالوں سے رہ رہے تھے۔اسی لیے قُم سے نسبت کی وجہ سے اور حوزہ علمیہ قم سے علم حاصل کرنے کی بنا پر آپ قمی کا لقب بھی آپ استعمال کرتے تھے۔

تعلیم

آپ کے والد چونکہ ایک بہت غریب آدمی تھے جو محنت مزدوری کر کے اپنا گزرا کر لیتے تھے اس لیے مالی مشکلات کی وجہ سے وہ برقعی کی تعلیم کے حوالے سے قابل قدر انتظامات نہیں کر سکتے تھے ۔چنانچہ آپ کی والدہ کو بہت شوق تھا کہ برقعی کو لکھنا پڑھنا سکھائیں اسی لیے اس کی پڑھائی کا بندوبست کرنے کے لیے انتہاء درجے کی کوشش کر کے کچھ پیسے جمع کیے تھے جو وہ برقعی کے استاد کو دیتے تاکہ وہ برقعی کو پرھا سکیں۔برقعی فرماتے ہیں کہ میری ماں بہت بہادر اور دلیر خاتون تھیں ،جب میں پندرہ سال کا تھا تو ایران میں پہلی جنگ عظیم کے دوران روسی افواج داخل ہوگئی تھی اور قحط سالی تھی لیکن اس زمانے میں بھی ان کی والدہ نے ان کو اس مشکل وقت مین بھی تنگی سے بچایا۔ برقعی چونکہ تنگ دست تھا اس لیے وہ باقاعدہ طریقے سے پڑھ نہیں سکا لیکن کسی نہ کسی طرح پڑھنا لکھنا سیکھ گئے۔ آپ مکتب جاتے اور وہاں معلم دوسرے بچوں کو سکھاتے وہ سننے کے لیے بیٹھ جاتا اور اسی طرح سیکھتا رہا۔برقعی کے لیے معاشی حالات کی وجہ سے کاپی کاغذ خریدنا ممکن نہیں تھا اسی لیے مختلف دکاندار یا مصالحے بیچنے والے جو کاغذات ردی کے طور پر پھینکتے برقعی ان کو اٹھا لیتا اور اس پر لکھتے رہتا۔بہرحال نوجوانی کی عمر میں برقعی نے فارسی لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سیکھ لیا تھا۔

حوزہ میں تعلیم

برقعی کہتے ہیں کہ انہی ایام مین شیخ عبدالکریم حائری یزدی اپنے خاندان کی دعوت پر قم آئے اور آراک کے مقام پر ٹھرے تھے انہوں نے طلباء کے لیے ایک مدرسہ کھولا، اس وقت برقعی بارہ سال یا دس سال کے تھے انہوں نے اس مدرسہ جانے کا عزم کیا اور مدرسہ رضوی میں داخل ہوگئے۔ یہ مدرسہ قم کے پرانی مارکیٹ میں موجود تھا۔آپ کی والدہ کے چچا زاد بھائی وہاں کے پرنسپل تھے اسی لیے انہوں نے الگ کمرے کی درخواست کی،لیکن ان کی کم عمری کے سبب بڑی مشکل سے مان گئے اور آخر ایک میٹر کا کمرہ جس کی کھرکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور کچرے پاس ہی ہوتے تھے،برقعی کو وہاں جگہ ملی۔ لیکن جیسا کہ اس کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے اس وجہ سے موسم گرما کی گرمی اور سرما کی سردی سے خود کو بچانا برقعی کے لیے مشکل ہوگیا،ان کی امی نے ان کے لیے ایک کارپیٹ کا بندوبست کیا جو انہوں نے کمرے میں بچھایا۔ دن رات برقعی اب اس کمرے میں پڑھنے اور مطالعہ میں مصروف رہتے ۔ دو سال تک برقعی اسی کمرے میں رہے،چونکہ مالی تنگی کی وجہ سے کوئی رشتہ دار برقعی کے لیے پیسہ خرچ کرنے پر راضی نہ تھے۔برقعی نے تاجروں اور ریڑھی بانوں کے ساتھ چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹا کر کچھ پیسے کما لیے۔یہان تک کہ اللہ کے فضل و کرم سے برقعی نے گرامر اور لغت میں مہارت حاصل کر لی۔انہون نے المغنی اور الجامی بھی پرھ لی۔ یہاں تک کہ انہوں نے حاجی عبدالکریم یزدی وغیرہ ممتحنون کے سامنے امتحان بھی نمایاں نمبر لے کر پاس کر لیا۔اور اس کے بعد مجھے ہر مہینے پانچ ریال بطور وظیفہ ملنے لگا۔یہاں تک کہ یہ رقم برقعی کے لیے ناکافی تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ عبدالکریم حائری سے کہ کر ان کا وظیفہ بڑھایا جائے اور ان کا وظیفہ بڑھا دیا۔اور ان کو آٹھ ریال وظیفہ ملنے لگا۔اور برقعی نے اپنی تعلیم جاری رکھی یہاں تک کہ سطح کا امتحان پاس کیا۔برقعی نے فقہ اور اس کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد آپ اپنے جونیئر طلباء کو مختلف کتب بھی پڑھانے لگے۔اور برقعی نے کتب کی عدم دستیابی کے باعث اپنے ذہن سے کام لے کر جو چیزیں یاد تھیں فقہ،گرامر،منطق کی کتب ان کو پڑھائیں یہاں تک کہ آپ حوزہ میں مدرس یا استاد بن گئے۔اور 20 سال تک قم کے حوزہ میں پڑھاتے رہے۔

شاگردوں کے نام

جیسا کہ برقعی نے اپنی سوانح حیات میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیس (20) سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد (مدرس) پڑھایا۔ اور انقلاب ایران کے بعد ان کے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔ان میں سے چند شاگر یہ ہیں

1-شیخ محی الدین انواری

2-شیخ محمدی گیلانی

3-شیخ لاہوتی

4-شیخ محمد رضا مھدوی کنی

5-شیخ عباس محفوظی

6-شیخ سید رضا برقعی

یہ صرف ان چند شاگردوں کے نام ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ قم میں ان کی شاگردی اختیار کی۔ورنہ ان کے شاگرد جو حوزہ میں ان سے فیض حاصل کرتے رہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ان کے علاوہ بھی ان کے مختلف مقامات پر شاگرد رہے۔البتہ ایک شاگرد شیخ وند کا ذکر برقعی نے کیا ہے کہ جس کو برقعی نے چند توصیفی کلمات لکھے تھے بعد میں اس نے ان کلمات کے ذریعے دعوی کیا کہ آیت اللہ برقعی نے مجھے اجازہ اجتہاد دیا ہے اور اس کا غلط استعمال کرنے لگے۔اور بزعم خود اس مجتہد نے برقعی کے دوست استاد و فقیہ جناب مصطفی حسینی کے خلاف اپنے بغض و عداوت ظاہر کر دی۔اور برقعی سے استفادہ کرنے والوں میں سے وہ دوست جنہوں نے یزد میں شہر بدری کے دوران بھی ساتھ نہیں چھوڑا ان میں آقای جمال الدین رشیقی اور آقای حسین علیزادہ مقدم قابل ذکر ہیں۔

اولاد

آیت اللہ برقعی کو اللہ تعالی نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ان کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا اور ان کی رہائی اور اخلاقی مدد بھی جاری رکھی۔ان کے نام یہ ہیں:

1- محمد حسن برقعی

2-محمد حسین برقعی

3-فاطمہ برقعی

4-زہراء برقعی

5-انیسہ برقعی

آپ کے اساتذہ

آپ کے اساتذہ کے نام یہ ہیں:

1- شیخ ابولقاسم کبیر قمی

2- حاجی شیخ محمد علی قمی کربلائی

3- آقای مرزا محمد سامرائی

4- سید محمد حجت کوہ کمری

5- حاجی شیخ عبدالکریم حائری

6- حاجی ابوالحسن اصفہانی

7- آقائی شاہ آبادی

8-آغا بزرگ تہرانی

9- عبدالنبی نجفی عراقی

10- آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی

11- سید شہاب الدین مرعشی نجفی

12- محمد بن رجب علی تہرانی

13- آغا خراسانی

رسالہ عملیہ

آیت اللہ برقعی نے جو رسالہ عملیہ یا توضیح المسائل لکھی ہے وہ اپنے دور کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔آپ نے اپنے رسالہ عملیہ کا نام “احکام القرآن” رکھا۔جس مین تمام فقہی مسائل کو قرآن مجید کی آیات سے استنباط کیا۔اس کتاب میں انہوں نے مختلف فقہی مسائل کے علاوہ کافی مسائل عقائد سے متعلق بھی ذکر کیے اور توحید و شرک کے متعلق آیات کو مفصل بیان کیا ہے۔اس رسالہ کو بقول خود آیت اللہ برقعی بہت سے ملاؤں نے پڑھنا اور دکانوں پر رکھنا اور بیچنا یا خریدنا حرام قرار دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کتاب یا رسالہ عملیہ میں بیان کردہ عقائد ہمارے مسلک کے برخلاف ہیں۔اس رسالہ عملیہ کے شروع میں آیت اللہ برقعی نے اپنا اجازہ اجتہاد بھی نتھی کیا تھا جو انہیں آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی نے درجہ اجتہاد پہنچنے پر دیا تھا۔اور اس کا عکس ہم نیچے پیش کرتے ہیں۔ اس رسالہ کے سرورق پر آیت اللہ برقعی کو

”مجتہد مجاہد علامہ برقعی"

کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

فدائیان اسلام

برقعی کے متعلق جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ فدائیان اسلام کے بانی اراکین میں سے تھے۔ فدائیان کے لیے آپ نے کافی خدمات انجام دیں۔ فدائیان کے ارکان کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں شریک رہے۔ یہی وجہ تھی کہ آیت اللہ بروجردی آپ کے سخت خلاف ہوگئے اور حوزہ علمیہ قم سے برقعی کو نکالنے کے لیے سازشیں کرنے لگے، شاید یہی وجہ تھی کہ بالآخر برقعی کو حوزہ علمیہ قم چھوڑنا پڑا کیونکہ ان کی مستعدی ،تحریکوں میں شرکت اور بیداری امت کے لیے تحریریں حوزوی منہج سے مختلف لگنے لگی تھی۔

حکومت جمہوری اسلامی کتاب

جیسا کہ ہم نے کہا کہ برقعی نے فدائیان اسلام کا ساتھ دیا ،اور ان کے ساتھ مل کر معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کا عزم طاہر کیا۔اور دوسری طرف برقعی کی شدید خواہش تھی کہ ایک اسلامی حکومت ایران میں قائم ہو جائے۔انہون نے مختلف علماء اور عوام سے مل کر اس کے لیے انتہائی کوشش کی۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی کتاب “اسلامی جمہوری حکومت” نامی کتاب ہے۔ اس کتاب میں برقعی نے اسلامی حکومت کے متعلق انتہائی اہم ضروریات و معلومات جمع کیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ خمینی کی جب حکومت اسلامی کے لیے جدوجہد جاری تھی تو بہت سے اشاعتی مراکز نے برقعی کی اجازت کے بغیر یہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے مفت تقسیم کیں،اور سر ورق پر خمینی کی تصویر لگائی اور چند صفحات میں اپنی مرضی سے تحریف کی تھیں،اس کا ذکر سوانح ایام میں برقعی نے کیا ہے۔

اجازت نامہ

آیت اللہ برقعی کو کافی علماء یا مجتہدین نے اجازت اجتہاد سے نوازا۔ان میں سے آپ کے چند اہم اساتذہ جنہوں نے اجازت دیئے ان کی تعداد تقریبا پندرہ ہے۔آیت اللہ برقعی نے اپنے رسالہ عملیہ میں آیت اللہ سید اصفہانی کی جانب سے اپنے لیے جاری شدہ اجازت اجتہاد کا عکس شائع کیا تھا۔دیگر علماء جنہوں نے برقعی کو اجازت اجتہاد دیا وہ یہ ہیں۔

برقعی کے متعلق مرعشی صاحب نے بالکل درست کہا:

” اللہ تعالی کے نام سے۔حضرت آقای علامہ برقعی دامت افاضاتہ العالیہ،ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے۔اور مشہور قول کے مطابق (کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے)،انہون نے بہت اچھے مطالب مقام امیرالمؤمنین اور دوسرے آئمہ ؑ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ” عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہےاور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والا گروہ نے ان کے متعلق کیا ہے،انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پرھی۔اور اپنا ایمان خراب کیا ہے۔اور معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں (جیسا کہ عقلا کو معلوم ہے) اور آئمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے۔اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ فقیہ پر ڈالا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:

خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی ،تاریخ شہر ذی قعدہ 1389

کتب کے نام

آیت اللہ برقعی نے شروع شروع میں شیعہ مسلک کی اشاعت کے حوالے سے کافی کتب لکھیں۔اور آپ نے ایسی کتب لکھیں جو کہ بڑی تعداد میں شیعہ مبلغین نے پھیلا دیئے۔ مثلا آپ کی کتاب عقل و دین اور گلشن قدس اور کلمات قصار و دیگر آئمہ اہل بیت کے فرمودات پر مشتمل کتب بہت مقبول رہیں۔

آپ کی زندگی کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں،آپ کی زندگی کا پہلا حصہ ایک متعصب اثناء عشری شیعہ کی طرح گزرا آپ نے شیعہ حوازات قم و نجف میں پڑھنے کے بعد حوزوی خرافات میں مبتلا تھے۔ اور اسی لیے متعصب فرقہ پرست کی طرح اپنے مسلک کے دفاع کے لیے مگن ہوگئے۔ چنانچہ اس دوران آپ نے مختلف شعری مجموعے لکھے نیز شیعت کے دفاع کے ساتھ ساتھ احمد کسروی وغیرہ کی جانب سے شیعت پر کیے گیے حملوں کے خلاف دفاعی کتب لکھیں۔

آپ کی زندگی کا دوسرا دور چالیس سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے،اس عمر میں آیت اللہ برقعی نے جیسا کہ خود فرمایا اپنی سوانح ایام میں کہ میں اس دوران قرآں میں تدبر کرتا رہا اور مجھ پر یہ حقیقت اور راز کھل گئی کہ میں اور ہمارے مسلک کے علماء خرافات میں مبتلا ہیں۔چنانچہ اس حوالے سے ان کی کتاب سے اقتباس پیش خدمت ہے:

آپ کی عمر کا آخری حصہ یا ستر سال سے وفات تک کا عرصہ بہت زیادہ مصائب و آلام اور آزار مین گزرا،اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے شیعہ اثنا عشری مسلک میں موجود خرافات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ ان تمام عقائد کو بھی رد کیا جو ان کے خیال میں اسلام و قرآن کے خلاف تھے۔

چنانچہ اسی ضمن میں انہون نے شیعہ مسلک کی چوٹی کی کتاب الکافی کا رد پیش کیا جو “کسر الصنم یا بت شکن” کے نام سے مشہور ہے۔ شیعہ مسلک میں قبور کی زیارت کے حوالے سے بدعات کے رد میں آپ نے کتاب “خرافات وفور در زیارت قبور” لکھی۔اور اس کے ساتھ ساتھ “تضاد مفاتیح الجنان بایات قرآن” نامی کتاب لکھی جس میں شیعہ مسلک میں موجود من گھڑت دعاؤں کا نہ صرف رد کیا بلکہ اماموں کے متعلق غلو کے رد کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے دو سو صفحات میں توحید عبادت کو مکمل بیان کیا۔، مزید آپ نے یہ کیا کہ تضاد "مذہب جعفری با اسلام و قرآن" اور "نقد المراجعات" نامی کتب لکھیں اور متعہ کے حرام ہونے پر آپ نے “تحریم متعہ در اسلام" نامی کتاب لکھی۔بس پھر کیا تھا ایران کے بڑے بڑے مجتھد ان کے پیچھے پڑ گئے اور یہ مشہور ہو گیا کہ برقعی وہابی ہو چکا ہے یا سنی بن گیا ہے۔برقعی پر مزید تہمت یہ لگی کہ برقعی حدیث غدیر اور حدیث ثقلین کا منکر ہو چکا ہے اور دشمن اہل بیت بن چکا ہے۔

حکومت ایران نے یہ حالت دیکھی تو برقعی کی کتابوں پر پابندی لگائی اور برقعی کے خلاف فرد جرم عائد کیا اور 80 اسی سال سے زیادہ عمر کے اس بوڑھے عالم کو جیل بھیج دیا ایک تاریک کوٹھری میں تنہا ان کو رکھا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں “اسلامی جمہوریہ ایران” کے عہدیداروں اور قاضیوں کی طرف سے برقعی پر ڈھائے گئے۔جیل کے اندر ملاؤں میں سے بعض نے برقعی کو دھمکی دی کہ تم مرتد ہو چکے ہو ،چنانچہ ان کو جیل کے اندر ہراسان کیا جاتا اور کئی کئی دنوں بعد ان کو بالآخر روشنی دیکھنا نصیب ہوئی۔جیل مین انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان کو سخت غذائیں دین کیونکہ برقعی کے دانت گر چکے تھے اس لیے ان کی تکلیف کو برھانے کے لیے اسی غذائیں دی جاتیں۔

ان کی تمام کتب جو انہون نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار مین لکھین ان کے نام یہ ہیں:

مرات الایات یا راہنمای مطالب قرآن

کلمات قصار حضرت سید الشھداء

گنج گھر 1500 سخن از پیغمبر

گنج حقائق کلمات قصار امام صادق

رسالہ حقوق در حق خالق و مخلوق

عشق و عاشقی از نظر عقل و اسلام

حقیقۃ العرفان

التفتیش

فہرست عقائد عرفاء و صوفیہ

فہرست عقائد شیخیہ

فہرست عقائد حقہ اسلامیہ

عقل و دین جلد اول توحید

عقل و دین جلد دوم نبوت و امامت و معاد

خزینہ جواہر کلمات امام باقر

شعر و موسیقی از نظر عقل و اسلام

گلشن قدس یا عقائد منظوم

پاسخ بکسروی

دلیل حکم محاسن و شارب

سرگزشت مرحوم شہید نوری

فریب جدید

حواشی بر مکاسب

حواشی بر صلوۃ ہمدانی

مثنوی منطقی

فقہ استدلالی

فہرست مجالس المؤمنین

مجموعہ از اشعار

مجموعہ ای از اخلاق

تراجم الرجال دس جلد

تراجم النساء دو جلد

رسالہ پیش آھنگی

حواشی بر کتب حدیث

اربعین

جبر و تفویض

تحفۃ الضوی

ترجمہ مختار ثقفی

جدول در ارث

ترجمہہ بعضی از دعاھا

ترجمہ بعضی از وسائل

حافظ شکن

ترجمہ مقداری از توحید صدوق

ادعیۃ المعتبرہ

اسلام دین کار و کوشش

حدیث الثقلین

رسالہ احکام القرآن

ان کتب کے بعد برقعی نے جو کتب لکھیں وہ اپنے مسلک کی اصلاح کی خاطر لکھیں جن میں سے چند یہ ہیں:

اعلان عام

جب مخالفین کی جانب سے آیت اللہ برقعی پر وہابی یا گمراہ ہونے اور دشمن اہل بیت کہنے یا مرتد قرار دینے کے اعلانات جاری ہوئے تو آیت اللہ برقعی نے تمام اپنے وقت کے مجتہدین کو مناظرہ کی دعوت دی اور کہا کہ کسی پبلک مقام پر مناظرہ کرتے ہیں اور اگر میرے عقائد غلط ہیں تو میں ان سے رجوع کروں گا اور اگر آپ لوگوں کے عقائد غلط ہیں تو آپ ان سے دستبردار ہو جائیں لیکن کسی مجتہد مین یہ ہمت نہیں تھی کہ آیت اللہ برقعی سے مناظرہ کر سکیں۔بلکہ آپ کو ہمیشہ گالیوں ،تہمتون اور دھمکیوں سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی جس کو آپ نے مسترد کر دیا۔

قید و بند کی صعوبتیں

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر مختلف مجتہدین کو قید و بند کی سہولتیں دی جاتی رہی ہیں جیسے آیت اللہ منتظری وغیرہ۔کچھ مجتہدین کو تشدد کر کے قتل بھی کیا گیا۔اور آیت اللہ آشوری وغیرہ کو مختلف بہانوں سے سزائے موت دی گئیں۔آیت اللہ صالھی نجف آبادی کو اپنے نظریات کی وجہ سے آخر عمر تک جیل میں بند رکھا گیا اور آج بھی بہت سے مجتہدین علماء اور دیگر مسالک کے لوگوں کو محض عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔آیت اللہ برقعی کو بھی ان کی تجدید و اصلاح پر مبنی کتب لکھنے کی وجہ سے کئی مرتبہ جیل ڈالا گیا ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے جس کا ذکر آیت اللہ برقعی نے اپنی “سوانح ایام” میں کیا ہے:

مولویوں کے لیے مخصوص جیل انفرادی کوٹھریوں سے کئی لحاظ سے بدتر تھا۔کیونکہ وہاں پر مٹھی بھر مولوی جو متعصب، مغرور اور کم عقل تھے ان کو خیانت کے جرم میں جیل میں ڈالا گیا تھا۔مثلا ایک اخوند جو کہ امام جمعہ تھا اور کئی ملین(لاکھوں) پیسوں کے فراڈ کی وجہ سے وہاں تھا۔یا فلاں اخوند قاضی تھا اور چند لوگوں کو بغیر کسی جرم ثابت ہونے کے سزائے موت دی تھی۔یا رشوت لی تھی یا دیگر فلاں فلاں کاموں کے یہ مرتکب ہوئے تھے۔

لیکن جیل میں جو کھانا دیا جاتا تھا ،جوان لوگ تو کھا سکتے تھے۔لیکن میرے دانت بڑھاپے کی وجہ سے موجود نہیں تھے۔اور میرا قوت ہاضمہ بھی اچھا نہیں تھا۔میں بہت تکلیف اور درد کے ساتھ یہ کھا لیتا تھا۔اور موٹی روٹی بھی میرے لیے درد دل اور بے سکونی کا سبب تھا۔میں نے پراٹھے تھوڑا خریدتا اور اس کو میں کھاتا تھا۔

ایک عرصے تک میں پہلے مہینے میں تنگ کوٹھری میں مجھ کو رکھا گیا۔میں نے کئی بار ان سے کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی۔یہاں تک کہ میری طبعیت شدید خراب ہوگئی۔مجھے ایک کپڑا(پٹی) دیا اور مجھ سے کہا کہ اس کو اپنی انکھوں پر باندھ لو۔میں نے وہ کپڑا(پٹی) آنکھوں پر باندھی۔تو اس کے بعد وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے ۔بہت دیر بعد انتظار اور کھڑا رہنے کے بعد ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا۔اور نسخہ لکھ کے دیا۔اور وہ مجھے دوبارہ میرے سیل میں واپس لے آئے۔اور تین روز بعد ایک سپاہی دوا لے کے آیا،اور کوٹھری کے پشت پر رکھا۔میں نے کہا کہ دروازہ کھولو اور مجھے دوا دے دو۔اس نے کہا کہ مجھے دروازہ کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔اور تین روز تک دوا وہاں پڑی رہی۔پھر ایک ہمدرد سپاہی آیا اور اس نے مجھے دوا دے دی۔

بے شک میں نے اس ملت کی خدمت اور ان کی بیداری اور خرافات سے ان کو نجات دینے کے لیے ہی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن انہوں نے شکریہ ادا کرنے کی بجائے مجھ پر ظلم کیا اور دشمنی نکالی۔آج کا زمانہ ہی ایسا ہے کہ خادم کو روندتے ہیں اور خائن کو یہ سر پر اٹھالیتے ہیں۔ملاؤں نے اس دوران مجھ پر بہت سارے ظلم ڈھائے۔پھر یہ عرصہ گزرنے کے بعد مجھے مولویوں کے جیل میں لے گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مولوی نما لوگوں کے ایک گروہ کو جنہوں نے ملاؤں کی حکومت(اسلامی جمہوری ایران) سے خیانت کی تھی اس وجہ سے یہ مولوی جیل میں تھے۔

اسی جیل میں کچھ بدعتی اخوند (مولوی)تھے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ لوگ میرے جانی دشمن تھے اور اگر وہ مجھے قتل کرنے کی طاقت رکھتے تو مجھے قتل کر دیتے۔کئی مرتبہ جیل میں انہوں نے مجھ پر حملہ کیا،مجھے مارا اور پیٹا لیکن دوسرے لوگوں نے درمیان میں آکر مجھے بچایا اور ان کو روکا۔

میرے لیے یہ بہت سخت اور مشکل دن تھے۔ان میں سے ایک کا نام تو اچھا تھا لیکن بہت بدکردار اور مازنداران کے رہنے والے اور جاہل و متعصب اور خرافاتی تھے۔ایسے لوگوں کے ساتھ میں نرمی اور عاقلانہ گفتگو بھی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان لوگوں سے بحث کر سکتا تھا کیونکہ ان میں ادب ہی نہیں تھا اور مجھے یہ گندی گالیاں دیتے تھے اور کسی قسم کی اذیت اور تکلیف مجھے پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔اور جتنا ان سے ہوتا یہ لوگ غیبت کرتے اور تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔اس نے آغا کاظم شریعتمداری کی مجلس ترحیم برپا کی تھی ،اس کو نام نہاد اسلامی جمہوریہ کے قاضیوں نے چند سال کے لیے قید کی سزا سنائی تھی۔

دوسرا اخوند(مولوی) اس کا معاون تھا جو کہ جیل میں اس کی وجہ سے میرے لیے دوگنا تکلیف کا سبب بن گیا ،اور یہ لوگ دوزخیوں کی طرح تھے جیسے کہ اللہ نے فرمایا:

تخاصم أهل النار

یہ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے تھے اور گندے الفاظ بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے تھے لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام مولوی(اخوند) میرے خلاف متحد تھے۔حالانکہ وہاں موجود ان مولویوں میں سے کسی نے بھی میری ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی،اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ میں کیا کہتا ہوں اور میرے عقائد کیا ہیں۔اس کے علاوہ یہ لوگ جیل کے اندر ایک دوسرے کی جاسوسی بھی کرتے تھے اور کوئی شخص سادہ گفتگو کرنے کی بھی جرات نہ کرتا تھا۔

جیسا کہ میں پہلے ہی ذکر کرچکا ہوں کہ جیل میں دیاجانے والا کھانا جوان قیدی تو کھا سکتے تھے لیکن میں ایک (اسی 80 سال کا)بوڑھا بیمار شخص یہ کھانا نہیں کھا سکتا تھا،اسی لیے بہت زیادہ تکلیف اور بے سکونی کے ساتھ میں یہ اوقات بسر کرتا تھا۔اور اس تمام عرصے میں میں جیل میں بیمار رہا۔اور میں بہت ساری بیماریوں جیسے کمر درد،پاؤں کا درد،پیشاپ کی تکلیف،اور جلد کی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ایک مرتبہ میں اس قدر شدید بیمار ہوا کہ دوسرے مجھے لے کے نہیں جاسکتے تھے اور میں سکرات موت کی حالت میں تھا۔مجھے انہوں نے اسٹریچر پر رکھا اور ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑ رکھا تھا۔مجھے چھے(6) گھنٹے کے بعد کسی قدر طبعیت میں بہتری محسوس ہوئی ،اور مجھے واپس جیل میں لے آئے۔اور کچھ موٹی روٹی اور دو کھیرے لے آئے لیکن میں اس کو کھا ہی نہیں سکا۔یہ تھی اس جیل کی بدترین حالت کی ایک جھلک۔

اس بار جیل میں قید رہنے کے دوران اور اس سے پہلے بھی جب میں قید رہا مجھے کئی بار دھمکی دی گئی کہ مجھے سزائے موت دی جائے گی۔جیسے ایک مرتبہ مجھے اسد اللہ لاجوردی کے سامنے پیش کیا گیا۔اس سے ملاقات کے وقت جب اس نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ تمہیں موت کی سزا دینی چاہیے ،اور میں تمہیں سزائے موت دونگا۔

میں نے جواب میں کہا کہ یہ تو بہت بہتر ہوگا فورا تم مجھے سزا دے دو تاکہ میں سکون پا سکوں اور تمہاری اذیتوں سے نجات پاؤں۔اور اس آیت کو میں تم جیسے لوگوں کے متعلق ہی سمجھ کر پڑھتا ہوں۔

و سكنتم في مساكن الذين ظلموا أنفسهم و تبين لكم كيف فعلنا بهم

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا

٭٭٭یہاں یہ بات واضح کر دیں کہ مولوی لاجوردی کہ جس نے برقعی کو دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں قتل کر دونگا اور سزائے موت دونگا اللہ کی مشیت اور قدرت دیکھیں کہ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اس کو کسی نے اس کے گھر پر ہی ایک قاتلانہ حملے میں بری طرح ہلاک کیا تھا۔اس طرح اللہ نے مظلوم برقعی کی سن لی اور لاجوردی کو دکھا دیا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے،اگر کسی پر ظلم کرو گے تو تم کو بھی ایک وقت دیکھنا ہوگا۔برقعی نے جو آیت تلاوت کی تھی ،وہ اللہ نے سچ کر کے دکھایا ۔٭٭٭

اس دوران مولوی فلاحیان اور دوسرےمولوی علی رازینی نے بھی مجھ سے کہا کہ تم مرتد ہوچکے ہو اور اس کی سزا کے طور پر ہم تمہیں سزائے موت دیں گے۔معلوم ہو کہ ان دو مولویوں کی حالت عام آدمی(عوام) سے مختلف نہیں تھی کیونکہ ان کو بھی معلوم نہ تھا کہ دین اور مذہب میں فرق کیا ہے۔ میں نے اس کے جواب میں کہا کہ تم جلدی سے مجھے قتل کردو تاکہ تم لوگوں کے شر سے میں نجات پا سکوں،لیکن یہ جان لو کہ اللہ نے فرمایا ہے۔

و من يرتدد منكم عن دينه

اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا

اور یہ نہیں فرمایا :

من يرتدد منكم عن مذهبه

اور جو کوئی تم میں سے اپنے فرقے سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص شافعی مسلک کا تھا وہ مالکی مذہب قبول کرے،یا جعفری مسلک کا تھا اس نے زیدی مسلک قبول کیا تو اس کو مرتد نہیں کہا جائے گا۔ایک مرتبہ تو اس قسم کے فہم و دانش کے لوگوں نے بہت سختی سے میرا گلا دبایا کہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ اگرچہ زبان سے خود کو علی رضی اللہ عنہ کے شیعہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں اور عملی طور پر یہ ابن ملجم کے شیعہ ہیں۔تین یا چار مہینے اور کچھ ہفتے گزرنے کے بعد میں نے اپنے بیٹے محمد حسین کو دیکھا،اس کو مجھ سے بالکل بھی ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی۔بعد میں ملاقات کے بعد میں نے اپنے بیٹے سے کہا:

جیل کے عہدیدار کچھ بھی نہیں سمجھتے اور بات نہیں مان رہے،جتنی جلدی ہو سکے قم جا کر آیت اللہ منتظری کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ دو علماء (مجتہدوں) کو تہران بھیجو تاکہ میں ان سے بحث کر سکوں،شاید یہ سمجھ سکیں کہ میں نے کوئی خلاف ِ اسلام کام نہیں کیا ہے۔ساتھ ہی میں نے اپنے دوسرے بیٹے سے کہا کہ شیخ محی الدین انواری سے کہنا کہ مجھ سے ملنے کیلے آجائے۔وہ طالب علمی کے زمانہ میں میرا شاگرد تھا۔اور مجھ سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔اگرچہ وہ مجھ سے ملنے آیا لیکن میرے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا تھا اس میں بالکل بھی فرق نہ آیا۔میں(برقعی) نے بیس (20)سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد(مدرس) پڑھایا۔اور انقلاب ایران کے بعد میرے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔جب میں حوزہ علمیہ قم میں مدرس (استاد)تھا تو یہ مجھ سے پڑھا تھا اور اچھی طرح مجھ کو یہ سب جانتے بھی تھے۔لیکن میں جانتا ہوں کہ غالبا ان کا مقام ان کے انصاف کی عکاسی کرتی ہے،میں نے سب کو پیغام تو نہیں دیا جیسے شیخ محمدی گیلانی،شیخ لاہوتی،شیخ محمد رضا مھدوی کنی،شیخ عباس محفوظی،شیخ سید رضا برقعی۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ حوزہ علمیہ قم میں میرے شاگرد رہے تھے۔

یہ بات بھی بتا دوں کہ جن دنوں میں آیت اللہ منتظری کے نمائندے جیل کے معائنے کے لیے آئے ،تو ان جیل کے عہدیداروں نے ان کو دھوکہ دینے کے لیے مجھے دوسرے چند لوگوں کے ہمراہ کسی اچھی جگہ منتقل کر دی لیکن جب یہ نمائندے واپس چلے گئے تو واپس مجھے پہلی جگہ جیل میں لے آئے۔دوسرے قیدیوں کے برخلاف مجھے قرآن بھی مطالعہ کرنے کے لیے انہوں نے نہ دی،دوسری کتابیں مطالعہ کے لیے مل سکتی تھیں۔ “

کتابوں پر پابندی اور رد عمل

برقعی رحمہ اللہ نے یوں تو بہت ساری کتب لکھیں لیکن ان کی جس کتاب کی وجہ سے صوفیہ،شیخہ اور دیگر شیعہ فرقے ان کے مخالف بن گئے وہ کتاب”التفتیش در مسلک صوفی” ہے۔اس کتاب کے بعد ان کی دوسری کتاب جس کی وجہ سے نہ صرف شیخیہ و صوفیہ ان کے خلاف ہوئے اور ان کے کلاف عوام کو بھڑکایا بلکہ بہت سارے علماء بھی ان کے خلاف ہو گئے،اس کتاب کا نام “درسی از ولایت” ہے۔اس کتاب کے بعد ان پر نہ صرف کفر و فاسق ہونے کے فتوے لگائے گئے بلکہ ان کو دھمکیان دی گئیں اور وہابی مذہب کی تبلیغ کا الزامات بھی لگے۔چنانچہ برقعی کے حق مین چند علماء نے فتوے بھی دئے مگر عوامی تحریک اور دباؤ کے سامنے یہ علماء بھی آخر بے بس ہوگئے۔برقعی خود لکھتے ہیں:

میری کتابوں میں سے جس کتاب کی وجہ سے میرے دشمن بڑھ گئے اور وہ سب میرے خلاف ایک ہوگئے ،وہ کتاب “درسی از ولایت ” تھی۔اس کتاب میں میں نے کچھ حقائق بیان کرنے کی جرات کی تھی۔شیعہ نما لوگ،صوفیہ اور شیخیہ کے شرک سے متعلق حقائق سے پردہ اٹھایا تھا۔اور میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ انبیاء و اولیاء اللہ کے صفات و افعال میں شریک نہین ہیں۔اور انبیاء و اولیاء کی تولیت اور ولایت صرف قانونی و شرعی امور میں ہے۔اور ایجاد خلق و رزق اور ان جیسے دیگر کاموں میں ان کی تولیت اور ولایت کا کوئی تعلق ہی نہیں۔اس کتاب کے شائع ہوتے ہی میرے خلاف ہنگامہ اور شور برپا ہوا کہ خود میرے لیے بھی یہ تعجب کی بات تھی۔اور میرے خلاف مولویوں کی جانب سے تہمت اور بدگوئی کا ایک سلسہ شروع ہوگیا،سبحان اللہ ! یہ کیا ہو گیا؟ آخر میں نے کیا غلط بات لکھ دی؟ کیا میں نے تو اس کتاب میں صرف قرآنی آیات اور قرآن کے موافق احادیث ہی تو لکھی تھی۔صوفیہ و شیخیہ و۔۔۔۔۔کی میرے سابقہ کتابوں کی وجہ مجھ سے عداوت و دشمنی تو سمجھ میں آجاتی ہے،کیونکہ میں نے ان کے بازار یا تجارت کی رونقیں ختم کر دی تھیں،مگر اس دفعہ مجھ سے وہ لوگ دشمنی کر رہے تھے جو خود کو اسلام و ظواہر شریعت کے محافظ و دفاع کرنے والے سمجھتے ہیں۔کیا ان کی تجارت کے دکان بھی میری وجہ سے بند ہو گئے تھے؟

جو بھی ہو بہرحال بہت سے عمامہ پوشوں نے قصیدہ خوان اور ذاکروں اور عوام کو میرے خلاف ابھارا۔اور مجھے کسی قسم کی گالی دینے اور بدگوئی کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

البتہ کتاب کے شائع ہونے کے بعد بعض علماء نے یہ کتاب پڑھی تھی ، کچھ عرصہ تک میری حمایت اور دفاع کی تھی،لیکن جب انہوں نے مذہبی دکانداروں کی جانب سے میرے خلاف کھڑے ہونے والی مخالفت کے سلسلہ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور خاموشی اختیار کر لی۔اور ان میں سے بہت سارے اب مجھ سے یا میری کتاب کا دفاع کرنے اور پہلے جو میرے متعلق اور کتاب کے متعلق کہا تھا وہ دوبارہ بتانے کو تیار نہ تھے۔کیونکہ وہ عوام سے اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے تھے اور میری وجہ سے خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔

جیسے آیت اللہ ذبیح اللہ محلاتی نے لوگوں کے سوال جو میری کتاب ” ولایت کے دروس”کے متعلق تھی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا:

“میں نے حجت الاسلام اور عادل عالم دین جناب برقعی کی کتاب پڑھی ہے،ان کا عقیدہ درست ہے اور انہوں نے وہابیت کی ترویج نہیں کی ہے۔ لوگوں کی ان سے متعلق باتیں محض تہمت ہے۔اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ شعر درست نہیں ہے:

دنیا اگر فنا ہو جائے تو اس کو علی نے فنا کیا ہے

قیامت اگر برپا ہو جائے تو یہ علی نے برپا کیا ہے

میں بھی کہتا ہوں کہ یہ شعر درست نہیں ہے۔

مہر -محلاتی۔”

آغا علی مشکینی نے نیز یوں لکھا تھا:

“میں علی مشکینی نے کتاب “درسی از ولایت” کا مطالعہ کیا ہے،اس کے مضامین عالیہ عقل سلیم اور منطق دین کے مطابق پا کر میں خوش ہوا ہوں۔

مہر علی مشکینی۔”

آقای حجت الاسلام سید وحید الدین مرعشی نجفی نے لکھا تھا:

” اللہ تعالی کے نام سے۔حضرت آقای علامہ برقعی دامت افاضاتہ العالیہ،ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے۔اور مشہور قول کے مطابق (کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے)، انہوں نے بہت اچھے مطالب مقام امیرالمؤمنین اور دوسرے آئمہ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ” عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہےاور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والا گروہ نے ان کے متعلق کیا ہے،انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پرھی۔اور اپنا ایمان خراب کیا ہے۔اور معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں (جیسا کہ عقلا کو معلوم ہے)اور آئمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے۔اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ فقیہ پر ڈالا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:

خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی ،تاریخ شہر ذی قعدہ 1389 “

لیکن اس کے باوجود مخالفت و بدگوئی،سب و شتم ، توہین و افتراء کا سلسلہ عمامہ پوشوں کی جانب سے جاری رہا۔اور میں نے مطلب پرستوں کے منہ بند کرنے اور عوام کو جو میری کتاب کے مطالب سے آگاہ نہین تھے۔”

سوانح ایام برقعی

امام جمعہ و جماعت

مسجد پر قبضہ

اخبار یا رسالہ حیات مسلمین

دوسروں کی نگاہ میں

تفسیر پر کام

فقہ اسلامی پر کام

احادیث و روایات پر کام

رد بدعات پر کام

چند یادگار واقعات

کیا برقعی وہاب ی تھے؟

فرقہ پرستی سے آزادی

بزرگ تہرانی کی کتاب سے

خمینی کے ساتھ ہم نشینی

آپ کے خلاف لکھی گئی کتب

قانون جمہوری پر اعتراضات

برقعی کا سب سے بڑا ایک جرم یہ بھی تھا کہ انہون نے “اسلامی جمہوریہ ایران” کے آئین پر تنقید کی اور اس میں موجود کئی خامیون کی طرف اشارہ بھی کیا،ان کے اس تنقید کو کئی ایرانی مجلات اور اہل سنت و اقلیتی نمائندگی کرنے والے اخبار و رسائل نے شائع کیا۔جس کا متن کچھ یوں ہے:

“بسمہ تعالی

اعتراض به ماده 12

قانون اساسي کو تفرقہ کا سبب نہیں بننا چاہے

قانون اساسي لکھنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلائیں اور اپنا دامن داغدار کریں. كتاب خدا و سنت رسول (ص) میں مذهب نہیں ہے(بلکہ دین کا تذکرہ ہے). اس جانب میں جو خود کو(لغوی طور پر) شيعہ حقيقی سمجھتا ہوں اور آئمہ اهل بيت ع کو قبول کرتا(مانتا) ہوں، لیکن مقام امام و امامت کو مقام رهبري و راهنمايي کو دين کے برابر نہیں سمجھتا. يعني امام تابع دين ہے اور اس کی ترویج کرنے والا، نه اصل دين و نہ ہی اسکی فرع ہے. دين مجموعه ہے ایک قوانين اصول و فروع کا، اور ہر امام کو اس دین کا تابع و مبلغ ہونا چاہیے. دين اسلام دين واحد ہے اور كسی کو حق نہیں کہ اس میں کسی چیز کو کم اور يا زياد کرے

اور اس کا وہ حق نہیں رکھتا ۔

پس از اسلام مذهب بياورد اور کوئی بھی ائمه شيعه و يا سني نے الگ مذہب لانے کا دعوی نہیں کیا . امام جعفر صادق(ع) خود کو جعفری نہیں کہتے تھے۔اور یہ نہیں کہا کہ میں ایک مذہب “جعفری” کے نام سے لایا ہوں ۔

اور اسی طرح ابوحنيفه و يا شافعی نے نہیں کہا ہم ایک مذهب لائے ہیں، حضرت اميرالمؤمنين (ع) نے نہیں فرمایا میں فلاں مذهب رکھتا ہوں. امام حسين (ع) نے نہیں فرمایا میں جعفری هوں. ان کے پیروکاروں نے 300 سال و يا بيشتر سال گزرنے کے بعد مقتدر بالله عباسي کے زمانہ میں کہ جب فتوی و مذاهب کی کثرت ہونے لگی تو مذهب کو منحصر کیا چار (فقہی) مذهب پہ: جن کو مذاهب اربعه کہا جاتا ہے، شيعوں نے نيز اهلسنت کے مقابل میں اپنا نام نہاد مذهب جعفری کے نام سے رکھا، یہ پانچواں مذہب قرار پایا اور تفرقہ سے دامن گیر ہوا، لیکن كتاب خدا نے اتحاد کی دعوت دی ہے اور تفرقہ پھیلانے والوں کو مشرك کہا، سوره روم آيه 31-32 میں فرمایا: «ولا تکونن من المشرکین۔مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّ‌قُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ ﴿٣٢﴾

اور مشرکین میں سے مت ہو جانا۔ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں(شیعہ شیعہ) میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے

مسلمان کو چاہیے کہ نام و عنوان دين ان کا وہی ہو جو خدا نے رکھا ہے اور فرمایا : «سماكم المسلمين» نه مذهب اوردیگر نام. تعجب یہ ہے كه بعض علماء نام تشيع کے نام و عنوان سے استدلال كرتے ہیں کہ حديث رسول خدا (ص) میں فرمایا: «و شيعة علی هم الفائزون» ان کے جواب میں کہنا چاہیے اولا شيعه علي وہ ہے جو كه اصول و فروع دين میں علي کے مانند ہو، اور مذهب کے نام پر تفرقہ ايجاد نہ کرے اور اصول دين اس کا علی ع کے اصول دین سے مختلف نہ ہو؛ کیونکہ آن حضرت نے نهج البلاغه میں تفرقه ايجاد کرنے والوں سے بيزاري کا اظہار کیا اور خطبه 125 میں فرمایا: «و إياكم والتفرقة و من دعا إلي هذا الشعار فاقتلوه و لو كان تحت عمامتي هذا» يعني تفرقه سے دوري اختیار کرو اور ہر شخص جو شعار تفرقه کی دعوت دے اس کو قتل کرو و اگر چه خود میں ہوں.

اور خود آن حضرت ع نے کسی مذهب کے نام سے خود کو نہیں پکارا اور ايجاد تفرقہ نہیں کیا، اور جماعت مسلمين سے جدا نہ ہوا اور خلفاء سے میل جول اور رابطہ رکھا ۔اور اپنے فرزندوں کا نام نام خلفا پر رکھا۔اور اپنی بیٹی أم كلثوم ع کو خليفه ثاني کے زمانہ میں براي خليفه دوم عقد ازواج کیا، پس کیا خوب ہے كه جو علماء حديث سے استدلال کرتے ہیں شیعہ کہلانے کیلے، کہ وہ قرآن کی طرف بھی توجہ كرے كہ اس تفرقہ سے قرآن نے منع کیا اور فرمایا کہ شيعه شيعه نہ ہو جاؤ. ایک جگہ در سوره انعام آيه 159 فرمایا: «•إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّ‌قُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ ﴿١٥٩﴾

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے (شیعہ شیعہ)ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے »

اور اسی سوره آيه 65 میں فرمایا: «قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ‌ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْ‌جُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ﴿٦٥﴾

کہہ دیجئے کہ وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا و يا تمہیں لباس تفرقہ پہنا دیں اور وہ شيعه شيعه کر دے۔ اور ایک کے ذریعہ دوسرے کو عذاب کا مزہ چکھادے –

اور ایک جگہ سوره روم آيہ 31 میں تفرقہ پھیلانے والون کو كه به نام شيعه ايجاد تفرقه كرتے ہیں مشرك قرار دیا. ہمیں نہیں معلوم مگر کیا اسلام ناقص ہے كه اس میں ایک مذھب کا اضافہ کیا جائے؟ هزار سال ہوگئے كه لوگون کو مذهب کے نام پر ایک دوسرے کے جان لے رہے ہیں اور اور اس راہ میں خون کے نہر بہا دئے۔ آيا حضرت علي (ع) و ساير ائمه (ع) خود کو جعفری قرار دیا ہے؟ نہیں والله، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛ کیونکہ دين اسلام دين آزادی ہے اور ہر شخص ھر عقیدے کا حامل،یا ہر وہ ہاتھ جو کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچائے آزاد ہے اور اپنا ب عقيده بیان کرنے میں بھی نيز آزادہے. متأسفانه دين مبين اسلام کے مباني کے برخلاف اگر كسي پر تهمت سني ہونے کا لگے تو پھر اهل تشيع کے درمیان زندگي اس کی دشوار ہو جاتا ہے و هر ساعت دھمکیوں کا موجب اوراس کی جان و مال خطرے میں پڑ جاتا ہے.

اب جب حضرت امام خميني نے فرمایا سنی و شيعہ بھائی بھائی ہیں۔ اور امور حکومت چلانے والے آزادي و استقلال کے بہانے کرنے والے اور اس کا مذاق اڑانے والے، اگر کسی ایک شخص کو دیکھیں کہ وہ حقايق اسلام کو بيان كریں، تو وہ اس کو سنی ہونے کے نام پر اس کو زد وکوب کرتے ہیں، و حتیٰ کہ حق حيات بھی اس سے چھن جاتی ہے. اور بعض محصلين و شيعه طلاب نا آگاه اس کو كافر و واجب القتل سمجھتے ہیں. معلوم ہوتا ہے کہ عنوان آزادی و جمهوری اسلامی‌فقط لقلقه زبان ہے اور یہ مصداق خارجی نہیں رکھتا۔ اور بلكہ اسلام کی بدنامی‌ کا موجب بنتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ہیں جو کہ یہ آزادی ان کو حاصل نہیں یہاں کہ حقائق اسلام کو بیان کر سکے۔اور لوگون کو وحدت اسلامي‌ کی دعوت بھی نہیں دے سکتا، اور اگر کوئی سمجھائے كه امام تابع دين ہے۔اور حقائق کا كتمان(چھپانا) مت کرو، تہمتوں اور سینکرون افترا اس پر لگتے ہیں. بنابر جیسا کہ یہ ذکر کیا کہ مقام امامت، مقام رهبری به سوی دين ہے نه کہ خود دين ہے، اور كسی کو حق نہیں ہے کہ امام و امامت کے نام سے اصول و يا فروع اسلام کو كم اور زيادہ كرے. میں ان مطلب کو قانون اساسي لکھنے والون کیلے تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ وہ مواد(قانون کے شق یا اصل) جو کہ مذهب سے متعلق ہے اور موجب تفرقه ہے، حذف یا پھر ترمیم کی جائے، اور آئندہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کو یاد رکھیں۔

ہم کہتے ہیں اصول دين، ايمان به وہ چیز ہین كه خدا فرمایا کہ ان پر ايمان لاؤ. اور علي عليه السلام نيز ان پر ايمان لایا۔ اور خود اور اپنے پر ایمان کو علی ع نے اصول دين و يا مذهب قرار نہیں دیا۔ اور کسی ایک جگہ بھی نہیں فرمایا میں خود پر اور یا اپنی اولاد پر ایمان لایا، يعني آپ ع کے اصول دين میں سے ایک اپنی امامت اور اپنی اولاد کی امامت نہیں تھا، اور ہم كه آن حضرت کو امام سمجھتے ہیں، چاہیے کہ ہم ان تمام چیزون پر ايمان رکھیں كه جن پرخود حضرت علی ع ايمان رکھتے تھے؛ کیونکہ اصول دين امام و مأموم سب کیلے ایک ہی ہونا چاہیے. بنابر اين کوئی شخص كه مذهب کے نام پر ایک اصول کا دين حضرت اميرالمؤمنين (ع) کا اضافہ کرتا ہے وہ دشمنان آن حضرت میں سے ہے، نه کہ ان کا پیروی کرنے والوں میں سے . بعضي از افراد نا آگاه کہتے ہیں کہ جب بعض ممالک اسلامی‌ نے مذہب حنفی و يا شافعی کو رسمی مذہب قرار دیا، تو ہمیں بھی مذهب جعفري کا عنوان اور نام دینا چاہیے. جواب یہ ہے كه انہوں نے برا کیا یا نہیں یا پھر اچھا کیا؟، اگر برا کیا تو کیا ہم کو بھی ان کی پیروی میں برا کام کرنا چاہیے،نہیں . اس کے علاوه ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے مسلمان وحدت كلمہ رکھے، اور مسلمين جہاں کو دعوت اتحاد و يگانگي دیتے ہیں۔اور تمام مسلمين کو ایک پرچم تلے جمع کرنا چاہتے ہیں. لہذا تمام رهبران ديني اور زعماي روحاني پر واجب ہے كه حقائق کو بيان كریں

جیسا کہ آيه 159 فرمایا: « إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّـٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَـٰبِ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّـٰعِنُونَ ﴿١٥٩﴾

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں

والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته، «ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وماتوفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب ».

الأحقر السيد ابوالفضل العلامه البرقعي

نوٹ:اس میں آیت اللہ برقعی نے جو “مذہب اور دین” میں فرق بتا ہے،آپ نے اس فرق کو 25 یا 30 کے قریب نکات میں بیان کیا ہے کہ دین اور مذہب میں کیا فرق ہے۔اور اسلام دین ہے مذہب نہیں

دیگر مسالک سے حسن ظن

آیت اللہ برقعی دیگر اسلامی مسالک سے حسن طن اور مھبت رکھتے تھے،یہی وجہ ہے کہ انہون نے امام شافعی کے احکام القرآن،ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوہاب کی کتابون کا ترجمہ کیا اور ساتھ ہی زیدی شیعہ مذہب کی چوٹی کی کتاب مسند امام زید ع کا فارسی ترجمہ اور نیز دیگر کتب کے حوالے اپنی کتاب الجامع المنقول میں ذکر کیے۔چنانچہ فرقوں کو باہم قریب لانے کے متعلق ان کا نظریہ درج ذیل ہے،ملاحظہ کیجے ان کے الفاظ:

شروع کرتا ہوں اللہ عزوجل شانہ کے نام سے

مترجم کتاب(برقعی) سالوں سال ایران کے مذہبی پیشواؤں کی جانب سے محافل و مجالس میں حجاز میں موجود وہابی فرقہ کے بارے میں بدگوئی اور لعن و طعن سنتا رہا ہے۔اور جس طرح شیعہ اپنے علمائے میں سے کسی عالم کے مقلد ہیں بالکل اسی طرح حجاز(سعودی عرب) والے فروع دین میں محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کرتے ہیں۔اسی لیے ان کو وہابی کہا جاتا ہے۔حالانکہ محمد بن عبدالوہاب نے خود کو کبھی وہابی نہیں کہا بلکہ خود کو مسلمان ہی کہلاتے تھے۔اور محمد بن عبدالوہاب ایک عالم دین تھے جنہوں نے بارہویں صدی ہجری کے شروع میں مسلمانوں میں موجود شرک اور بدعات کو دور کرنے کے لیے قیام کیا اور ان چیزوں کے خلاف کھڑے ہوگئے۔اور ایک گروہ کو اپنے اصلاحی نظریات کی طرف دعوت دی۔مسلمان فرقوں نے اس کی باتوں کو ماننے والوں کو "وہابی" کا لقب دیا۔ایران میں ہر وہ سچے بزرگ اور عالِم دین جو لوگوں کو حقائق قرآن،اسلام اور توحید بیان کرے یا دین میں موجود کسی بدعت کو وہ رد کرتا ہے تو اس پر فورا وہابی ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے۔اور اس کے رد پر دلائل نہیں لاتے سوائے اس کے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور اس پر تشددد کرتے ہیں۔

میں خود تعجب کرتا ہوں اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ وہ شخص جو قرآن کے حقائق بیان کرے، اسے کیا وہابی کہا جائے؟ آخر وہابیوں کے عقائد کیا ہیں جو ہم قبول نہیں کرسکتے؟ کیا محمد ص اور علی بن ابی طالب ؑ اور تمام نامور بزرگانِ دین قرآن سے تمسک کرنے والے نہیں تھے؟

ہمارے اس زمانے میں بہت سارے علماء دین کے معاملے میں روشن فکر ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی انہوں نے کسی دینی حقائق میں سے کسی حقیقت سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کو توحید اور قرآن سے آگاہ کیا،تو لوگون نے اس کو فورا وہابیت کا بہانہ بنا کر اس کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔اور عوام کو اس کے خلاف ہمیشہ بھڑکایا۔جیسے آیت اللہ بزرگ حاجی سید اسد اللہ خرقانی،آیت اللہ خالصی زادہ،اور نابغہ کبیر شریعت سنگلجی ،آیت اللہ وحید الدین مرعشی نجفی،آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم ،اور حجت الاسلام والمسلمین آغا سید جلال جلالی قوچانی اور دیگر بہت سارے لوگ،اللہ ایسے لوگ مزید پیدا کرے،

کثراللہ تعالی امثالھم۔

پس انسان اس قاعدے کے مطابق کہ الانسان حریص علی ما منع،انسان اسی چیز کی جستجو کرتا ہے جس چیز سے روکا جاتا ہے۔میں نے بھی جستجو شروع کی اور تحقیق کی اور مین نے دیکھا کہ ‘وہابی جماعت’ کیا کہتی ہے؟اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ اگر واقعی میں وہ لوگ مسلمان ہیں تو پھر ان کا خون اور ان کے مال و عرض و آبرو کی حفاظت واجب اور ان کی بدگوئی اور غیبت کرنا حرام ہے۔کیونکہ رسول اللہ ص نے فرمایا

مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرے اور موحد نہ بنے۔اور فرمایا عرض المسلم کدمہ

یعنی مسلمان کی عزت و آبرو اس کے خون کی طرح (حرام)ہے۔

یعنی جس طرح کسی مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کی آبرو برباد کرنا بھی نیز گناہ کبیرہ ہے۔

بہت افسوس کا مقام تھا کہ کہ ایران میں کوئی وہابی نہیں رہتا تھا کہ میں اس سے جا کر تحقیق کر سکوں اور نہ وہابیوں کی کوئی کتاب مجھے پڑھنے کو ملی۔یہاں تک کہ سال 1352 شمسی کو مجھے اللہ تعالی نے حج بیت اللہ الحرام کی توفیق دی۔اور مدینہ منورہ میں رسول اللہ ص کی زیارت کے لیے جب میں گیا تو مجھے وہاں ایک کتاب دیکھنے کو ملی جس کا عنوان یہ تھا’العقیدہ الاسلامیہ لشیخ محمد بن عبدالوہاب’ ۔میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہر شخص کے عقیدہ کو خود اس سے پوچھ کر یا ان کی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کرنا چاہیے اوردوسرے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ دوسرا شخص کسی شخص یا کسی کے عقیدے کے متعلق کم یا زیادہ یا تحریف کر کے غلط معلومات دے سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے غلط بیانی بھی کر سکتا ہے۔پس بہتر یہ ہے کہ خود اس شخص(محمد بن عبدالوہاب) کی کتاب جو اس مذہب کے بانی و مرجع ہیں ،اس کا مطالعہ کروں تاکہ اس کے اور اس کے پیروکاروں کے عقائد کو میں جان سکوں۔

بہرحال میں نے وہ کتاب پڑھنے کے لیے پکڑی اور جب میرے کچھ دوستوں نے میرے پاس یہ کتاب دیکھی تو مجھ سے درخواست کرنے لگے کہ چونکہ ہم وہابیوں کے عقائد کے متعلق جانتے نہیں اس لیے اس کتاب کا ترجمہ سادہ(فارسی زبان) میں بغیر کمی بیشی کے کر دی جائے اور اگر ہو سکے تو مختصر توضیح بھی لکھ دیں تاکہ ہم بھی جان سکیں۔اسی لیے اسی لیے میں نے مختصر توضیح بھی اس کتاب کی لکھی ہے۔اور یہ کتاب عقیدہ اسلامی تین(3) رسالوں پر مشتمل ہے جو خود محمد بن عبدالوہاب کی ہے سال 1390 قمری مین شائع ہوا تھا اور تقریبا 63 صفحات پر مشتمل تھا۔

پہلا رسالہ خدا شناسی،دین اور پیغمبر شناسی پر مشتمل تھا۔دوسرا رسالہ صحیح راستہ کا بیان اور دین حنیف ملت ابراہیمی کے متعلق تھا اور تیسرا رسالہ ان لوگوں کی شبہات کے رد میں تھا جو انہوں نے اسلام اور توحید کے متعلق کیے تھے اور ان کو جوابات بھی دیے گئے تھے۔

محمد بن عبدالوہاب کی اس کتاب کا(فارسی) ترجمہ لکھنے اور اس کو شائع کرنے کا میرا مقصد بس یہی ہے کہ لوگ جان سکیں کہ آج کا دور تفرقہ اور نفاق کا زمانہ نہیں ہے۔اور مسلمانوں کے فرقوںمیں سے ہر فرقہ پر واجب ہے کہ وہ نزاع اور جدل اور ایک دوسرے کی بدگوئی کرنے سے پرہیز کرے اور استعماری ایجنٹوں کے ہاتھوں کھلونا اور آلہ کار نہ بن سکیں۔آج جب مسلمان تفرقہ( فرقہ واریت) اور انتشار کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں اور دشمنان اسلام نے ان کے دمیان رخنہ اور پھوٹ ڈال دیا ہے۔اور ان کی دین و آبرو اس وقت سخت خطرے میں ہے۔مسلمانون کو چاہیے کہ وہ آپس مین متحد ہو جائے اور آل محمد ص کی ولایت کے نام پر بے چاری عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نہ بھڑکائیں۔آج تمام مسلمان حتی اہل سنت کا متعصب طبقہ(متعصب سنی جن کو کہا جاتا ہے) وہ بھی آل محمد ص سے محبت رکھتے ہیں۔اور امیرالمؤمنین علی بن ابو طالب ع کی محبت اور حضرت فاطمہ زہراء ؑ کی اولاد پر وہ بھی فخر کرتے ہیں۔آل محمد ص کے حقیقی محب اور دوست وہ ہیں جو امت میں تفرقہ نہ پھیلائیں۔اور دوسرے مسلمانون کے خلاف فھاشی(گالی دینے) اور بدگوئی سے بھی پرہیز کریں۔اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ص کہنے والوں کو خود سے الگ نہ کریں۔اور تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی سمجھیں اور آیت شریفہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کو مد نظر رکھے۔وہ اہل بیت ع کے سچے محب ہر گز نہیں جو تفرقہ بازی کریں ،مسلمانوں کو ایک دوسرے سے بد بین کرے۔اور علمی یا دینی مسئلے میں کسی غلطی کی وجہ سے فورا تکفیر کرے۔اور اس پر لعنت کرے یا اس کو فاسق قرار دے کر خود سے جدا کریں۔اور جال و جنجال کی راہ پیدا کرے۔بلکہ آپس میں نرمی و خیرخواہی اور علمی و قرآنی دلائل سے ایک دوسرے کو جواب دے۔اور اختلافات باہمی کو کم کرے۔نہ کہ یہ شیوہ ہو جس طرح کہ بعض صاحبان منبر کرتے ہیں کہ کسی کی بدگوئی کریں اور افتراء باندھے اور مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا سہارا لیں۔بہت سارے خطیبوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ عقل نہیں رکھتے یعنی بغیر مطالعہ کے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

پس ہمارا مقصد اور ہدف اِس فرقے اور اُس فرقے کی طرف دعوت دینا نہیں۔ہم مسلمان ہیں اور ہماری دعوت خدا و رسول اور قرآن و اسلام ہے۔آج تمام مسلمان فرقے قرآن کو مانتے ہیں اور قرآن کو اپنی الہامی کتاب مانتے ہیں۔میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے ہر فرقے سے محبت رکھتا ہوں اور حق بات ان فرقوں میں سے جو بھی فرقہ کرے، اس کو قبول کرتا ہوں۔اور عداوت و عناد سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کہ تمام مسلمان فرقوں کو چاہیے کہ خود کو مسلمان نام دیں ،اور جب اللہ نے سورہ یونس آیت نمبر 72 میں فرمایا کہ:

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مسلمان رہوں

نیز ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ ص کی تاسی کرتے ہوئے خود کو صرف مسلمان کہیں اور ناموں اور مذاہب(فرقوں) سے جو کہ فرقہ واریت کی وجہ ہیں خود کو دور اور الگ کر لیں۔پس مسلمان فرقوں میں سے ہر فرقے کو چاہیے کہ وہ خود کو تعصب سے دور کر لیں اور خود کو صرف مسلمان کہلوائیں تو وحدت اور اتحاد کا ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور لا اقل تمام مسلمانوں کی فرقوں کے نام پر تکفیر بھی نہ کی جائے۔

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا( آل عمران 85 )

بہرحال میں نے محمد بن عبدالوہاب کے اس رسالہ کے مندرجات کو قرآن و سنت رسول ص کے برخلاف نہیں دیکھا۔اور اس میں کسی کو گالی اور لعنت مجھے نہیں ملا۔ اور ان کے عقائد ایسے نہیں کہ مجھے ان کے باطل ہونے پر دلیل لانے کی ضرورت پڑے۔بلکہ ان کی کتاب کو میں نے کتاب اللہ اور سنت رسول ص کے عین مطابق پایا۔ اور اگر پھر بھی کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان رسائل(عقیدہ اسلامی) کے مطالب باطل اور یا پھر قرآن مجید کے خلاف ہیں تو اس کو چاہیے کہ سب و لعن کرنے کی بجائے دلائل پیش کرے۔

اللہ تعالی نے سورہ الانعام آیت 108 میں فرمایا

وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔

اس شخص پر سب اور اس کی بدگوئی نہ کرے جو کہ غیر اللہ کو پکارے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں اللہ کو گالی دے۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے مشرکین کو گالی دینے یا سب کرنے سے منع فرمایا ہے۔پس جو شخص اہل بیت رسول ص کی محبت اور دوست ہونے کا دعوی کرتا ہو بھلا کیسے وہ دوسرے مسلمان فرقوں کی بدگوئی کرتا ہے؟ امیرالمؤمنین علی بن ابوطالب ؑ کے متعلق نہج البلاغہ خطبہ نمبر 204 میں ذکر ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب مین سے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ لشکر معاویہ کی بدگوئی کر رہا ہے تو آپ کرم الله وجہہ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا اور کہا:

إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ وَ لَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي اَلْقَوْلِ وَ أَبْلَغَ فِي اَلْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ اَللَّهُمَّ اِحْقِنْ دِمَاءَنَا وَ دِمَاءَهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَ بَيْنِهِمْ

میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے لگو، بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اور حالات کو بیان کرو تا کہ بات بھی درست ہو اور حق کی حجت بھی تمام ہو جائے،نیز یہ دعا کرو کہ اے الله ہمارا اور ان کا خون محفوظ فرما اور معاملات کی اصلاح کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستے پر لگا۔

بہرحال شہادتین (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا اقرار کرنے والے کو گالی دینا اور بدگوئی کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔اور ایسا کرنا استعمار کی خوشی کا سبب ہے۔اگر فرض کریں کہ صدر اسلام میں ایک گروہ نے یزید کی طرح اپنی ریاست کو بچانے کے لیے مومنین سے دشمنی کی،تو آج کے مسلمانوں کا کیا قصور ہے( کہ ہم ان دور حاضر کے مسلمانون سے دشمنی رکھیں اور ان کی بدگوئی کریں)؟ ہمیں گزری ہوئی تاریخ کو بہانہ اور بنیاد بنا کر ہرگز ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں بننا چاہیے۔ اللہ تعالی نے سورہ بقرہ آیت نمبر 141 میں فرمایا ہے:

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

(تحریر: آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی رضوی،تہران )

نوٹ: آیت اللہ برقعی نے محمد بن عبدالوہاب کے رسائل “عقیدہ اسلامی” کے علاوہ ان کی مشہور کتاب “کتاب التوحید” کا بھی فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ان کا مقصد یہی تھا کہ کسی فرقے کے متعلق سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی بجائے فارسی زبان جاننے والے خود براہ راست جان سکیں۔

جنگ عراق پر موقف

بعد از انقلاب حالات پر نظر

دولت اسلامی( مملکت اسلامی) نے عوام کے ایک گروه کو حزب جمهوری اسلامی اور شعار «حزب فقط حزب الله» کے نام پر اکسایا هے که هر روز در خیابانوں میں یا دانشگاهوں میں لوگوں پر حمله کرتے هیں اور ڈنڈے و چماق( آگ جلانے کی چیز) بلکه قصابوں کی طرح چھڑیاں لے کر اور هر مرتبه سینکڑوں لوگوں کو زخمی‌و مجروح و مقتول کرچکے هیں اور کسی شخص کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجازت نهیں.

میں خود جن ایام میں مشهد میں تھا,میں نے دیکھا که کچھ لوگ جن میں زیاده نادان لوگ( یعنی نوجوان) تھے که ڈنڈے و چماق لے کر پھرتے تھے اور دو نفر آخوند( مولوی) سیاه عمامه پهنے ان لوگوں کے ساتھ چلتے تھے اور نعره لگاتے

حزب فقط حزب الله رهبر فقط روح الله

اور اس طرح اس حالت میں دانشگاه مشھد کی طرف چل دئے اور درجنوں لوگوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا اور پانچ کو قتل بھی کردیا.اور هر روز مجھے خبر ملتی تھی که فلاں فلاں شھروں میں اس قسم کے لوگوں کو مارنے پیٹنے اور قتل کرنے کے واقعات پیش آرھے هیں.بهت سارے کتب خانه انهوں نے جلا دئے اور بهت سارے کتاب فروشوں کی دکانوں کے سٹال پر حملے کیے اور ان کی کتابوں. کو خیابانوں اور نهروں میں بها دئے.اور کتب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے.

اور اگر کوئی کوئی عدالت یا قاضی کے پاس پهنچتے تو وهاں بیٹھا قاضی یا وکیل اس کی مخالفت هی کرتا.اسلام میں تو قاضی کو بے طرف هونا چاهیے لیکن جمھوری اسلامی کے یه قاضی خصومت اور ضد کے مجرم هیں،یه کیسے قوانین بنے هیں? میری عمر کے ستر سالوں میں مجھے ایسا طریقه اور قانون دیکھنے کو نهیں ملا,اور اب میں خدا کا شکر ادا کرتا هوں که میں خوار هوں اور خانه نشین هوں اور میں نفوذ کلام نهیں رکھتا.که میری وجه سے کسی پر ظلم هوتا اور الله کے حضور بازپرس مجھ سے هوتا،جمهوری اسلامی کے نام پر ایسے کام کرتے هیں که اسلام کے موافق نهیں,اور عالم و جاھل ان کے اسلام کے مقررات سے بےخبر اور ناآگاه هیں.اور جب تک لوگ ناآگاه هیں ایسا هوتا هت.اور بلکه لوگ ایسی صورت دیکھ کر کمیونسٹ اور لبرل ازم یا لائیسم اور بے دینی اختیار کرتے هیں.خواه آج کے زمانه حال کا هو یا گزشته زمانے میں کچھ لوگوں نے چرب زبانی سے لوگوں کو بے وقوف بنایا هے.اور جس وضع کو خود چاھا لوگوں پر تھونپ دیا.چنانچه اس سال کردستان اور خوزستان میں جوانوں کو دشمن سے جهاد کے نام پر اکسایا اور، ھر روز اطراف مملکت میں زد و خورد و کشت و کشتار هے. و از حزب حاکم کا ھر مرنے والا شخص ان کے مطابق شهید هے اور با جار و جنجال کے ساتھ ریڈیو پر او ر محافل میں اس کو شهید کها جاتا هے ، حالانکه ملت ایران کا هر مخالف شخص خدا و رسول کے ضد میں ماراگیا هے اور دوزخی هے.گویا ان کے هاتھ میں بهشت اور جهنم کی چابی هے اور یه قسیم الجنۀ و النار هے.

بندر لنگه میں سینکڑوں لوگ سنی و شیعه کے نام پر قتل هوئے ، گنبد قابوس میں لوگوں کو قتل عام کیا گیا ,اورکردستان میں ھر روز جنگ و قتال برپا هے، و با اینحال می‌خواهند جمهوری اسلامی‌را به ممالک دیگر صادر کنند و نمی‌دانند که اسلام مانند حبوبات نیست که آن را صادر کنند بلکه باید قوانین اسلامی‌را در مملکت خود پیاده کنند و به واسطه عدالت و تساوی توجه دیگران را جلب نمایند نه با زور و تظاهر و تزویر

. سال ۱۳۵۹ میں ,میں خیابان آزادی میں اپنے گھر میں کوچه بامدادان کے ایک کمرے میں تھا روز جمعه نماز جمعه اقامه کرتا، مولویوں کی دولت( حکومت) جس نے آزادی و عدالت کے بهت نعرے لگائے تھے,بسیار ، مأمور فرستاد یعنی پاسدار ان کے مسلح گروه کو مینی بس میں بھیجا,اور میرے گھر کو خراب کءا,اور مجھے دیگر بهت سے لوگوں کے همراه پکڑ کر جیل میں ایک مهینه کیلے ڈال دیا.

اور رهائی کے بعد جب میں نے یه دیکھا که میرے دوستوں کی جان خطرے میں هے میں نے نماز جمعه پڑھانا ترک کردیا,اور میرے گھر کو ان مدعیان عدالت نے غارت کیا اور اس کو روندا اور کئی سال هوگئے واپس نهیں کیا.انهوں نے جتنا یه کر سکتے تھے تهمت اور اذیت اور آزار مجھ کو پهنچانے سے دریغ نهیں کیا.اور مسلسل مجھے زندان میں ڈالتے رھے,اور تفتیش کیلے لے جاتے رھے اور جو جو اذیتیں اور آزار مجھے دے سکتے تھے دئے.

…..

ایک جوان فاضل و محقق جو احمد مفتی زاده کے نام سے هے,اهل علم هے اور کردستان( اھل سنت تھے ) کے ایک دور کے ایک علاقے کے جوانوں کو جمع کیا هے.اور ان کو اصل دین اور قرآن سکھاتا هے.کردستان کے نااگاه لوگوں اور ایران کے دولت خرافی نے یه کام کیا که ان کو کردستان سے بے دخل کیا اور ھجرت پر مجبور کیا.حالانکه وه خود کردستانی هیں اور اب 6 سال هوگئے که مولویوں کی اس حکومت نے اس کو ناحق اور ظالنانه طور پر جیل میں ڈالا هوا هے.اور اسی حکومت کے منصوب کرده قاضی نے ان کو 5 سال کے قید کی سزا سنائی هے.ھرچند یه قاضی کا حکم ظالمانه اور شریعت کے خلاف تھا…..اور بعد میں اپنی مرضی سے اس سے زیاده عرصه اس فاضل کو قید رکھا۔”

اسی کتاب سوانح ایام میں برقعی لکھتے ہیں:

“اسلامی جمهوریہ کے ناہل عہدیداران

ھمارے ایک دوست جو کہ علانیہ اور برملا مجھ سے اظہار ارادت کرتا تھا آغا سید خسروبشارتی تھا جو کہ کن و سلقان کے درمان راستی میں جزء حومہ تھران کے پاس بغیر کسی جرم اور عدالت کے گولیون کے بوچھاڑ کر کے شہید کر دیے گیے۔رحمت اللہ علیہ ورضوانہ،انہوں نے تو ایک بار میری دفاع میں ایک مقالہ میں حجت الاسلام متانت صاھب کو جواب دیا تھا جو کہ روزنامہ اطلاعات شمارہ نمبر 13مورخہ 18۔4 ،59 کو شائع ہوا تھا”۔

یاد رہے ان کو پاسداران انقلاب اٹھا کر تفتیش کے بہانے لے کر گئے تھے اور بعد میں اس مقام سے ان کی لاش ملی تھی،جس پر حقوق انسانی کی تنظیمون نے کافی احتجاج کیا،اور آج بھی ان کا نام بے گناہ قتل شدگان کی فہرست مین ملتا ہے۔

جب آیت اللہ برقعی نے دیکھا کہ جس اسلامی نظام کی خاطر ہم نے جدوجہد کی اس کا بدترین نتیجہ ہمارے سامنے ہے،اور اسلام کے نام پر ہر جگہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔مردون اور عورتون کو جیلون میں بلا جرم سزائیں دی جا رہی ہین یا نا کے ساتھ زیادتیان ہو رہی ہیں تو ان کو اس پر بہت افسوس ہوا،اور فرمایا کہ اب مین اللہ سے دعا کرتا ہون کہ مولویون کو کبھی حکومت نہ دے ،کیونکہ یہ کسی ڈکتیٹر سے کم نہیں اور لوگوں کے تمام حقوق چھین لیتے ہیں۔

“ہمارے زمانے میں کچھ لوگ علی ع کے شیعہ کے دوعی کر کے فقیہ کے نام پر حکومت کرتے ہیں، یہ کسی ڈکٹیتر سے سو گنا بد تر حکمران ہیں۔کیونکہ یہ لوگ لوگوں کو بغیر کسی شرعی جرم اور صحیح عدالت کے قتل کرتے ہیں یا زندان میں ڈالتے ہیں۔۔۔۔۔۔حالت اس قدر بدتر ہیں کہ جو شخص حکمران کے خلاف کچھ برملا بولے یا ان کے کسی کام پر اعتراض کرے تو اس کو بے دین اور مرتد قرار دیا جاتا ہے،اور اس کا خون حلال قرار دیا جاتا ہے۔۔”

سوانح ایام برقعی،ایران کی موجودہ صورتحال پر اشعار

پھر آپ نے چند اشعار اس موقع پر تحریر کیے ہین جس کا مفہوم درج ذیل ہیں:

“میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک محفل میں تھا،وہ ایک آگاہ اور نیک پندار دوست تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم اسلام کے متعلق کیا جانتے ہو کیا کہتے ہو؟اس نے کہا اسلام وہ دین ہے جس میں ملائیت نہیں ،کشیش اور احبار اس دین میں نہیں۔مصطفی مجتہد نہیں تھے امی تھے،اور مرتضی بھی مجتہد نہیں تھے،یہ دونون بیکار شخص نہیں تھے(کہ فارغ بیٹھ کر لوگوں کی کمائی کھائے)بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کر کے کماتے اور کھاتےتھے۔میں نے اس سے پوچھا لوگوں کا رہنما کون ہے(کس کو ہونا چاہیے)؟ اور دین کی حفاظت کون کرے(کس کی ذمہ داری ہے)؟ اس نے جواب دیا،دین کا رہنما قرآں ہے اور دین کی حفاظت ہر کسی پر واجب ہے۔دین میں ہر شخص پر جو دین کا طالب ہے اس پرعلم حاصل کرنا عین واجب ہے۔ھادی دین نےدین فروشی کہاں کی تھی، دین بیچنے والا لوگوں کا لیڈر نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ دین کوئی بیچنے کی چیز تو نہیں کہ اسے بیچا جائے اور اس کی کمائی سے کھائے۔دین کو سیاست میں آنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ کہ اس کو بیچا جائے اور اپنی دکانداری چمکائے۔علی ؑ سے بڑھ کر تو کوئی حکمران نہیں تھا لیکن ان کے نزدیک حکومت کی قیمت ایک جوتی سے بڑھ کر نہیں تھی اور وہ دلون پر حکمرانی کرتے تھے نہ کہ ملکون بلغاریہ،حجاز یا ہلند پر حکومت نہیں کرتا تھا ۔ میں نے اس سے علماء کے کردار کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ لوگوں کے گردن پر سوار (بوجھ) ہے۔اس کا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا ملاؤں کا کام لوگوں کو قتل کرنا ہے۔ان کی تکفیر اور ان کو قید کرنا ہے۔وہ غرور کے نشے مین ہے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا۔ مین نے اس سے پوچھا کہ حزب اللہ کا مطلب کیا ہے؟اس نے جواب دیا اس کا مطلب تاتاریوں کے دور اور قانون کو زندہ کرنا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ مملکت کی حالت کیا ہے،اس نے کہا کہ ایک بیمار کی طرح ہے،جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو۔میں نے اس سے پوچھا کہ انقلاب کے ہم پر کیا اثرات ہیں؟ اس نے کہا ہمارا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ہم اس کی وجہ سے بیدار ہو گئے ہیں۔لوگون نے ملاؤں کو دل سے منتخب کیا تھا اور وہ خیال کر رہے تھے کہ حقیقت میں ان کو آزادی ملے گی۔لیکن وہ گڑھے میں گر گئے اور کنوان میں پڑ گئے۔اور ہماری مشکلات سو گنا بڑھ گئی۔غلطی سے دام میں پھنس گئے لیکن بیداری اور چوکنا ہوگئے اب۔میں نے اس سے پوچھا کہ نجات کب ہوگی؟ اس نے کہا کہ اگر تم اللہ سے دعا تضرع و زاری کرو تو نجات ملے گی اور تمہیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔کہ وہ ہمیں ان مشکلات اور آفات سے نجات دے۔”

جمہوری اسلامی کے ناہل عہدیدار کے نام سے لکھتے ہیں کہ:

” یہ جمہوری اسلامی کی اصطلاح بنو امیہ سے بھی بدتر ہے،نوجوانوں کی ایک تعداد جو جاہل ہیں اور اسلام و قوانین اسلام کا ذرہ برابر معلوم نہین یہ لوگوں پر مسلط ہوگئے ہیں۔یہ نوجوان کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے بلکہ جو ان کو ان کے بڑے یا لیڈر کہتے ہیں اس کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کو کسی قسم کی اذیت و آزار سے دریغ نہیں کرتے۔اور خود کو اسلام کا پاسدار(مھافظ) کہتے ہیں۔یہ مغرور ہیں اور دھوکے میں ہیں کہ ہم حزب اللہ ہیں اور ہم ہی اسلام کو نافذ کرنے والے ہیں۔اور جو ہمارے بڑے حکم دینگے ہم اس کو بجا لائیں گے۔اور چاہے اس حوالے سے جو کرنے کا کہا جائے اسے درست سمجھتے ہیں۔

میری تو ہمیشہ خواہش تھی کہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے ،اور اس کی خاطر سالہا سال مین نے کوشش اور مبازرہ کیا،لیکن اب دعا کرتا ہوں کہ مولویوں کی حکومت قائم نہ ہو،کیونکہ اخوند اسلام اور حکومت اسلامی کے معنی سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر چھپاتے ہیں تاکہ اپنا فائدہ گھاتے میں نہ پرے۔۔۔۔۔علمائے سیستان و بلوچستان خاص طور پر عبدالرحیم ملازادہ صاحب جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ بھی حکومت کے عہدیداروں کی شرسے محفوظ نہیئں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ آغا آل اسحاق بھی لمبے عرصے سے جیل میں تھا(یاد رہے خمینی صاحب کے نظام حکومت کی تنقیدپر ان -علامہ اسماعیل آل اسحاق۔کی کتاب مشہور ہے،مشہور اصلاح پسند شیعہ عالم رہے)،آغا قریشی طالشی صاحب جن کے پاس میری ایک کتاب تھی اور طالش میں اہل سنت کے لیے ایک مدرسہ بنانے کے جرم میں عرصے سے قید تھا،مزید آغا زنگنہ اصفہانی ،آغا محمد تقی خجستہ و آقای عطائی لنگہ ای اور ورجان کے سابق امام جمعہ آغا حسینی قمی اور بہت سارے علماء جیل میں بند تھے اور تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اللہ ان سب کو اجر دے اور حکومتی کارندوں کے شر سے محفوظ رکھے۔”

برقعی اکثر جیل کے عہدیداروں سے اپنا جرم پوچھتے تو یہی جواب ملتا کہ ہمیں آپ کا جرم معلوم نہیں اوپر سے آرڈر ہے ،تہران سے۔

اور جیل کے اندر جو حالت تھی وہ یہ ہے:

خمینی پر تنقید

چند عقائد

ایک مغالطہ

اخلاق عالیہ

دروس قرآن

مبارزہ با خرافات کا عہد

مناطرے کا چیلنج

فقہی تفردات

قرآن فہمی کا اثر

مسجد گزر وزیر دفتر

اشتہارات

حج پر سفر

قلمداران اور طباطبائی کے ساتھ

قاتلانہ حملہ

علاقہ بدری

ان پر تحقیقی کام

شاہ ایران کے خلاف اقدامات

کسروی

اپنی مظلومیت پر اشعار

وفات

آپ سنہ 1993 عیسوی میں وفات پاگئے