سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 12

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قم رحمہ اللہ

نام و نسب

آپ کا نام سید ابوالفضل ابن الرضا ہے۔

آپ سنہ 1908 میں قم (ایران) میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد کا نام سید حسن تھا جو ایک مجتہد سید احمد کے بیٹے تھے۔ جب کہ والدہ کا نام سکینہ سلطان تھا جو ایک مشہور عالم کی بیٹی تھیں۔ آپ کا نام نسب اور شجرہ نامہ یہ ہے

ابوالحسن بن حسن بن احمد بن رجی الدین بن میر یحیی بن میر میران بن امیران الاول ابن میر صفی الدین بن میر ابوالقاسم بن میر یحیی بن السید محسن الرضوی بن رضی الدین بن فخر الدین علی بن رضی الدین حسین پادشاہ بن ابی القاسم علی بن ابی علی محمد بن احمد بن محمد الاعرج ابن احمد بن موسی المبرقع بن امام محمد الجواد علیہ السلام۔

پس آپ کا نسب امام موسی مبرقع تک پہنچتا ہے اس لیے آپ کو برقعی کہا جاتا ہے۔ چونکہ امام رضا تک نسب پہنچتا ہے اس لیے آپ کو ابن الرضا یا رضوی بھی کہا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ پر آپ کا نام ابن الرضا اسی لیے لکھا ہوا تھا۔

آپ کا خاندان قم میں سالوں سے رہ رہے تھے۔اسی لیے قُم سے نسبت کی وجہ سے اور حوزہ علمیہ قم سے علم حاصل کرنے کی بنا پر آپ قمی کا لقب بھی آپ استعمال کرتے تھے۔

تعلیم: آپ کے والد چونکہ ایک بہت غریب آدمی تھے جو محنت مزدوری کر کے اپنا گزرا کر لیتے تھے اس لیے مالی مشکلات کی وجہ سے وہ برقعی کی تعلیم کے حوالے سے قابل قدر انتظامات نہیں کر سکتے تھے ۔چنانچہ آپ کی والدہ کو بہت شوق تھا کہ برقعی کو لکھنا پڑھنا سکھائیں اسی لیے اس کی پڑھائی کا بندوبست کرنے کے لیے انتہاء درجے کی کوشش کر کے کچھ پیسے جمع کیے تھے جو وہ برقعی کے استاد کو دیتے تاکہ وہ برقعی کو پڑھا سکیں۔ برقعی فرماتے ہیں کہ میری ماں بہت بہادر اور دلیر خاتون تھیں۔ جب میں پندرہ سال کا تھا تو ایران میں پہلی جنگ عظیم کے دوران روسی افواج داخل ہوگئی تھی اور قحط سالی تھی لیکن اس زمانے میں بھی ان کی والدہ نے ان کو اس مشکل وقت مین بھی تنگی سے بچایا۔ برقعی چونکہ تنگ دست تھا اس لیے وہ باقاعدہ طریقے سے پڑھ نہیں سکا لیکن کسی نہ کسی طرح پڑھنا لکھنا سیکھ گئے۔ آپ مکتب جاتے اور وہاں معلم دوسرے بچوں کو سکھاتے وہ سننے کے لیے بیٹھ جاتا اور اسی طرح سیکھتا رہا۔ برقعی کے لیے معاشی حالات کی وجہ سے کاپی کاغذ خریدنا ممکن نہیں تھا اسی لیے مختلف دکاندار یا مصالحے بیچنے والے جو کاغذات ردی کے طور پر پھینکتے برقعی ان کو اٹھا لیتا اور اس پر لکھتے رہتا۔ بہرحال نوجوانی کی عمر میں برقعی نے فارسی لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سیکھ لیا تھا۔

حوزہ میں تعلیم

برقعی کہتے ہیں کہ انہی ایام مین شیخ عبدالکریم حائری یزدی اپنے خاندان کی دعوت پر قم آئے اور آراک کے مقام پر ٹھرے تھے انہوں نے طلباء کے لیے ایک مدرسہ کھولا، اس وقت برقعی بارہ سال یا دس سال کے تھے انہوں نے اس مدرسہ جانے کا عزم کیا اور مدرسہ رضوی میں داخل ہوگئے۔ یہ مدرسہ قم کے پرانی مارکیٹ میں موجود تھا۔ آپ کی والدہ کے چچا زاد بھائی وہاں کے پرنسپل تھے اسی لیے انہوں نے الگ کمرے کی درخواست کی، لیکن ان کی کم عمری کے سبب بڑی مشکل سے مان گئے اور آخر ایک میٹر کا کمرہ جس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور کچرے پاس ہی ہوتے تھے، برقعی کو وہاں جگہ ملی۔ لیکن جیسا کہ اس کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے اس وجہ سے موسم گرما کی گرمی اور سرما کی سردی سے خود کو بچانا برقعی کے لیے مشکل ہوگیا،ان کی امی نے ان کے لیے ایک کارپیٹ کا بندوبست کیا جو انہوں نے کمرے میں بچھایا۔ دن رات برقعی اب اس کمرے میں پڑھنے اور مطالعہ میں مصروف رہتے۔ دو سال تک برقعی اسی کمرے میں رہے، چونکہ مالی تنگی کی وجہ سے کوئی رشتہ دار برقعی کے لیے پیسہ خرچ کرنے پر راضی نہ تھے۔ برقعی نے تاجروں اور ریڑھی بانوں کے ساتھ چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹا کر کچھ پیسے کما لیے۔ یہاں تک کہ اللہ کے فضل و کرم سے برقعی نے گرامر اور لغت میں مہارت حاصل کر لی۔ انہون نے المغنی اور الجامی بھی پڑھ لی۔ یہاں تک کہ انہوں نے حاجی عبدالکریم یزدی وغیرہ ممتحنون کے سامنے امتحان بھی نمایاں نمبر لے کر پاس کر لیا۔ اس کے بعد مجھے ہر مہینے پانچ ریال بطور وظیفہ ملنے لگا۔ یہاں تک کہ یہ رقم برقعی کے لیے ناکافی تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ عبدالکریم حائری سے کہ کر ان کا وظیفہ بڑھایا جائے اور ان کا وظیفہ بڑھا دیا۔ ان کو آٹھ ریال وظیفہ ملنے لگا اور برقعی نے اپنی تعلیم جاری رکھی یہاں تک کہ سطح کا امتحان پاس کیا۔ برقعی نے فقہ اور اس کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد آپ اپنے جونیئر طلباء کو مختلف کتب بھی پڑھانے لگے اور برقعی نے کتب کی عدم دستیابی کے باعث اپنے ذہن سے کام لے کر جو چیزیں یاد تھیں فقہ، گرامر، منطق کی کتب ان کو پڑھائیں یہاں تک کہ آپ حوزہ میں مدرس یا استاد بن گئے اور 20 سال تک قم کے حوزہ میں پڑھاتے رہے۔

شاگردوں کے نام

جیسا کہ برقعی نے اپنی سوانح حیات میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد مدرس پڑھایا۔ انقلاب ایران کے بعد ان کے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔ ان میں سے چند شاگرد یہ ہیں

1- شیخ محی الدین انواری

2- شیخ محمدی گیلانی

3- شیخ لاہوتی

4- شیخ محمد رضا مھدوی کنی

5- شیخ عباس محفوظی

6- شیخ سید رضا برقعی

صفحہ 1 از 12