سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 10 از 12

میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے لگو، بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اور حالات کو بیان کرو تاکہ بات بھی درست ہو اور حق کی حجت بھی تمام ہو جائے، نیز یہ دعا کرو کہ اے اللہ ہمارا اور ان کا خون محفوظ فرما اور معاملات کی اصلاح کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستے پر لگا۔

بہرحال شہادتیں (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا اقرار کرنے والے کو گالی دینا اور بدگوئی کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا کرنا استعمار کی خوشی کا سبب ہے۔ اگر فرض کریں کہ صدر اسلام میں ایک گروہ نے یزید کی طرح اپنی ریاست کو بچانے کے لیے مومنین سے دشمنی کی، تو آج کے مسلمانوں کا کیا قصور ہے کہ ہم ان دور حاضر کے مسلمانوں سے دشمنی رکھیں اور ان کی بدگوئی کریں؟ ہمیں گزری ہوئی تاریخ کو بہانہ اور بنیاد بنا کر ہرگز ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ آیت نمبر 141 میں فرمایا ہے:

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

(تحریر: آیت اللہ سید ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی رضوی،تہران )

نوٹ: آیت اللہ برقعی نے محمد بن عبدالوہاب کے رسائل “عقیدہ اسلامی” کے علاوہ ان کی مشہور کتاب “کتاب التوحید” کا بھی فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ کسی فرقے کے متعلق سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی بجائے فارسی زبان جاننے والے خود براہ راست جان سکیں۔

جنگ عراق پر موقف

بعد از انقلاب حالات پر نظر

دولت اسلامی مملکت اسلامی نے عوام کے ایک گروه کو حزب جمہوری اسلامی اور شعار حزب فقط حزب اللہ کے نام پر اکسایا ہے کہ ہر روز در خیابانوں میں یا دانش گاہوں میں لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور ڈنڈے و چماق( آگ جلانے کی چیز) بلکہ قصابوں کی طرح چھڑیاں لے کر اور ہر مرتبہ سینکڑوں لوگوں کو زخمی‌ و مجروح و مقتول کر چکے ہیں اور کسی شخص کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجازت نہیں۔

میں خود جن ایام میں مشہد میں تھا میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ جن میں زیاده نادان لوگ یعنی نوجوان تھے کہ ڈنڈے و چماق لے کر پھرتے تھے اور دو نفر آخوند مولوی سیاه عمامہ پہنے ان لوگوں کے ساتھ چلتے تھے اور نعره لگاتے

حزب فقط حزب الله رهبر فقط روح الله

اور اس طرح اس حالت میں دانشگاه مشہد کی طرف چل دیے اور درجنوں لوگوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا اور پانچ کو قتل بھی کردیا اور ہر روز مجھے خبر ملتی تھی کہ فلاں فلاں شہروں میں اس قسم کے لوگوں کو مارنے پیٹنے اور قتل کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بہت سارے کتب خانے انہوں نے جلا دیے اور بہت سارے کتاب فروشوں کی دکانوں کے سٹال پر حملے کیے اور ان کی کتابوں کو خیابانوں اور نہروں میں بہا دیا اور کتب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔

اور اگر کوئی عدالت یا قاضی کے پاس پہنچتے تو وہاں بیٹھا قاضی یا وکیل اس کی مخالفت ہی کرتا۔ اسلام میں تو قاضی کو بے طرف ہونا چاہیے لیکن جمہوری اسلامی کے یہ قاضی خصومت اور ضد کے مجرم ہیں، یہ کیسے قوانین بنے ہیں؟ میری عمر کے ستر سالوں میں مجھے ایسا طریقہ اور قانون دیکھنے کو نہیں ملا اور اب میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں خوار ہوں اور خانہ نشین ہوں اور میں نفوذ کلام نہیں رکھتا، کہ میری وجہ سے کسی پر ظلم ہوتا اور اللہ کے حضور بازپرس مجھ سے ہوتا، جمہوری اسلامی کے نام پر ایسے کام کرتے ہیں کہ اسلام کے موافق نہیں اور عالم و جاہل ان کے اسلام کے مقررات سے بےخبر اور ناآگاه ہیں اور جب تک لوگ ناآگاه ہیں بلکہ ایسا ہوتا کہ لوگ ایسی صورت دیکھ کر کمیونسٹ اور لبرل ازم یا لائیسم اور بے دینی اختیار کرتے ہیں۔ خواه آج کے زمانہ حال کا ہو یا گزشتہ زمانے میں کچھ لوگوں نے چرب زبانی سے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہے اور جس وضع کو خود چاہا لوگوں پر تھوپ دیا۔ چنانچہ اس سال کردستان اور خوزستان میں جوانوں کو دشمن سے جہاد کے نام پر اکسایا اور، ہر روز اطراف مملکت میں زد و خورد و کشت و کشتار ہے۔ حزب حاکم کا ہر مرنے والا شخص ان کے مطابق شہید ہے اور جار و جنجال کے ساتھ ریڈیو پر او ر محافل میں اس کو شہید کہا جاتا ہے، حالانکہ ملت ایران کا ہر مخالف شخص خدا و رسول کے ضد میں مارا گیا ہے اور دوزخی ہے۔ گویا ان کے ہاتھ میں بہشت اور جہنم کی چابی ہے اور یہ قسیم الجنة و النار ہے 

بندر انگہ میں سینکڑوں لوگ سنی و شیعہ کے نام پر قتل ہوئے، گنبد قابوس میں لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور کردستان میں ہر روز جنگ و قتال برپا ہے، و با اینحال می‌خواهند جمهوری اسلامی‌را به ممالک دیگر صادر کنند و نمی‌دانند که اسلام مانند حبوبات نیست که آن را صادر کنند بلکه باید قوانین اسلامی‌را در مملکت خود پیاده کنند و به واسطه عدالت و تساوی توجه دیگران را جلب نمایند نه با زور و تظاهر و تزویر

سال 1359 میں ,میں خیابان آزادی میں اپنے گھر میں کوچہ بامدادان کے ایک کمرے میں تھا روز جمعہ نماز جمعہ اقامت کرتا، مولویوں کی دولت حکومت جس نے آزادی و عدالت کے بہت نعرے لگائے تھے بسیار، مامور فرستاد یعنی پاسدار ان کے مسلح گروه کو میں نے بس میں بھیجا اور میرے گھر کو خراب کیا اور مجھے دیگر بہت سے لوگوں کے ہمراہ پکڑ کر جیل میں ایک مہینہ کیلئے ڈال دیا.

اور رہائی کے بعد جب میں نے یہ دیکھا کہ میرے دوستوں کی جان خطرے میں ہے میں نے نماز جمعہ پڑھانا ترک کر دیا اور میرے گھر کو ان مدعیان عدالت نے غارت کیا اور اس کو روندا اور کئی سال ہوگئے واپس نہیں کیا۔ انہوں نے جتنا یہ کر سکتے تھے تہمت، اذیت اور ایذا مجھ کو پہنچانے سے دریغ نہیں کیا اور مسلسل مجھے زندان میں ڈالتے رہے اور تفتیش کیلے لیے جاتے رہے اور جو جو اذیتیں اور تکلیفیں مجھے دے سکتے تھے دیں

صفحہ 10 از 12