سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 11 از 12

ایک جوان فاضل و محقق جو احمد مفتی زاده کے نام سے ہے۔اہل علم ہے اور کردستان( اہل سنت تھے ) کے ایک دور کے ایک علاقے کے جوانوں کو جمع کیا ہے اور ان کو اصل دین اور قرآن سکھاتا ہے۔ کردستان کے ناآگاه لوگوں اور ایران کے دولت خرافی نے یہ کام کیا کہ ان کو کردستان سے بے دخل کیا اور ہجرت پر مجبور کیا۔ حالانکہ وه خود کردستانی ہیں اور اب 6 سال ہوگئے كہ مولویوں کی اس حکومت نے اس کو ناحق اور ظالمانہ طور پر جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ اسی حکومت کے منصوب کرده قاضی نے ان کو 5 سال کے قید کی سزا سنائی ہے۔ ہرچند یہ قاضی کا حکم ظالمانہ اور شریعت کے خلاف تھا، بعد میں اپنی مرضی سے اس سے زیاده عرصہ اس فاضل کو قید رکھا۔”

اسی کتاب سوانح ایام میں برقعی لکھتے ہیں:

“اسلامی جمہوریہ کے نااہل عہدیداران

ہمارے ایک دوست جو کہ علانیہ اور برملا مجھ سے اظہار ارادت کرتا تھا آغا سید خسروبشارتی تھا جو کہ کن و سلقان کے درمان راستی میں جزء حومہ تھران کے پاس بغیر کسی جرم اور عدالت کے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے شہید کر دیے گیے رحمت اللہ علیہ ورضوانہ۔ انہوں نے تو ایک بار میری دفاع میں ایک مقالہ میں حجت الاسلام متانت صاحب کو جواب دیا تھا جو کہ روزنامہ اطلاعات شمارہ نمبر 13 مورخہ 59 18۔4 کو شائع ہوا تھا”۔

یاد رہے ان کو پاسداران انقلاب اٹھا کر تفتیش کے بہانے لے کر گئے تھے اور بعد میں اس مقام سے ان کی لاش ملی تھی، جس پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے کافی احتجاج کیا اور آج بھی ان کا نام بے گناہ قتل شدگان کی فہرست میں ملتا ہے۔

جب آیت اللہ برقعی نے دیکھا کہ جس اسلامی نظام کی خاطر ہم نے جدوجہد کی اس کا بدترین نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور اسلام کے نام پر ہر جگہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ مردوں اور عورتوں کو جیلوں میں بناجرم سزائیں دی جا رہی ہیں بلکہ ان کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو ان کو اس پر بہت افسوس ہوا، فرمایا کہ اب میں اللہ سے دعا کرتا ہون کہ مولویوں کو کبھی حکومت نہ دے، کیونکہ یہ کسی ڈکتیٹر سے کم نہیں اور لوگوں کے تمام حقوق چھین لیتے ہیں۔

“ہمارے زمانے میں کچھ لوگ سیدنا علیؓ کے شیعہ کے دوعی کر کے فقیہ کے نام پر حکومت کرتے ہیں، یہ کسی ڈکٹیتر سے سو گنا بد تر حکمران ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ لوگوں کو بغیر کسی شرعی جرم اور صحیح عدالت کے قتل کرتے ہیں یا زندان میں ڈالتے ہیں۔ حالت اس قدر بدتر ہیں کہ جو شخص حکمران کے خلاف کچھ برملا بولے یا ان کے کسی کام پر اعتراض کرے تو اس کو بے دین اور مرتد قرار دیا جاتا ہے اور اس کا خون حلال قرار دیا جاتا ہے۔

سوانح ایام برقعی،ایران کی موجودہ صورتحال پر اشعار

پھر آپ نے چند اشعار اس موقع پر تحریر کیے ہین جس کا مفہوم درج ذیل ہیں:

“میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک محفل میں تھا، وہ ایک آگاہ اور نیک دین دار دوست تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اسلام کے متعلق کیا جانتے ہو کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا اسلام وہ دین ہے جس میں ملائیت نہیں، کشیش اور احبار اس دین میں نہیں۔ مصطفٰیﷺ مجتہد نہیں تھے امّی تھے، اور مرتضٰی بھی مجتہد نہیں تھے یہ دونون بیکار شخص نہیں تھے کہ فارغ بیٹھ کر لوگوں کی کمائی کھائے بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کر کے کماتے اور کھاتے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا لوگوں کا رہنما کون ہے، کس کو ہونا چاہیے؟ دین کی حفاظت کون کرے کس کی ذمہ داری ہے؟ اس نے جواب دیا، دین کا رہنما قرآن ہے اور دین کی حفاظت ہر کسی پر واجب ہے۔ دین میں ہر شخص پر جو دین کا طالب ہے اس پر علم حاصل کرنا عین واجب ہے۔ ہادی دین نے دین فروشی کہاں کی تھی، دین بیچنے والا لوگوں کا لیڈر نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ دین کوئی بیچنے کی چیز تو نہیں کہ اسے بیچا جائے اور اس کی کمائی سے کھائے۔ دین کو سیاست میں آنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ کہ اس کو بیچا جائے اور اپنی دکانداری چمکائے۔ سیدنا علیؓ سے بڑھ کر تو کوئی حکمران نہیں تھا لیکن ان کے نزدیک حکومت کی قیمت ایک جوتی سے بڑھ کر نہیں تھی اور وہ دلوں پر حکمرانی کرتے تھے نہ کہ ملکوں بلغاریہ،حجاز یا ہند پر حکومت نہیں کرتا تھا۔ میں نے اس سے علماء کے کردار کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ لوگوں کے گردن پر سوار بوجھ ہے۔ اس کا کام کیا ہے؟ اس نے کہا ملاؤں کا کام لوگوں کو قتل کرنا ہے۔ ان کی تکفیر اور ان کو قید کرنا ہے۔ وہ غرور کے نشے میں ہے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ حزب اللہ کا مطلب کیا ہے؟ اس نے جواب دیا اس کا مطلب تاتاریوں کے دور اور قانون کو زندہ کرنا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مملکت کی حالت کیا ہے، اس نے کہا کہ ایک بیمار کی طرح ہے، جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو۔میں نے اس سے پوچھا کہ انقلاب کے ہم پر کیا اثرات ہیں؟ اس نے کہا ہمارا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ہم اس کی وجہ سے بیدار ہو گئے ہیں۔۔ لوگوں نے ملاؤں کو دل سے منتخب کیا تھا اور وہ خیال کر رہے تھے کہ حقیقت میں ان کو آزادی ملے گی۔ لیکن وہ گڑھے میں گر گئے،کنواں میں پڑ گئے اور ہماری مشکلات سو گنا بڑھ گئی۔ غلطی سے دام میں پھنس گئے لیکن بیداری اور چوکنا ہوگئے اب میں نے اس سے پوچھا کہ نجات کب ہوگی؟ اس نے کہا کہ اگر تم اللہ سے دعا تضرع و زاری کرو تو نجات ملے گی اور تمہیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ان مشکلات اور آفات سے نجات دے۔”

جمہوری اسلامی کے نااہل عہدیدار کے نام سے لکھتے ہیں کہ:

”یہ جمہوری اسلامی کی اصطلاح بنو امیہ سے بھی بدتر ہے۔ نوجوانوں کی ایک تعداد جو جاہل ہیں اور اسلام و قوانین اسلام کا ذرہ برابر معلوم نہیں یہ لوگوں پر مسلط ہوگئے ہیں۔ یہ نوجوان کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے بلکہ جو ان کو ان کے بڑے یا لیڈر کہتے ہیں اس کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کو کسی قسم کی اذیت و ایذا سے دریغ نہیں کرتے۔ خود کو اسلام کا پاسدار محافظ کہتے ہیں۔ یہ مغرور ہیں اور دھوکے میں ہیں کہ ہم حزب اللہ ہیں اور ہم ہی اسلام کو نافذ کرنے والے ہیں۔ جو ہمارے بڑے حکم دینگے ہم اس کو بجا لائیں گے چاہے اس حوالے سے جو کرنے کا کہا جائے اسے درست سمجھتے ہیں۔

صفحہ 11 از 12