سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 12

یہ صرف ان چند شاگردوں کے نام ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ قم میں ان کی شاگردی اختیار کی ورنہ ان کے شاگرد جو حوزہ میں ان سے فیض حاصل کرتے رہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ان کے علاوہ بھی ان کے مختلف مقامات پر شاگرد رہے۔ البتہ ایک شاگرد شیخ وند کا ذکر برقعی نے کیا ہے کہ جس کو برقعی نے چند توصیفی کلمات لکھے تھے بعد میں اس نے ان کلمات کے ذریعے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ برقعی نے مجھے اجازہ اجتہاد دیا ہے اور اس کا غلط استعمال کرنے لگے اور بزعم خود اس مجتہد نے برقعی کے دوست استاد و فقیہ جناب مصطفی حسینی کے خلاف اپنے بغض و عداوت ظاہر کر دی اور برقعی سے استفادہ کرنے والوں میں سے وہ دوست جنہوں نے یزد میں شہر بدری کے دوران بھی ساتھ نہیں چھوڑا ان میں آقای جمال الدین رشیقی اور آقای حسین علیزادہ مقدم قابل ذکر ہیں۔

اولاد

آیت اللہ برقعی کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا اور ان کی رہائی اور اخلاقی مدد بھی جاری رکھی۔ ان کے نام یہ ہیں:

1- محمد حسن برقعی

2- محمد حسین برقعی

3- فاطمہ برقعی

4- زہراء برقعی

5- انیسہ برقعی

آپ کے اساتذہ

آپ کے اساتذہ کے نام یہ ہیں:

1- شیخ ابولقاسم کبیر قمی

2- حاجی شیخ محمد علی قمی کربلائی

3- آقای مرزا محمد سامرائی

4- سید محمد حجت کوہ کمری

5- حاجی شیخ عبدالکریم حائری

6- حاجی ابوالحسن اصفہانی

7- آقائی شاہ آبادی

8-آغا بزرگ تہرانی

9- عبدالنبی نجفی عراقی

10- آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی

11- سید شہاب الدین مرعشی نجفی

12- محمد بن رجب علی تہرانی

13- آغا خراسانی

رسالہ عملیہ

آیت اللہ برقعی نے جو رسالہ عملیہ یا توضیح المسائل لکھی ہے وہ اپنے دور کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ آپ نے اپنے رسالہ عملیہ کا نام “احکام القرآن” رکھا۔ جس مین تمام فقہی مسائل کو قرآن مجید کی آیات سے استنباط کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے مختلف فقہی مسائل کے علاوہ کافی مسائل عقائد سے متعلق بھی ذکر کیے اور توحید و شرک کے متعلق آیات کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس رسالہ کو بقول خود آیت اللہ برقعی بہت سے ملاؤں نے پڑھنا اور دکانوں پر رکھنا اور بیچنا یا خریدنا حرام قرار دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کتاب یا رسالہ عملیہ میں بیان کردہ عقائد ہمارے مسلک کے برخلاف ہیں۔ اس رسالہ عملیہ کے شروع میں آیت اللہ برقعی نے اپنا اجازہ اجتہاد بھی کیا تھا جو انہیں آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی نے درجہ اجتہاد پہنچنے پر دیا تھا۔ اس کا عکس ہم نیچے پیش کرتے ہیں۔ اس رسالہ کے سرورق پر آیت اللہ برقعی کو”مجتہد مجاہد علامہ برقعی" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

فدائیان اسلام

برقعی کے متعلق جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ فدائیان اسلام کے بانی اراکین میں سے تھے۔ فدائیان کے لیے آپ نے کافی خدمات انجام دیں۔ فدائیان کے ارکان کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں شریک رہے۔ یہی وجہ تھی کہ آیت اللہ بروجردی آپ کے سخت خلاف ہوگئے اور حوزہ علمیہ قم سے برقعی کو نکالنے کے لیے سازشیں کرنے لگے، شاید یہی وجہ تھی کہ بالآخر برقعی کو حوزہ علمیہ قم چھوڑنا پڑا کیونکہ ان کی مستعدی ،تحریکوں میں شرکت اور بیداری امت کے لیے تحریریں حوزوی منہج سے مختلف لگنے لگی تھی۔

حکومت جمہوری اسلامی کتاب

جیسا کہ ہم نے کہا کہ برقعی نے فدائیان اسلام کا ساتھ دیا ،اور ان کے ساتھ مل کر معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کا عزم طاہر کیا۔اور دوسری طرف برقعی کی شدید خواہش تھی کہ ایک اسلامی حکومت ایران میں قائم ہو جائے۔ انہوں نے مختلف علماء اور عوام سے مل کر اس کے لیے انتہائی کوشش کی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی کتاب “اسلامی جمہوری حکومت” نامی کتاب ہے۔ اس کتاب میں برقعی نے اسلامی حکومت کے متعلق انتہائی اہم ضروریات و معلومات جمع کیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ خمینی کی جب حکومت اسلامی کے لیے جدوجہد جاری تھی تو بہت سے اشاعتی مراکز نے برقعی کی اجازت کے بغیر یہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے مفت تقسیم کیں، اور سر ورق پر خمینی کی تصویر لگائی اور چند صفحات میں اپنی مرضی سے تحریف کی تھیں، اس کا ذکر سوانح ایام میں برقعی نے کیا ہے۔

اجازت نامہ

آیت اللہ برقعی کو کافی علماء یا مجتہدین نے اجازت اجتہاد سے نوازا۔ ان میں سے آپ کے چند اہم اساتذہ جنہوں نے اجازت دیئے ان کی تعداد تقریبا پندرہ ہے۔ آیت اللہ برقعی نے اپنے رسالہ عملیہ میں آیت اللہ سید اصفہانی کی جانب سے اپنے لیے جاری شدہ اجازت اجتہاد کا عکس شائع کیا تھا۔ دیگر علماء جنہوں نے برقعی کو اجازت اجتہاد دیا وہ یہ ہیں۔

برقعی کے متعلق مرعشی صاحب نے بالکل درست کہا:

” اللہ تعالیٰ کے نام سے۔حضرت آقای علامہ برقعی دامت برکاتہ العالیہ ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے۔ مشہور قول کے مطابق کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے، انہون نے بہت اچھے مطالب مقام امیر المومنین اور دوسرے ائمہ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ”عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے اور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والا گروہ نے ان کے متعلق کیا ہے،انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پڑھی اور اپنا ایمان خراب کیا ہے اور معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں (جیسا کہ عقلاء معلوم ہے) اور ائمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ پر ڈالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی، تاریخ شہر ذی القعدہ 1389

کتب کے نام

آیت اللہ برقعی نے شروع شروع میں شیعہ مسلک کی اشاعت کے حوالے سے کافی کتب لکھیں۔  آپ نے ایسی کتب لکھیں جو کہ بڑی تعداد میں شیعہ مبلغین نے پھیلا دیں۔ مثلاً آپ کی کتاب عقل و دین اور گلشن قدس اور کلمات قصار و دیگر ائمہ اہل بیتؓ کے فرمودات پر مشتمل کتب بہت مقبول رہیں۔

صفحہ 2 از 12