سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 12

آپ کی زندگی کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، آپ کی زندگی کا پہلا حصہ ایک متعصب اثناء عشری شیعہ کی طرح گزرا آپ نے شیعہ حوازات قم و نجف میں پڑھنے کے بعد حوزوی خرافات میں مبتلا تھے اور اسی لیے متعصب فرقہ پرست کی طرح اپنے مسلک کے دفاع کے لیے مگن ہوگئے۔ چنانچہ اس دوران آپ نے مختلف شعری مجموعے لکھے نیز شیعت کے دفاع کے ساتھ ساتھ احمد کسروی وغیرہ کی جانب سے شیعت پر کیے گیے حملوں کے خلاف دفاعی کتب لکھیں۔

آپ کی زندگی کا دوسرا دور چالیس سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے،اس عمر میں آیت اللہ برقعی نے جیسا کہ خود فرمایا اپنی سوانح ایام میں کہ میں اس دوران قرآن میں تدبر کرتا رہا اور مجھ پر یہ حقیقت اور راز کھل گئی کہ میں اور ہمارے مسلک کے علماء خرافات میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ان کی کتاب سے اقتباس پیش خدمت ہے:

آپ کی عمر کا آخری حصہ یا ستر سال سے وفات تک کا عرصہ بہت زیادہ مصائب و آلام اور آزار میں گزرا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے شیعہ اثنا عشری مسلک میں موجود خرافات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ ان تمام عقائد کو بھی رد کیا جو ان کے خیال میں اسلام و قرآن کے خلاف تھے۔

چنانچہ اسی ضمن میں انہوں نے شیعہ مسلک کی چوٹی کی کتاب الکافی کا رد پیش کیا جو “کسر الصنم یا بت شکن” کے نام سے مشہور ہے۔ شیعہ مسلک میں قبور کی زیارت کے حوالے سے بدعات کے رد میں آپ نے کتاب “خرافات وفور در زیارت قبور” لکھی۔ اس کے ساتھ ساتھ “تضاد مفاتیح الجنان بایات قرآن” نامی کتاب لکھی جس میں شیعہ مسلک میں موجود من گھڑت دعاؤں کا نہ صرف رد کیا بلکہ اماموں کے متعلق غلو کے رد کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے دو سو صفحات میں توحید عبادت کو مکمل بیان کیا۔، مزید آپ نے یہ کیا کہ تضاد "مذہب جعفری با اسلام و قرآن" اور "نقد المراجعات" نامی کتب لکھیں اور متعہ کے حرام ہونے پر آپ نے “تحریم متعہ در اسلام" نامی کتاب لکھی۔ بس پھر کیا تھا ایران کے بڑے بڑے مجتہد ان کے پیچھے پڑ گئے اور یہ مشہور ہو گیا کہ برقعی وہابی ہو چکا ہے یا سنی بن گیا ہے۔ برقعی پر مزید تہمت یہ لگی کہ برقعی حدیث غدیر اور حدیث ثقلین کا منکر ہو چکا ہے اور دشمن اہل بیتؓ بن چکا ہے۔

حکومت ایران نے یہ حالت دیکھی تو برقعی کی کتابوں پر پابندی لگائی اور برقعی کے خلاف فرد جرم عائد کیا اور 80 اسی سال سے زیادہ عمر کے اس بوڑھے عالم کو جیل بھیج دیا ایک تاریک کوٹھری میں تنہا ان کو رکھا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں “اسلامی جمہوریہ ایران” کے عہدیداروں اور قاضیوں کی طرف سے برقعی پر ڈھائے گئے۔ جیل کے اندر ملاؤں میں سے بعض نے برقعی کو دھمکی دی کہ تم مرتد ہو چکے ہو، چنانچہ ان کو جیل کے اندر ہراسان کیا جاتا اور کئی کئی دنوں بعد ان کو بالآخر روشنی دیکھنا نصیب ہوئی۔ جیل میں انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان کو سخت غذائیں دیں کیونکہ برقعی کے دانت گر چکے تھے اس لیے ان کی تکلیف کو بڑھانے کے لیے ایسی غذائیں دی جاتیں۔

ان کی تمام کتب جو انہون نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار مین لکھین ان کے نام یہ ہیں:

مرات الایات یا راہنمائی مطالب قرآن

کلمات قصار حضرت سید الشھداء

گنج گھر 1500 سخن از پیغمبر

گنج حقائق کلمات قصار امام صادق

رسالہ حقوق در حق خالق و مخلوق

عشق و عاشقی از نظر عقل و اسلام

حقیقۃ العرفان

التفتیش

فہرست عقائد عرفاء و صوفیہ

فہرست عقائد شیخیہ

فہرست عقائد حقہ اسلامیہ

عقل و دین جلد اول توحید

عقل و دین جلد دوم نبوت و امامت و معاد

خزینہ جواہر کلمات امام باقر

شعر و موسیقی از نظر عقل و اسلام

گلشن قدس یا عقائد منظوم

پاسخ بکسروی

دلیل حکم محاسن و شارب

سرگزشت مرحوم شہید نوری

فریب جدید

حواشی بر مکاسب

حواشی بر صلوۃ ہمدانی

مثنوی منطقی

فقہ استدلالی

فہرست مجالس المؤمنین

مجموعہ از اشعار

مجموعہ ای از اخلاق

تراجم الرجال دس جلد

تراجم النساء دو جلد

رسالہ پیش آھنگی

حواشی بر کتب حدیث

اربعین

جبر و تفویض

تحفۃ الضوی

ترجمہ مختار ثقفی

جدول در ارث

ترجمہہ بعضی از دعاھا

ترجمہ بعضی از وسائل

حافظ شکن

ترجمہ مقداری از توحید صدوق

ادعیۃ المعتبرہ

اسلام دین کار و کوشش

حدیث الثقلین

رسالہ احکام القرآن

ان کتب کے بعد برقعی نے جو کتب لکھیں وہ اپنے مسلک کی اصلاح کی خاطر لکھیں جن میں سے چند یہ ہیں:

اعلان عام

جب مخالفین کی جانب سے آیت اللہ برقعی پر وہابی یا گمراہ ہونے اور دشمن اہل بیت کہنے یا مرتد قرار دینے کے اعلانات جاری ہوئے تو آیت اللہ برقعی نے تمام اپنے وقت کے مجتہدین کو مناظرہ کی دعوت دی اور کہا کہ کسی پبلک مقام پر مناظرہ کرتے ہیں اور اگر میرے عقائد غلط ہیں تو میں ان سے رجوع کروں گا اور اگر آپ لوگوں کے عقائد غلط ہیں تو آپ ان سے دستبردار ہو جائیں لیکن کسی مجتہد میں یہ ہمت نہیں تھی کہ آیت اللہ برقعی سے مناظرہ کر سکیں۔ بلکہ آپ کو ہمیشہ گالیوں، تہمتوں اور دھمکیوں سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی جس کو آپ نے مسترد کر دیا۔

قید و بند کی صعوبتیں

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر مختلف مجتہدین کو قید و بند کی سہولتیں دی جاتی رہی ہیں جیسے آیت اللہ منتظری وغیرہ۔کچھ مجتہدین کو تشدد کر کے قتل بھی کیا گیا۔ آیت اللہ آشوری وغیرہ کو مختلف بہانوں سے سزائے موت دی گئیں۔ آیت اللہ صالحی نجف آبادی کو اپنے نظریات کی وجہ سے آخر عمر تک جیل میں بند رکھا گیا اور آج بھی بہت سے مجتہدین علماء اور دیگر مسالک کے لوگوں کو محض عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔ آیت اللہ برقعی کو بھی ان کی تجدید و اصلاح پر مبنی کتب لکھنے کی وجہ سے کئی مرتبہ جیل ڈالا گیا ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے جس کا ذکر آیت اللہ برقعی نے اپنی “سوانح ایام” میں کیا ہے:

مولویوں کے لیے مخصوص جیل انفرادی کوٹھریوں سے کئی لحاظ سے بدتر تھا کیونکہ وہاں پر مٹھی بھر مولوی جو متعصب، مغرور اور کم عقل تھے ان کو خیانت کے جرم میں جیل میں ڈالا گیا تھا۔ مثلاً ایک اخوند جو کہ امام جمعہ تھا اور کئی ملین لاکھوں پیسوں کے فراڈ کی وجہ سے وہاں تھا یا فلاں اخوند قاضی تھا اور چند لوگوں کو بغیر کسی جرم ثابت ہونے کے سزائے موت دی تھی یا رشوت لی تھی یا دیگر فلاں فلاں کاموں کے یہ مرتکب ہوئے تھے۔

صفحہ 3 از 12