سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 12

لیکن جیل میں جو کھانا دیا جاتا تھا جوان لوگ تو کھا سکتے تھے۔ لیکن میرے دانت بڑھاپے کی وجہ سے موجود نہیں تھے اور میرا قوت ہاضمہ بھی اچھا نہیں تھا، میں بہت تکلیف اور درد کے ساتھ یہ کھا لیتا تھا اور موٹی روٹی بھی میرے لیے درد دل اور بے سکونی کا سبب تھا۔ میں نے تھوڑا سا پراٹھا خریدتا اور اس کو میں کھاتا تھا۔

ایک عرصے تک میں پہلے مہینے میں تنگ کوٹھری میں مجھ کو رکھا گیا۔ میں نے کئی بار ان سے کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی۔یہاں تک کہ میری طبعیت شدید خراب ہوگئی۔ مجھے ایک کپڑاپٹی دیا اور مجھ سے کہا کہ اس کو اپنی آنکھوں پر باندھ لو۔ میں نے وہ کپڑا آنکھوں پر باندھی۔ تو اس کے بعد وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ بہت دیر بعد انتظار اور کھڑا رہنے کے بعد ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھ کے دیا اور وہ مجھے دوبارہ میرے سیل میں واپس لے آئے اور تین روز بعد ایک سپاہی دوا لے کے آیا اور کوٹھری کی پشت پر رکھا۔میں نے کہا کہ دروازہ کھولو اور مجھے دوا دے دو۔اس نے کہا کہ مجھے دروازہ کھولنے کی اجازت نہیں ہے اور تین روز تک دوا وہاں پڑی رہی۔ پھر ایک ہمدرد سپاہی آیا اور اس نے مجھے دوا دے دی۔

بے شک میں نے اس ملت کی خدمت اور ان کی بیداری اور خرافات سے ان کو نجات دینے کے لیے ہی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن انہوں نے شکریہ ادا کرنے کی بجائے مجھ پر ظلم کیا اور دشمنی نکالی۔ آج کا زمانہ ہی ایسا ہے کہ خادم کو روندتے ہیں اور خائن کو یہ سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ملاؤں نے اس دوران مجھ پر بہت سارے ظلم ڈھائے۔ پھر یہ عرصہ گزرنے کے بعد مجھے مولویوں کے جیل میں لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مولوی نما لوگوں کے ایک گروہ کو جنہوں نے ملاؤں کی حکومت (اسلامی جمہوری ایران) سے خیانت کی تھی اس وجہ سے یہ مولوی جیل میں تھے۔

اسی جیل میں کچھ بدعتی اخوند مولوی تھے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ لوگ میرے جانی دشمن تھے اور اگر وہ مجھے قتل کرنے کی طاقت رکھتے تو مجھے قتل کر دیتے کئی مرتبہ جیل میں انہوں نے مجھ پر حملہ کیا، مجھے مارا اور پیٹا لیکن دوسرے لوگوں نے درمیان میں آکر مجھے بچایا اور ان کو روکا۔

میرے لیے یہ بہت سخت اور مشکل دن تھے۔ ان میں سے ایک کا نام تو اچھا تھا لیکن بہت بدکردار اور مازنداران کے رہنے والے اور جاہل و متعصب اور خرافاتی تھے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ میں نرمی اور عاقلانہ گفتگو بھی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان لوگوں سے بحث کر سکتا تھا کیونکہ ان میں ادب ہی نہیں تھا اور مجھے یہ گندی گالیاں دیتے تھے اور کسی قسم کی اذیت اور تکلیف مجھے پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔اور جتنا ان سے ہوتا یہ لوگ غیبت کرتے اور تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ اس نے آغا کاظم شریعت داری کی مجلس ترحیم برپا کی تھی، اس کو نام نہاد اسلامی جمہوریہ کے قاضیوں نے چند سال کے لیے قید کی سزا سنائی تھی۔

دوسرا اخوند مولوی اس کا معاون تھا جو کہ جیل میں اس کی وجہ سے میرے لیے دوگنا تکلیف کا سبب بن گیا، اور یہ لوگ دوزخیوں کی طرح تھے جیسے کہ اللہ نے فرمایا: تخاصم أهل النار

یہ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے تھے اور گندے الفاظ بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے تھے لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام مولوی اخوند میرے خلاف متحد تھے۔ حالانکہ وہاں موجود ان مولویوں میں سے کسی نے بھی میری ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی، اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ میں کیا کہتا ہوں اور میرے عقائد کیا ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ جیل کے اندر ایک دوسرے کی جاسوسی بھی کرتے تھے اور کوئی شخص سادہ گفتگو کرنے کی بھی جرأت نہ کرتا تھا۔

جیسا کہ میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ جیل میں دیا جانے والا کھانا جوان قیدی تو کھا سکتے تھے لیکن میں ایک اسی 80 سال کا بوڑھا بیمار شخص یہ کھانا نہیں کھا سکتا تھا، اسی لیے بہت زیادہ تکلیف اور بے سکونی کے ساتھ میں یہ اوقات بسر کرتا تھا اور اس تمام عرصے میں میں جیل میں بیمار رہا۔ میں بہت ساری بیماریوں جیسے کمر درد، پاؤں کا درد، پیشاب کی تکلیف اور جلد کی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ایک مرتبہ میں اس قدر شدید بیمار ہوا کہ دوسرے مجھے لے کے نہیں جاسکتے تھے اور میں سکرات موت کی حالت میں تھا۔ مجھے انہوں نے اسٹریچر پر رکھا اور ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑ رکھا تھا۔مجھے چھے گھنٹے کے بعد کسی قدر طبعیت میں بہتری محسوس ہوئی، اور مجھے واپس جیل میں لے آئے، کچھ موٹی روٹی اور دو کھیرے لے آئے لیکن میں اس کو کھا ہی نہیں سکا۔یہ تھی اس جیل کی بدترین حالت کی ایک جھلک۔

اس بار جیل میں قید رہنے کے دوران اور اس سے پہلے بھی جب میں قید رہا مجھے کئی بار دھمکی دی گئی کہ مجھے سزائے موت دی جائے گی۔ جیسے ایک مرتبہ مجھے اسد اللہ لاجوردی کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے ملاقات کے وقت جب اس نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تمہیں موت کی سزا دینی چاہیے اور میں تمہیں سزائے موت دونگا۔

میں نے جواب میں کہا کہ یہ تو بہت بہتر ہوگا فوراً تم مجھے سزا دے دو تاکہ میں سکون پا سکوں اور تمہاری اذیتوں سے نجات پاؤں۔ اس آیت کو میں تم جیسے لوگوں کے متعلق ہی سمجھ کر پڑھتا ہوں۔

 وسكنتم في مساكن الذين ظلموا أنفسهم و تبين لكم كيف فعلنا بهم

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا

یہاں یہ بات واضح کر دیں کہ مولوی لاجوردی کہ جس نے برقعی کو دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں قتل کر دونگا اور سزائے موت دونگا اللہ کی مشیت اور قدرت دیکھیں کہ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اس کو کسی نے اس کے گھر پر ہی ایک قاتلانہ حملے میں بری طرح ہلاک کیا تھا۔ اس طرح اللہ نے مظلوم برقعی کی سن لی اور لاجوردی کو دکھا دیا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، اگر کسی پر ظلم کرو گے تو تم کو بھی ایک وقت دیکھنا ہوگا۔ برقعی نے جو آیت تلاوت کی تھی، وہ اللہ نے سچ کر کے دکھایا۔

صفحہ 4 از 12