سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 12

اس دوران مولوی فلاحیان اور دوسرے مولوی علی رازینی نے بھی مجھ سے کہا کہ تم مرتد ہو چکے ہو اور اس کی سزا کے طور پر ہم تمہیں سزائے موت دیں گے۔ معلوم ہوا کہ ان دو مولویوں کی حالت عام آدمی عوام سے مختلف نہیں تھی کیونکہ ان کو بھی معلوم نہ تھا کہ دین اور مذہب میں فرق کیا ہے۔ میں نے اس کے جواب میں کہا کہ تم جلدی سے مجھے قتل کردو تاکہ تم لوگوں کے شر سے میں نجات پا سکوں، لیکن یہ جان لو کہ اللہ نے فرمایا ہے: و من يرتدد منكم عن دينه

اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا۔

اور یہ نہیں فرمایا: من يرتدد منكم عن مذهبه

اور جو کوئی تم میں سے اپنے فرقے سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص شافعی مسلک کا تھا وہ مالکی مذہب قبول کرے، یا جعفری مسلک کا تھا اس نے زیدی مسلک قبول کیا تو اس کو مرتد نہیں کہا جائے گا۔ ایک مرتبہ تو اس قسم کے فہم و دانش کے لوگوں نے بہت سختی سے میرا گلا دبایا کہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ اگرچہ زبان سے خود کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شیعہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں اور عملی طور پر یہ ابنِ ملجم کے شیعہ ہیں۔ تین یا چار مہینے اور کچھ ہفتے گزرنے کے بعد میں نے اپنے بیٹے محمد حسین کو دیکھا، اس کو مجھ سے بالکل بھی ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بعد میں ملاقات کے بعد میں نے اپنے بیٹے سے کہا: جیل کے عہدیدار کچھ بھی نہیں سمجھتے اور بات نہیں مان رہے، جتنی جلدی ہو سکے قم جا کر آیت اللہ منتظری کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ دو علماء (مجتہدوں) کو تہران بھیجو تاکہ میں ان سے بحث کر سکوں، شاید یہ سمجھ سکیں کہ میں نے کوئی خلافِ اسلام کام نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اپنے دوسرے بیٹے سے کہا کہ شیخ محی الدین انواری سے کہنا کہ مجھ سے ملنے کیلے آجائے۔ وہ طالب علمی کے زمانہ میں میرا شاگرد تھا اور مجھ سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔اگرچہ وہ مجھ سے ملنے آیا لیکن میرے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا تھا اس میں بالکل بھی فرق نہ آیا۔ میں(برقعی) نے بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں بطور استاد(مدرس) پڑھایا۔ انقلاب ایران کے بعد میرے شاگردوں میں سے بہت سے علماء کو اہم منصب ملا۔ جب میں حوزہ علمیہ قم میں مدرس (استاد) تھا تو یہ مجھ سے پڑھا تھا اور اچھی طرح مجھ کو یہ سب جانتے بھی تھے، لیکن میں جانتا ہوں کہ غالباً ان کا مقام ان کے انصاف کی عکاسی کرتی ہے، میں نے سب کو پیغام تو نہیں دیا جیسے شیخ محمدی گیلانی، شیخ لاہوتی، شیخ محمد رضا مہدوی کنی، شیخ عباس محفوظی، شیخ سید رضا برقعی وغیرہ حوزہ علمیہ قم میں میرے شاگرد رہے تھے۔

یہ بات بھی بتا دوں کہ جن دنوں میں آیت اللہ منتظری کے نمائندے جیل کے معائنے کے لیے آئے، تو ان جیل کے عہدیداروں نے ان کو دھوکہ دینے کے لیے مجھے دوسرے چند لوگوں کے ہمراہ کسی اچھی جگہ منتقل کر دیا لیکن جب یہ نمائندے واپس چلے گئے تو واپس مجھے پہلی جگہ جیل میں لے آئے۔دوسرے قیدیوں کے برخلاف مجھے قرآن بھی مطالعہ کرنے کے لیے انہوں نے نہ دی، دوسری کتابیں مطالعہ کے لیے مل سکتی تھیں۔

کتابوں پر پابندی اور رد عمل

برقعی رحمہ اللہ نے یوں تو بہت ساری کتب لکھیں لیکن ان کی جس کتاب کی وجہ سے صوفیہ، شیخ اور دیگر شیعہ فرقے ان کے مخالف بن گئے وہ کتاب”التفتیش در مسلک صوفی” ہے۔ اس کتاب کے بعد ان کی دوسری کتاب جس کی وجہ سے نہ صرف شیخ و صوفیہ ان کے خلاف ہوئے اور ان کے خلاف عوام کو بھڑکایا بلکہ بہت سارے علماء بھی ان کے خلاف ہو گئے، اس کتاب کا نام “درسی از ولایت” ہے۔ اس کتاب کے بعد ان پر نہ صرف کفر و فاسق ہونے کے فتوے لگائے گئے بلکہ ان کو دھمکیاں دی گئیں اور وہابی مذہب کی تبلیغ کا الزامات بھی لگے۔ چنانچہ برقعی کے حق میں چند علماء نے فتوے بھی دیے مگر عوامی تحریک اور دباؤ کے سامنے یہ علماء بھی آخر بے بس ہوگئے۔ برقعی خود لکھتے ہیں:

میری کتابوں میں سے جس کتاب کی وجہ سے میرے دشمن بڑھ گئے اور وہ سب میرے خلاف ایک ہوگئے، وہ کتاب “درسی از ولایت” تھی۔ اس کتاب میں میں نے کچھ حقائق بیان کرنے کی جرأت کی تھی۔ شیعہ نما لوگ، صوفیہ اور شیخ کے شرک سے متعلق حقائق سے پردہ اٹھایا تھا اور میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ انبیاء و اولیاء اللہ کے صفات و افعال میں شریک نہیں ہیں۔ انبیاء و اولیاء کی تولیت اور ولایت صرف قانونی و شرعی امور میں ہے۔ ایجاد خلق و رزق اور ان جیسے دیگر کاموں میں ان کی تولیت اور ولایت کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس کتاب کے شائع ہوتے ہی میرے خلاف ہنگامہ اور شور برپا ہوا کہ خود میرے لیے بھی یہ تعجب کی بات تھی۔ میرے خلاف مولویوں کی جانب سے تہمت اور بدگوئی کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ سبحان اللہ! یہ کیا ہو گیا؟ آخر میں نے کیا غلط بات لکھ دی؟ کیا میں نے تو اس کتاب میں صرف قرآنی آیات اور قرآن کے موافق احادیث ہی تو لکھی تھی۔ صوفیہ و شیخ کی میری سابقہ کتابوں کی وجہ مجھ سے عداوت و دشمنی تو سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ میں نے ان کے بازار یا تجارت کی رونقیں ختم کر دی تھیں، مگر اس دفعہ مجھ سے وہ لوگ دشمنی کر رہے تھے جو خود کو اسلام و ظواہر شریعت کے محافظ و دفاع کرنے والے سمجھتے ہیں۔ کیا ان کی تجارت کی دکان بھی میری وجہ سے بند ہو گئی تھیں؟

جو بھی ہو بہرحال بہت سے عمامہ پوشوں نے قصیدہ خواں اور ذاکروں اور عوام کو میرے خلاف ابھارا اور مجھے کسی قسم کی گالی دینے اور بدگوئی کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

البتہ کتاب کے شائع ہونے کے بعد بعض علماء نے یہ کتاب پڑھی تھی، کچھ عرصہ تک میری حمایت اور دفاع کیا تھا لیکن جب انہوں نے مذہبی دکانداروں کی جانب سے میرے خلاف کھڑے ہونے والی مخالفت کے سلسلہ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور خاموشی اختیار کر لی اور ان میں سے بہت سارے اب مجھ سے یا میری کتاب کا دفاع کرنے اور پہلے جو میرے متعلق اور کتاب کے متعلق کہا تھا وہ دوبارہ بتانے کو تیار نہ تھے کیونکہ وہ عوام سے اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے تھے اور میری وجہ سے خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔

صفحہ 5 از 12