سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 12

جیسے آیت اللہ ذبیح اللہ محلاتی نے لوگوں کے سوال جو میری کتاب ولایت کے دروس کے متعلق تھی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا: “میں نے حجت الاسلام اور عادل عالم دین جناب برقعی کی کتاب پڑھی ہے ان کا عقیدہ درست ہے اور انہوں نے وہابیت کی ترویج نہیں کی ہے۔ لوگوں کی ان سے متعلق باتیں محض تہمت ہے۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ شعر درست نہیں ہے:

دنیا اگر فنا ہو جائے تو اس کو علی نے فنا کیا ہے

قیامت اگر برپا ہو جائے تو یہ علی نے برپا کیا ہے

میں بھی کہتا ہوں کہ یہ شعر درست نہیں ہے۔

مہر محلاتی۔”

آغا علی مشکینی نے نیز یوں لکھا تھا

“میں علی مشکینی نے کتاب“درسی از ولایت” کا مطالعہ کیا ہے اس کے مضامین عالیہ عقل سلیم اور منطق دین کے مطابق پا کر میں خوش ہوا ہوں۔

مہر علی مشکینی۔”

آقای حجت الاسلام سید وحید الدین مرعشی نجفی نے لکھا تھا:

” اللہ تعالیٰ کے نام سے حضرت آقای علامہ برقعی دامت برکاتہ العالیہ ایک مجتہد شخص ہے اور عادل و امامی مذہب ہے اور مشہور قول کے مطابق کسی شخص کتاب و تالیف اس کے عقل و عقیدہ کی عکاسی کرتی ہے انہوں نے بہت اچھے مطالب مقام امیر المومنین اور دوسرے ائمہ کے متعلق اپنی نئی کتابوں ”عقل و دین” اور ” تراجم الرجال” اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے اور ان کے متعلق قیل و قال اور جار وجنجال مطلب پرست، جلد باز اور عصبیت والے گروہ نے ان کے متعلق کہا ہے انہوں نے یہ کتاب درسی از ولایت مکمل نہیں پڑھی اور اپنا ایمان خراب کیا ہے معظم لہ کے متعلق ظالمانہ قضاوت کیا ہے جس کی ذرہ برابر حیثیت عقلاء و علماء کے نزدیک نہیں جیسا کہ عقلاء کو معلوم ہے اور ائمہ کی اس اولاد کو کہ جسے چند نفر مجتہدین نے اجازت اجتہاد دیا ہے اس کو رنجیدہ کیا ہے اور ان لوگوں نے اس طرح ایک بہتان عظیم اور افترائے شدید ایک مسلمان عالم فقیہ پر ڈالا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

خادم شرع مبین: سید وحید الدین مرعشی نجفی، تاریخ شہر ذی قعدہ 1389 “

لیکن اس کے باوجود مخالفت و بدگوئی،سب و شتم ، توہین و افتراء کا سلسلہ عمامہ پوشوں کی جانب سے جاری رہا اور میں نے مطلب پرستوں کے منہ بند کرنے اور عوام کو جو میری کتاب کے مطالب سے آگاہ نہیں تھے۔”

1: سوانح ایام برقعی

2: امام جمعہ و جماعت

3: مسجد پر قبضہ

4: اخبار یا رسالہ حیات المسلمین

5: دوسروں کی نگاہ میں

6: تفسیر پر کام

7: فقہ اسلامی پر کام

8: احادیث و روایات پر کام

9: رد بدعات پر کام

10: چند یادگار واقعات

11: کیا برقعی وہابی تھے؟

12: فرقہ پرستی سے آزادی

13: بزرگ تہرانی کی کتاب سے

14: خمینی کے ساتھ ہم نشینی

آپ کے خلاف لکھی گئی کتب

قانون جمہوری پر اعتراضات

برقعی کا سب سے بڑا ایک جرم یہ بھی تھا کہ انہوں نے “اسلامی جمہوریہ ایران” کے آئین پر تنقید کی اور اس میں موجود کئی خامیوں کی طرف اشارہ بھی کیا، ان کے اس تنقید کو کئی ایرانی مجلات اور اہل سنت و اقلیتی نمائندگی کرنے والے اخبار و رسائل نے شائع کیا۔ جس کا متن کچھ یوں ہے:

بسمہ تعالٰی 

اعتراض بہ ماده 12

قانون اساسی کو تفرقہ کا سبب نہیں بننا چاہے

قانون اساسی لکھنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلائیں اور اپنا دامن داغدار کریں۔ كتاب خدا و سنت رسولﷺ میں مذہب نہیں ہے، بلکہ دین کا تذکرہ ہے۔ اس جانب میں جو خود کو لغوی طور پر شيعہ حقيقی سمجھتا ہوں اور ائمہ اہل بيتؓ کو قبول کرتا مانتا ہوں، لیکن مقام امام و امامت کو مقام رہبری و رہنمائی کو دين کے برابر نہیں سمجھتا يعنی امام تابع دين ہے اور اس کی ترویج کرنے والا نہ اصل دين اور نہ ہی اسکی فرع ہے۔ دين مجموعہ ہے ایک قوانين اصول و فروع کا، اور ہر امام کو اس دین کا تابع و مبلغ ہونا چاہیے۔ دين اسلام دين واحد ہے اور كسی کو حق نہیں کہ اس میں کسی چیز کو کم اور يا زيادہ کرے اور اس کا وہ حق نہیں رکھتا۔

پس از اسلام مذہب بياورد اور کوئی بھی ائمہ شيعہ و يا سنی نے الگ مذہب لانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ امام جعفر صادقؓ خود کو جعفری نہیں کہتے تھے، اور یہ نہیں کہا کہ میں ایک مذہب “جعفری” کے نام سے لایا ہوں ۔

اور اسی طرح ابوحنيفہؒ و يا شافعیؒ نے نہیں کہا ہم ایک مذہب لائے ہیں، حضرت اميرالمومنينؓ نے نہیں فرمایا میں فلاں مذہب رکھتا ہوں۔ امام حسينؓ نے نہیں فرمایا میں جعفری ہوں۔ ان کے پیروکاروں نے 300 سال و يا بيشتر سال گزرنے کے بعد مقتدر باللہ عباسی کے زمانہ میں کہ جب فتویٰ و مذاہب کی کثرت ہونے لگی تو مذہب کو منحصر کیا چار فقہی مذہب پہ: جن کو مذاہب اربعہ کہا جاتا ہے، شيعوں نے نيز اہلسنت کے مقابل میں اپنا نام نہاد مذہب جعفری کے نام سے رکھا، یہ پانچواں مذہب قرار پایا اور تفرقہ سے دامن گیر ہوا، لیکن كتاب خدا نے اتحاد کی دعوت دی ہے اور تفرقہ پھیلانے والوں کو مشرک کہا، (سوره روم آيت 31، 32) میں فرمایا:

ولا تکونن من المشرکین۔مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّ‌قُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ

ترجمہ: اور مشرکین میں سے مت ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں(شیعہ شیعہ) میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے

مسلمان کو چاہیے کہ نام و عنوان دين ان کا وہی ہو جو خدا نے رکھا ہے اور فرمایا: سماكم المسلمين نہ مذہب اور دیگر نام تعجب یہ ہے كہ بعض علماء نام تشيع کے نام و عنوان سے استدلال كرتے ہیں کہ حديث رسول خداﷺ میں فرمایا: و شيعة علی هم الفائزون ان کے جواب میں کہنا چاہیے اولاد شيعہ علی وہ ہے جو كہ اصول و فروع دين میں علی کے مانند ہو اور مذہب کے نام پر تفرقہ ايجاد نہ کرے اور اصول دين اس کا علیؓ کے اصول دین سے مختلف نہ ہو کیونکہ آنحضرت نے نہج البلاغہ میں تفرقہ ايجاد کرنے والوں سے بيزاری کا اظہار کیا اور خطبہ 125 میں فرمایا: و إياكم والتفرقة و من دعا إلي هذا الشعار فاقتلوه و لو كان تحت عمامتي هذا يعنی تفرقہ سے دوري اختیار کرو اور ہر شخص جو شعار تفرقہ کی دعوت دے اس کو قتل کرو اگرچہ خود میں ہوں۔

صفحہ 6 از 12