سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 7 از 12

اور خود آنحضرت  نے کسی مذہب کے نام سے خود کو نہیں پکارا اور ايجاد تفرقہ نہیں کیا اور جماعت المسلمين سے جدا نہ ہوا اور خلفاء سے میل جول اور رابطہ رکھا۔ اپنے فرزندوں کا نام نام خلفاء پر رکھا اور اپنی بیٹی أم كلثومؓ کو خليفہ ثانی کے زمانہ میں خليفہ دوم عقد ازواج کیا، پس کیا خوب ہے كہ جو علماء حديث سے استدلال کرتے ہیں شیعہ کہلانے کیلے، کہ وہ قرآن کی طرف بھی توجہ كرے كہ اس تفرقہ سے قرآن نے منع کیا اور فرمایا کہ شيعہ شيعہ نہ ہو جاؤ۔ ایک جگہ  سوره انعام آيت 159 فرمایا:

إِنَّ اَلَّذِينَ فَرَّ‌قُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ 

ترجمہ: جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے (شیعہ شیعہ) ہو گئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اور سوره انعام آيت 65 میں فرمایا:

قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ‌ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْ‌جُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ 

ترجمہ: کہہ دیجئے کہ وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا و يا تمہیں لباس تفرقہ پہنا دیں اور وہ شيعہ شيعہ کر دے اور ایک کے ذریعہ دوسرے کو عذاب کا مزہ چکھا دے۔

اور ایک جگہ سوره روم آيت 31 میں تفرقہ پھیلانے والوں کو كہ یہ نام شيعہ ايجاد تفرقہ كرتے ہیں مشرک قرار دیا۔ ہمیں نہیں معلوم مگر کیا اسلام ناقص ہے كہ اس میں ایک مذہب کا اضافہ کیا جائے؟ ہزار سال ہوگئے كہ لوگوں کو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے جان لے رہے ہیں اور اور اس راہ میں خون کے نہر بہا دئے۔ آيا حضرت علی رضی اللہ عنہ و سارے ائمہ خود کو جعفری قرار دیا ہے؟ نہیں واللہ کیونکہ دين اسلام دين آزادی ہے اور ہر شخص ہر عقیدے کا حامل، یا ہر وہ ہاتھ جو کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچائے آزاد ہے اور اپنا بھی عقيده بیان کرنے میں بھی نبردآزما ہے. متأسفانه دين مبين اسلام کے مبانی کے برخلاف اگر كسي پر تہمت سنی ہونے کا لگے تو پھر اہلِ تشيع کے درمیان زندگی اس کی دشوار ہو جاتا ہے۔ ہر ساعت دھمکیوں کا موجب اور اس کی جان و مال خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اب جب امام خميني نے فرمایا سنی و شيعہ بھائی بھائی ہیں۔ اور امور حکومت چلانے والے آزادي و استقلال کے بہانے کرنے والے اور اس کا مذاق اڑانے والے اگر کسی ایک شخص کو دیکھیں کہ وہ حقائق اسلام کو بيان كریں، تو وہ اس کو سنی ہونے کے نام پر اس کو زد وکوب کرتے ہیں، حتیٰ کہ حق حيات بھی اس سے چھن جاتی ہے اور بعض محصلين و شيعہ نا آگاه اس کو كافر و واجب القتل سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عنوان آزادی و جمہوری اسلامی‌فقط لقلقہ زبان ہے اور یہ مصداق خارجی نہیں رکھتا بلكہ اسلام کی بدنامی‌ کا موجب بنتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ہیں جو کہ یہ آزادی ان کو حاصل نہیں یہاں کہ حقائق اسلام کو بیان کر سکے اور لوگوں کو وحدت اسلامی کی دعوت بھی نہیں دے سکتا، اور اگر کوئی سمجھائے کہ امام تابع دين ہے۔ حقائق کا كتمان چھپانا مت کرو، سینکٹروں تہمتیں افترا اس پر لگتے ہیں۔ بنابریں جیسا کہ یہ ذکر کیا کہ مقام امامت، مقام رہبری بہ سوی دين ہے نہ کہ خود دين ہے، اور كسی کو حق نہیں ہے کہ امام و امامت کے نام سے اصول و يا فروع اسلام کو كم اور زيادہ كرے. میں ان مطلب کو قانون اساسی لکھنے والون کیلے تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ وہ مواد قانون کے شق یا اصل جو کہ مذہب سے متعلق ہے اور موجب تفرقہ ہے، حذف یا پھر ترمیم کی جائے اور آئندہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کو یاد رکھیں۔

ہم کہتے ہیں اصول دين، ايمان وہ چیز ہے کہ خدا فرمایا کہ ان پر ايمان لاؤ اور علی رضی اللہ عنہ ان پر ايمان لاۓ۔ خود اور اپنے پر ایمان کو حضرت علیؓ نے اصول دين و يا مذہب قرار نہیں دیا۔ کسی ایک جگہ بھی نہیں فرمایا میں خود پر اور یا اپنی اولاد پر ایمان لایا، يعنی آپؓ کے اصول دين میں سے ایک اپنی امامت اور اپنی اولاد کی امامت نہیں تھا، اور ہم حضرت کو امام سمجھتے ہیں، چاہیے کہ ہم ان تمام چیزون پر ايمان رکھیں كہ جن پر خود حضرت علیؓ ايمان رکھتے تھے کیونکہ اصول دين امام و مأموم سب کیلے ایک ہی ہونا چاہیے۔ بنابریں کوئی شخص مذہب کے نام پر ایک اصول کا دين حضرت امير المومنين کا اضافہ کرتا ہے وہ دشمنان آنحضرت میں سے ہے، نہ کہ ان کا پیروی کرنے والوں میں سے بعضي از افراد نا آگاه کہتے ہیں کہ جب بعض ممالک اسلامی‌ نے مذہب حنفی و يا شافعی کو رسمی مذہب قرار دیا، تو ہمیں بھی مذہب جعفری کا عنوان اور نام دینا چاہیے۔ جواب یہ ہے كہ انہوں نے برا کیا یا نہیں یا پھر اچھا کیا؟ اگر برا کیا تو کیا ہم کو بھی ان کی پیروی میں برا کام کرنا چاہیے، نہیں اس کے علاوه ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے مسلمان وحدت كلمہ رکھے، اور مسلمين جہاں کو دعوت اتحاد و يگانگی دیتے ہیں۔اور تمام مسلمين کو ایک پرچم تلے جمع کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تمام رہبران دينی اور زعمای روحانی پر واجب ہے كہ حقائق کو بيان كریں

جیسا کہ آية 159 فرمایا: إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّـٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَـٰبِ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّـٰعِنُونَ ۔

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں

والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته، ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وماتوفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب 

الأحقر السيد ابوالفضل العلامه البرقعي

نوٹ:اس میں آیت اللہ برقعی نے جو “مذہب اور دین” میں فرق بتایا ہے، آپ نے اس فرق کو 25 یا 30 کے قریب نکات میں بیان کیا ہے کہ دین اور مذہب میں کیا فرق ہے۔اور اسلام دین ہے مذہب نہیں

دیگر مسالک سے حسن ظن

صفحہ 7 از 12