سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 8 از 12

آیت اللہ برقعی دیگر اسلامی مسالک سے حسن طن اور محبت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہون نے امام شافعیؒ کے احکام القرآن، ابن تیمیہ و محمد بن عبدالوہاب کی کتابوں کا ترجمہ کیا اور ساتھ ہی زیدی شیعہ مذہب کی چوٹی کی کتاب مسند امام زید کا فارسی ترجمہ اور نیز دیگر کتب کے حوالے اپنی کتاب الجامع المنقول میں ذکر کیے۔ چنانچہ فرقوں کو باہم قریب لانے کے متعلق ان کا نظریہ درج ذیل ہے۔ 

ان کے الفاظ ملاحظہ کیجیے:

شروع کرتا ہوں اللہ عزوجل شانہ کے نام سے

مترجم کتاب(برقعی) سالوں سال ایران کے مذہبی پیشواؤں کی جانب سے محافل و مجالس میں حجاز میں موجود وہابی فرقہ کے بارے میں بدگوئی اور لعن و طعن سنتا رہا ہے۔ جس طرح شیعہ اپنے علماء میں سے کسی عالم کے مقلد ہیں بالکل اسی طرح حجاز سعودی عرب والے فروع دین میں محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کرتے ہیں اسی لیے ان کو وہابی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ محمد بن عبدالوہاب نے خود کو کبھی وہابی نہیں کہا بلکہ خود کو مسلمان ہی کہلاتے تھے، اور محمد بن عبدالوہاب ایک عالم دین تھے جنہوں نے بارہویں صدی ہجری کے شروع میں مسلمانوں میں موجود شرک اور بدعات کو دور کرنے کے لیے قیام کیا اور ان چیزوں کے خلاف کھڑے ہوگئے اور ایک گروہ کو اپنے اصلاحی نظریات کی طرف دعوت دی۔مسلمان فرقوں نے اس کی باتوں کو ماننے والوں کو "وہابی" کا لقب دیا۔ ایران میں ہر وہ سچے بزرگ اور عالِم دین جو لوگوں کو حقائق قرآن اسلام اور توحید بیان کرے یا دین میں موجود کسی بدعت کو وہ رد کرتا ہے تو اس پر فوراً وہابی ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے اس کے رد پر دلائل نہیں لاتے سوائے اس کے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور اس پر تشدد کرتے ہیں۔

میں خود تعجب کرتا ہوں اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ وہ شخص جو قرآن کے حقائق بیان کرے، اسے کیا وہابی کہا جائے؟ آخر وہابیوں کے عقائد کیا ہیں جو ہم قبول نہیں کرسکتے؟ کیا محمدﷺ اور علی بن ابی طالبؓ اور تمام نامور بزرگانِ دین قرآن سے تمسک کرنے والے نہیں تھے؟

ہمارے اس زمانے میں بہت سارے علماء دین کے معاملے میں روشن فکر ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی انہوں نے کسی دینی حقائق میں سے کسی حقیقت سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کو توحید اور قرآن سے آگاہ کیا تو لوگوں نے اس کو فوراً وہابیت کا بہانہ بنا کر اس کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔ عوام کو اس کے خلاف ہمیشہ بھڑکایا۔ جیسے آیت اللہ بزرگ حاجی سید اسد اللہ خرقانی، آیت اللہ خالصی زادہ اور نابغہ کبیر شریعت سنگلجی، آیت اللہ وحید الدین مرعشی نجفی، آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم حجت الاسلام والمسلمین آغا سید جلال جلالی قوچانی اور دیگر بہت سارے لوگ۔ اللہ ایسے لوگ مزید پیدا کرے۔

کثراللہ تعالی امثالھم۔

پس انسان اس قاعدے کے مطابق کہ الانسان حریص علی ما منع،انسان اسی چیز کی جستجو کرتا ہے جس چیز سے روکا جاتا ہے۔ میں نے بھی جستجو شروع کی اور تحقیق کی اور میں نے دیکھا کہ وہابی جماعت کیا کہتی ہے؟اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ اگر واقعی میں وہ لوگ مسلمان ہیں تو پھر ان کا خون اور ان کے مال و عرض و آبرو کی حفاظت واجب اور ان کی بدگوئی اور غیبت کرنا حرام ہے۔کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرے اور موحد نہ بنے۔ فرمایا عرض المسلم کدمہ

یعنی مسلمان کی عزت و آبرو اس کے خون کی طرح (حرام)ہے۔

یعنی جس طرح کسی مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کی آبرو برباد کرنا بھی نیز گناہ کبیرہ ہے۔

بہت افسوس کا مقام تھا کہ کہ ایران میں کوئی وہابی نہیں رہتا تھا کہ میں اس سے جا کر تحقیق کر سکوں اور نہ وہابیوں کی کوئی کتاب مجھے پڑھنے کو ملی۔ یہاں تک کہ سال 1352 شمسی کو مجھے اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ الحرام کی توفیق دی اور مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺ کی زیارت کے لیے جب میں گیا تو مجھے وہاں ایک کتاب دیکھنے کو ملی جس کا عنوان یہ تھا ’العقیدہ الاسلامیہ لشیخ محمد بن عبدالوہاب۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہر شخص کے عقیدہ کو خود اس سے پوچھ کر یا ان کی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کرنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ دوسرا شخص کسی شخص یا کسی کے عقیدے کے متعلق کم یا زیادہ یا تحریف کر کے غلط معلومات دے سکتا ہے اور اپنے مقصد کے لیے غلط بیانی بھی کر سکتا ہے۔ پس بہتر یہ ہے کہ خود اس شخص محمد بن عبدالوہاب کی کتاب جو اس مذہب کے بانی و مرجع ہیں۔ اس کا مطالعہ کروں تاکہ اس کے اور اس کے پیروکاروں کے عقائد کو میں جان سکوں۔

بہرحال میں نے وہ کتاب پڑھنے کے لیے پکڑی اور جب میرے کچھ دوستوں نے میرے پاس یہ کتاب دیکھی تو مجھ سے درخواست کرنے لگے کہ چونکہ ہم وہابیوں کے عقائد کے متعلق جانتے نہیں اس لیے اس کتاب کا ترجمہ سادہ فارسی زبان میں بغیر کمی بیشی کے کر دی جائے اور اگر ہو سکے تو مختصر توضیح بھی لکھ دیں تاکہ ہم بھی جان سکیں۔ اس لیے میں نے مختصر توضیح بھی اس کتاب کی لکھی ہے۔ یہ کتاب عقیدہ اسلامی تین رسالوں پر مشتمل ہے جو خود محمد بن عبدالوہاب کی ہے سال 1390 قمری مین شائع ہوا تھا اور تقریباً 63 صفحات پر مشتمل تھا۔

پہلا رسالہ خدا شناسی دین اور پیغمبر شناسی پر مشتمل تھا۔دوسرا رسالہ صحیح راستہ کا بیان اور دین حنیف ملت ابراہیمی کے متعلق تھا اور تیسرا رسالہ ان لوگوں کی شبہات کے رد میں تھا جو انہوں نے اسلام اور توحید کے متعلق کیے تھے اور ان کو جوابات بھی دیے گئے تھے۔

صفحہ 8 از 12