سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی - ردِ رافضیت |…

سابق شیعہ مجتہد مفسر علامہ آیت اللہ العظمی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 9 از 12

محمد بن عبدالوہاب کی اس کتاب کا فارسی ترجمہ لکھنے اور اس کو شائع کرنے کا میرا مقصد بس یہی ہے کہ لوگ جان سکیں کہ آج کا دور تفرقہ اور نفاق کا زمانہ نہیں ہے اور مسلمانوں کے فرقوں میں سے ہر فرقہ پر واجب ہے کہ وہ نزاع اور جدل اور ایک دوسرے کی بدگوئی کرنے سے پرہیز کرے اور استعماری ایجنٹوں کے ہاتھوں کھلونا اور آلہ کار نہ بن سکیں۔آج جب مسلمان تفرقہ فرقہ واریت اور انتشار کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں اور دشمنانِ اسلام نے ان کے دمیان رخنہ اور پھوٹ ڈال دیا ہے اور ان کی دین و آبرو اس وقت سخت خطرے میں ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں متحد ہو جائے اور آل محمدﷺ کی ولایت کے نام پر بےچاری عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نہ بھڑکائیں۔ آج تمام مسلمان حتیٰ کہ اہل سنت کا متعصب طبقہ متعصب سنی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی آل محمدﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ امیر المومنین علی بن ابو طالبؓ کی محبت اور سیدہ فاطمہؓ کی اولاد پر وہ بھی فخر کرتے ہیں۔ آل محمدﷺ کے حقیقی محب اور دوست وہ ہیں جو امت میں تفرقہ نہ پھیلائیں۔ دوسرے مسلمانوں کے خلاف فحاشی گالی دینے اور بدگوئی سے بھی پرہیز کریں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کہنے والوں کو خود سے الگ نہ کریں اور تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی سمجھیں اور آیت شریفہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کو مد نظر رکھے۔ وہ اہل بیتؓ کے سچے محب ہرگز نہیں جو تفرقہ بازی کریں، مسلمانوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرے اور علمی یا دینی مسئلے میں کسی غلطی کی وجہ سے فوراً تکفیر کرے۔ اس پر لعنت کرے یا اس کو فاسق قرار دے کر خود سے جدا کریں۔ جال و جنجال کی راہ پیدا کرے۔ بلکہ آپس میں نرمی و خیرخواہی اور علمی و قرآنی دلائل سے ایک دوسرے کو جواب دے۔ باہمی اختلافات کو کم کرے نہ کہ یہ شیوہ ہو جس طرح کہ بعض صاحبان منبر کرتے ہیں کہ کسی کی بدگوئی کریں اور افتراء باندھے اور مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا سہارا لیں۔ بہت سارے خطیبوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ عقل نہیں رکھتے یعنی بغیر مطالعہ کے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

پس ہمارا مقصد اور ہدف اِس فرقے اور اُس فرقے کی طرف دعوت دینا نہیں ہم مسلمان ہیں اور ہماری دعوت خدا و رسول اور قرآن و اسلام ہے۔ آج تمام مسلمان فرقے قرآن کو مانتے ہیں اور قرآن کو اپنی الہامی کتاب مانتے ہیں۔ میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے ہر فرقے سے محبت رکھتا ہوں اور حق بات ان فرقوں میں سے جو بھی فرقہ کرے، اس کو قبول کرتا ہوں۔ عداوت و عناد سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کہ تمام مسلمان فرقوں کو چاہیے کہ خود کو مسلمان نام دیں اور جب اللہ نے سورہ یونس آیت نمبر 72 میں فرمایا کہ:

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مسلمان رہوں

نیز ہمیں چاہیے کہ رسول اللہﷺ کی اتباع کرتے ہوئے خود کو صرف مسلمان کہیں اور ناموں اور مذاہب فرقوں سے جو کہ فرقہ واریت کی وجہ ہیں خود کو دور اور الگ کر لیں۔ پس مسلمان فرقوں میں سے ہر فرقے کو چاہیے کہ وہ خود کو تعصب سے دور کر لیں اور خود کو صرف مسلمان کہلوائیں تو وحدت اور اتحاد کا ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور لا اقل تمام مسلمانوں کی فرقوں کے نام پر تکفیر بھی نہ کی جائے۔

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ: اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ( آل عمران 85 )

بہرحال میں نے محمد بن عبدالوہاب کے اس رسالہ کے مندرجات کو قرآن و سنت رسولﷺ کے برخلاف نہیں دیکھا۔اور اس میں کسی کو گالی اور لعنت مجھے نہیں ملی اور ان کے عقائد ایسے نہیں کہ مجھے ان کے باطل ہونے پر دلیل لانے کی ضرورت پڑے۔ بلکہ ان کی کتاب کو میں نے کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کے عین مطابق پایا۔ اگر پھر بھی کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کے رسائل عقیدہ اسلامی کے مطالب باطل یا پھر قرآن مجید کے خلاف ہیں تو اس کو چاہیے کہ سب و لعن کرنے کی بجائے دلائل پیش کرے۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام آیت 108 میں فرمایا

وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔

اس شخص پر سب اور اس کی بدگوئی نہ کرے جو کہ غیر اللہ کو پکارے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں اللہ کو گالی دے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو گالی دینے یا سبّ کرنے سے منع فرمایا ہے۔پس جو شخص اہل بیت رسول اللہﷺ کی محبت اور دوست ہونے کا دعویٰ کرتا ہو بھلا کیسے وہ دوسرے مسلمان فرقوں کی بدگوئی کرتا ہے؟ امیر المومنین علی بن ابوطالبؓ کے متعلق نہج البلاغہ خطبہ نمبر 204 میں ذکر ہے کہ آپﷺ نے اپنے اصحابؓ میں سے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ لشکر معاویہ کی بدگوئی کر رہا ہے تو آپ کرم اللہ وجہہ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا اور کہا:

إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ وَ لَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي اَلْقَوْلِ وَ أَبْلَغَ فِي اَلْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ اَللَّهُمَّ اِحْقِنْ دِمَاءَنَا وَ دِمَاءَهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَ بَيْنِهِمْ

صفحہ 9 از 12