Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات

  امام ابنِ تیمیہؒ

فصل:....شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سبب لوگوں میں دو قسم کی بدعات پیدا ہوئیں :

۱۔ یوم عاشوراء پر ماتم اور غم و حزن کی مجالس قائم کرنے کی بدعت ۔ جس میں چہروں کو پیٹا جاتا ہے ؛ نوحہ گری کی جاتی ہے ‘ اور رویااور چلاّیا جاتا ہے؛پیاس کاٹی جاتی ہے؛اور مرثیے پڑھے جاتے ہیں ۔ سلف صالحین پر لعن و طعن اور ملامت کی جاتی ہے ۔ اور گنہگاروں کے ساتھ ان لوگوں کو بھی شامل کردیا جاتا ہے جن کا کوئی گناہ ہی نہیں ۔ یہاں تک کہ سابقین اولین رضی اللہ عنہم کو گالیاں دی جاتی ہیں ۔ اور لوگوں کو ایسی روایات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں اکثر جھوٹ ہوتا ہے۔یہ چیزیں ایجاد کرنے والے کا مقصد مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا اور فتنہ کا دروازہ کھولنا تھا۔[حالانکہ ]ایسا کرناباتفاق مسلمین نہ ہی واجب ہے اور نہ ہی مستحب ۔بلکہ پرانے مصائب پر گریہ و زاری اور نوحہ کرنا ان بُرے امور میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہے ۔ اور یہی حال فرحت و خوشی کی محفلیں جمانے کا ہے ۔

کوفہ میں شیعان حسین رضی اللہ عنہ کی ایک قوم آباد تھی ؛ جو آپ کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ ان کا بڑا سردار مختار بن عبید ثقفی کذاب تھا۔ اور ایک قوم نواصب کی تھی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد سے بغض رکھتے تھے۔ ان میں سے حجاج بن یوسف ثقفی تھا۔ صحیح مسلم میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک سفاک (ناحق خون بہانے والا) ہوگا۔‘‘ [مسلم۳؍۱۹۷۱]

آپ کے ارشاد گرامی کے مطابق ثقیف کا کذاب مختار بن ابی عبید شیعہ تھا اور سفاک حجاج بن یوسف ثقفی ناصبی تھا۔ شیعہ نے غم و اندوہ کی مجلسیں لگانی شروع کیں تو ناصبیوں نے خوشی اور مسرت کی مجالس جمالیں ۔اور انہوں نے روایات گھڑ لیں کہ : جو کوئی عاشوراء کے دن اپنے اہل خانہ کے کھانے میں وسعت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ سارے سال کے لیے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتے ہیں ۔ [یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اور الزام تراشی ہے۔ دس محرم کے روزے کے علاوہ کسی چیز کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ]

امام حرب الکرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس روایت کے متعلق پوچھا: تو آپ نے فرمایا : اس روایت کی کوئی اصل [بنیاد] ہی نہیں ہے۔‘‘سوائے اس روایت کے جو سفیان بن عیینہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر کوفی سے روایت کیا ہے؛ وہ اپنے والد سے نقل کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے: ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ : جو کوئی عاشوراء کے دن اپنے اہل خانہ کے کھانے میں وسعت کرتا ہے ....‘‘

ابن منتشر کوفی نے ایسے لوگوں سے سنا اور روایت کیا ہے جنہیں وہ جانتا نہیں ہے۔

ایسے ہی انہوں نے ایک اور روایت گھڑلی ہے کہ : جس نے عاشوراء کے دن سرمہ لگایا ؛ اسے پورا سال آنکھ میں تکلیف نہیں ہوگی۔اور جس نے عاشوراء کے دن غسل کیا وہ اس سال میں بیمار نہیں ہوگا۔اس وجہ سے کچھ لوگ عاشوراء کے دن غسل کرنے اور سرمہ لگانے ؛ اپنے اہل و عیال کے خرچ میں وسعت کرنے اور نئے نئے کھانے بنانے کو مستحب سمجھنے لگ گئے۔

یہ حقیقت میں بدعات ہیں جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر تعصب رکھنے والے لوگوں نے گھڑ لی ہیں ۔اور دوسری طرف وہ بدعات ہیں جو آپ کی ذات کے لیے تعصب کرنے والوں نے گھڑلی ہیں ۔[حقیقت میں یہ سب بدعات اور باطل امور ہیں ] ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے ۔ ائمہ اربعہ یا ان کے علاوہ دیگر ائمہ میں سے کسی ایک نے بھی اسے مستحب نہیں کہا۔نہ ہی یہ امور اور نہ ہی وہ امور ۔ اور نہ ہی ان چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی مستحب ماننے کی کوئی شرعی حجت موجود ہے ۔بلکہ جمہور علماء کرام کے نزدیک یوم عاشورا کا مستحب عمل روزہ رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ اور بعض نے صرف دس تاریخ کے روزہ کو مکروہ جانا ہے ۔ یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ۔

جن لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کاقصہ نقل کیا ہے ؛ انہوں نے اس میں بہت کچھ جھوٹ اپنی طرف سے زیادہ کردیا ہے ؛ جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ نقل کرنے والوں نے اس میں بہت کچھ اپنی طرف سے ملا دیا ۔ ان لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ اس طرح کے واقعات و حادثات کو لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کریں ۔ جیسا کہ مغازی اور فتوحات کے ضمن میں اس طرح کی چیزیں زیادہ کی گئی ہیں ۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ لکھنے والوں میں ایسے بھی ہیں جو اہل علم ہیں ‘ جیسے کہ علامہ بغوی اور ابن ابی الدنیا ؛وغیرہما۔ مگر اس کے باوجود ان کی مرویات میں منقطع آثار اور باطل قصے بھی پائے جاتے ہیں ۔ جوو اقعات مصنفین نے بغیر اسناد کے ذکر کیے ہیں ان میں بہت سارا جھوٹ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو آپ کا سر عبیداللہ بن زیاد کے سامنے لاکر رکھا گیا۔اس نے چھڑی سے آپ کے دانتوں پر مارا۔اس مجلس میں انس بن مالک اور ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ صحیح بخاری میں ہے؛ محمدبن سیرین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :

’’جب عبیداللہ بن زیاد کے پاس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک لایا گیا اور طشت میں رکھا گیا؛ تو ابن زیاد ان کی آنکھ اور ناک میں مارنے لگا [اور آپ کی خوبصورتی پر اعتراض کیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا]: ’’ آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے۔ اور اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور داڑھی میں وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا۔‘‘ [صحیح بخاری:ح۹۵۳]

بخاری شریف میں ہی ہے : حضرت ابن ابی نعیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا :

’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے کسی نے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا اگر کوئی محرم (یعنی وہ شخص جو احرام کی حالت میں ہو)کسی مکھی کو مار ڈالے (تو کیاحکم ہے؟)توحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اے اہل عراق! تم مکھی کے قتل کا مسئلہ دریافت کرتے ہو؛حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بیٹے (حسین رضی اللہ عنہ )کو قتل کر دیا؛ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :’’ یہ دونوں میری دنیا کے دو پھول ہیں ۔‘‘[بخاری:ح۹۵۹؛ البخاری ۵؍۲۷ ؛ کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب مناقب الحسن و الحسین ؛ سنن الترمذي ۵؍ ۳۲۲ ؛ کتاب المناقب ؛ باب مناقب أبي محمد الحسن و الحسین۔]

ایک مجہول سند کے ساتھ یہ بھی روایت کیا گیا ہے یہ واقعہ یزید کے سامنے پیش آیا۔اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس لے جایا گیا تھا۔ اور اس نے چھڑی سے آپ کے دانتوں پر مارا تھا۔باوجود اس کے کہ یہ واقعہ ثابت نہیں ہے ؛ پھر بھی روایت میں اس کے جھوٹے ہونے کی گواہی موجود ہے۔ اس لیے کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھڑی مارنے کے وقت موجود تھے وہ عراق میں تھے ‘شام میں نہیں تھے۔اور کئی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اور نہ ہی وہ آپ کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ بلکہ وہ آپ کو عزت و اکرام سے رکھنا چاہتا تھا جیسا کہ اس کے والد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے وصیت فرمائی تھی۔مگر اس کی چاہت یہ بھی تھی کہ آپ کو خروج سے روکا جائے ‘ اور آپ کو عراق میں حکومت قائم نہ کرنے دی جائے۔ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ عراق پہنچے تو انہیں معلوم ہوگیا کہ اہل عراق انہیں رسوا کریں گے‘ اور انہیں گرفتار کرلیں گے؛ تو آپ نے تین مطالبات کیے :

۱۔ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے ۔

۲۔ یا پھر مجھے اپنے وطن واپس جانے دیا جائے۔

۳۔ یا کسی محاذ جنگ پر جانے دیا جائے ۔

مگر انہوں نے گرفتار کرنے کے علاوہ کسی بات پر رضامندی ظاہر نہ کی ۔ اورآپ سے جنگ کی یہاں تک کہ آپ مظلومیت کی حالت میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اورجب آپ کے قتل کی خبر یزیداور اہل کے اہل خانہ تک پہنچی تو ان پر بہت گراں گزری ۔ اور آپ کے قتل پر رونے لگے۔ یزید نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ ۔ یعنی عبیداللہ بن زیاد ۔ پر لعنت کرے ؛ اللہ کی قسم ! اگر اس کے اور حسین کے مابین کوئی رحم کا تعلق ہوتا تو وہ آپ کو قتل نہ کرتا ۔‘‘ اور کہا : میں قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بغیر اہل عراق کی اطاعت پر راضی تھا۔‘‘اور پھر اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو بہترین انداز میں تیار کرکے مدینہ روانہ کیا ۔مگر اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بدلہ نہیں لیا ‘ اور نہ ہی آپ کے قاتل کو قتل کیا۔

باقی رہا یہ قصہ جو آپ کے اہل خانہ خواتین اور بچوں کو قیدی بنانے اوربغیر پالان کے اونٹوں پربیٹھا کر شہروں میں گھمانے کے بارے میں نقل کیا گیا ؛ یہ سراسر جھوٹ اور باطل ہے ۔ مسلمانوں نے کبھی بھی کسی ہاشمیہ کو قیدی نہیں بنایا ۔ وللہ الحمد ۔ او رنہ ہی کبھی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ہاشمیہ کو قیدی بنانے کو حلال سمجھا ہے۔ مگر اہل ہواء اور جاہل لوگ بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ۔جیسا کہ ان میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ : حجاج بن یوسف نے بنی ہاشم کی ایک جماعت کو قتل کیا تھا۔‘‘ 

بعض وعاظ اور علوی ہونے کے دعویداروں ؛ جن کے نسب میں طعن تھا؛ کے مابین ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ ان میں سے ایک آدمی نے منبر پر کہا : ’’ حجاج نے سارے سید قتل کردیے تھے؛ ان کی عورتوں کے لیے کوئی ایک بھی مرد باقی نہیں بچا تھا ؛ پھر انہوں نے دوسرے لوگوں سے شادیاں کرلیں ۔پس یہ لوگ انہی میں سے ہیں ۔‘‘

حقیقت میں یہ تمام باتیں جھوٹ ہیں ۔ حجاج نے باوجود اس کے کہ اس نے دوسرے لوگوں میں قتل عام کیا تھا مگر بنی ہاشم میں سے کسی ایک فرد کو بھی قتل نہیں کیا۔اس لیے کہ عبد الملک نے اس کے پاس خصوصی پیغام بھیجا تھا کہ خبردار بنی ہاشم کے ساتھ کچھ بھی تعرض نہ کرنا۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بنی حرب نے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تعرض کیا تو ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاج نے دیگر بہت سارے عرب سرداروں اور باقی لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس رافضی جاہل نے جب سنا کہ حجاج نے عرب اشراف کو قتل کیا تھا ؛ تو اس نے یہ سوچ لیا کہ اس نے سادات ہی کو قتل کیا ہو گا۔ اس لیے کہ عام طور پر اشراف کا لفظ بنی ہاشم یا بعض بنی ہاشم پر بولا جاتا ہے۔ اور بعض علاقوں میں اشراف سے مراد حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد لیے جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگوں کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد اشراف شمار ہوتے ہیں ۔

لفظ ’’اشراف ‘‘ پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔ بلکہ حکم کا تعلق بنی ہاشم سے ہے۔ کہ ان لوگوں پربھی صدقہ حرام ہے۔ اور ان کا شمار آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتا ہے ؛ اس کے علاوہ بھی کچھ احکام ہیں ۔

حجاج نے عبد اللہ بن جعفر کی بیٹی سے شادی کررکھی تھی۔اس پر بنی امیہ راضی نہیں ہوئے یہاں تک کہ اسے طلاق دلوا دی؛ اس لیے کہ بنو امیہ بنو ہاشم کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے ۔[اس لیے کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں کا تعلق بنو مناف سے ہے ]۔

خلاصہ کلام ! اسلام کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ انہوں نے کسی ایسی عورت کو قیدی بنایا ہو جس کا تعلق بنو ہاشم سے ہو اورنہ ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد کو قیدی بنایا گیا۔ بلکہ جب یہ لوگ یزید کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں پر آہ و بکاء سے کہرام مچ گیا۔یزید نے ان لوگوں کی خوب عزت افزائی کی ؛ اور انہیں اپنے پاس شام میں رہنے یا مدینہ طیبہ واپس جانے کا اختیار دیا۔ ان لوگوں نے مدینہ واپس جانے کو پسند کیا۔ نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کوگھومایا گیا ؛ [اور نہ ہی کچھ دیگر ایسا ہوا] ان واقعات میں اتنے جھوٹے قصے شامل کردیے گئے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔

باقی رافضی نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بعد جن واقعات اور عقوبات کا ذکر کیا ہے ؛ تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل بہت بڑے گناہوں اور جرائم میں سے ہے۔ اور آپ کو قتل کرنے والا ؛ اس قتل پر راضی رہنے والا اور اس پر مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس سزا و عقاب کا مستحق ہے جو ایسے قتل پر ملنی چاہیے ۔لیکن یہ ذہن میں رہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ان لوگوں کے قتل سے بڑھ کر نہیں ہے جو آپ سے افضل تھے اور قتل کردیے گئے ؛ جیسا کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور سابقین اولین ؛ اوروہ لوگ جو مسیلمہ کے ساتھ جنگ میں شہید ہوئے ۔اور شہدائے احد ؛ اوروہ لوگ جو بئر معونہ پر قتل کیے گئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل سے بڑھ کر نہیں ۔ خصوصاً جن لوگوں نے آپ کے والد ِ ماجد کو قتل کیا ؛ وہ تو آپ کو کافر اور مرتد سمجھتے تھے۔ اور آپ کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔اس لیے کہ وہ لوگ آپ کو کافر نہیں سمجھتے تھے ۔ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کو قتل کرنے کے خلاف تھے۔ اور آپ کے قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے اغراض و مقاصد کے لیے قتل کیا۔ جیسا کہ لوگ اقتدار کے لیے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اس بارے میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس میں بہت زیادہ جھوٹ ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ اس دن آسمان سے خون کی بارش ہوئی۔ایسا تو کسی ایک کے قتل پر بھی کبھی نہیں ہوا اور یہ واقعہ بیان کرنا کہ اس دن دوپہر کے وقت آسمان پر سرخی ظاہر ہوگئی۔ یہ سرخی اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ ایسی من گھڑت باتیں ہیں ؛ جن کی مثال سابق میں نہیں ملتی۔اس لیے کہ یہ سرخی تو ظاہر ہوتی رہتی ہے مگر اس کے کچھ اور طبعی اسباب ہیں ؛ یہ ایسے ہیں جیسے شفق۔

ایسے ہی رافضی کا یہ دعوی کرنا کہ : ’’ اس دن جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اس کے نیچے سے خون نکلتا ۔‘‘

یہ صاف جھوٹ ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : قاتلان حسین رضی اللہ عنہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں بچا جسے دنیا میں سزا نہ دی گئی ہو۔ گناہوں میں سے جس گناہ کی سزا بہت ہی جلد مل جاتی ہے وہ کسی پر ظلم کرنا ہے ۔ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ظلم کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔

[ اشکال ] : رافضی مصنف کا کہنا ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن او رحضرت حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق مسلمانوں کو بہت زیادہ وصیت کیا کرتے ؛ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’ یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں ۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی:

﴿ قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ (الشوریٰ)

’’آپ فرمادیں کہ میں قرابت داری کی محبت کے سوا تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔‘‘

[جواب]:حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا حق واجب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کے مابین غدیر خم کے مقام پر لوگوں سے خطاب کیا ؛ آپ نے فرمایا : 

’’میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہے ہوں ، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب(قرآن مجید)کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا:’’(دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں ، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں ،میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں ۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۱۷۲۵۔اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے: حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے زید!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں ؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : (]

اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب حسن و حسین رضی اللہ عنہما سب سے بڑے اہم ترین اور خواص اہل بیت میں سے ہیں جیسا کہ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سب پر ایک چادر ڈال دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے پھر ان پر بھی چادر ڈال دی اوردعا کی :’’ یا اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گناہ کی نجاست دور کر دے اور ان کوبھی خوب پاک کر دے۔‘‘[آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں ، اور وہ سب اہل بیت میں سے ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ (زکواۃ، صدقہ و خیرات وغیرہ) حرام ہے۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا وہ کون ہیں ؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خاندان، حضرت عقیل کا خاندان، آل جعفر، آل عباس۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں !ان سب پر صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے۔اس سے ظاہر ہوا جو لوگ صرف اولاد فاطمہ رضی اللہ عنہا کو عترت یا اہل بیت شمار کرتے ہیں وہ خطاء پر ہیں ۔  جامع ترمذی:حدیث نمبر۱۱۵۳۔]

رافضی مصنف کا کہنا ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن او رحضرت حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق مسلمانوں کو بہت زیادہ وصیت کیا کرتے تھے ؛ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’ یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں ۔‘‘

حدیث کی معروف کتابوں میں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں پائی جاتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بلند و برتر ہیں کہ اپنے بیٹے مخلوق کے پاس امانت چھوڑ کر جائیں ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی وصیت کی ہوتی تو ان کی ایسے حفاظت کی جاتی جیسے امانت کی حفاظت کی جاتی ہے۔ مردوں کو امانت نہیں رکھا جاتا ۔اگرچہ بچوں کو ایسے لوگوں کے پاس امانت رکھا جاتا ہے جو ان کی تربیت کریں ‘اور ان کی خاطر خواہ حفاظت کرسکیں ۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے چھوٹے اور گود میں ہوں ۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کو گود نہیں لیا جاتا ۔ ان میں سے ہر کوئی خود مختار ہوجاتا ہے۔اور اگر رافضی مصنف یہ کہنا چاہتا ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت آپ کی حفاظت کرے ‘ اور آپ کی چوکیداری کرے۔ تو یقیناً اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے ۔وہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔تو پھرامت کے کسی فرد سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مصائب و آفات سے آپ کی حفاظت کرے۔

اگر اس سے مراد یہ ہو کہ انہیں تکلیف نہ دی جائے ؛ ان پر ظلم نہ کیا جائے۔اور جو کوئی ان پر ظلم کے تو اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے ؛ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کسی ادنی مسلمان کے لیے بھی واجب ہے؛ تو پھر آپ کے لیے کیسے واجب نہ ہوتا ؟ یہ مسلمان کے مسلمان پر حقوق میں سے ہے۔جبکہ ان دونوں شہزادوں کا حق کسی بھی دوسرے کے حق سے بڑھ کر ہے ۔

آیت ﴿اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ کا شان نزول :

٭ شیعہ کا کہنا کہ : پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی: ﴿ قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ (شوریٰ)’’آپ فرمادیں کہ میں قرابت داری کی محبت کے سوا تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔‘‘

یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ یہ آیت سورت شوری میں ہے۔جوکہ بالاتفاق مکی سورت ہے۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ۔ اس کا نزول حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت سے بہت پہلے ہوا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں شادی کی تھی۔ اور غزوہ بدر کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی۔[صحیح بخاری، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس(ح:۳۰۹۱) صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ۔ باب تحریم الخمر(ح:۱۹۷۹)۔] غزوہ بدر سن دو ہجری میں پیش آیا تھا ۔ اس پر تفصیلی کلام پہلے گزر چکا ہے۔ اور اس سے وہی مراد ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلقِ قرابت داری نہ ہو اس آیت کے بارے میں :

﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی﴾ [الشوری ۲۳]

’’ کہہ دیجئے!کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی ۔‘‘

آپ فرماتے ہیں : کہ ان قرابت دارانہ تعلقات کی بنا پر جو میرے اور تمہارے درمیان پائے جاتے ہیں تو مجھ سے الفت و محبت کاسلوک روا رکھو۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب المناقب(حدیث:۳۴۹۷) ]،[قبیلہ قریش کے ساتھ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کی روشن مثال حضرت ابوسفیان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیزانہ مراسم ہیں ۔ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تو آپ ابوسفیان کے گھر میں پناہ لیتے تھے۔ اسی لیے آپ نے فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ امن پائے گا۔( سنن ابی داود۔ کتاب الخراج۔ باب ما جاء فی خبر مکۃ، (ح: ۳۰۲۱، ۳۰۲۲) اس کی تفصیلات کے لیے وہ حاشیہ ملاحظہ فرمائیے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوسفیان کے باہمی روابط و تعلقات کی تفصیل درج ہے۔]

اہل سنت والجماعت اور شیعہ میں سے مصنفین کی ایک جماعت اورامام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تولوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ’’ علی اور فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ۔‘‘یہ روایت باجماع محدثین جھوٹ اور من گھڑت ہے۔

اس کی وضاحت اس چیز سے ہوتی ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی ۔ مفسرین کااتفاق ہے کہ پوری کی پوری سورت شوری مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ بلکہ ساری حوامیم [السبع] مکی سورتیں ہیں ۔ حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی مدینہ میں ہجرت کے بعد ہوئی ہے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت بالترتیب سن تین اور چار ہجری میں ہوئی ہے۔ تو پھر یہ کہنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مکہ میں جب یہ سورت نازل ہوئی تولوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ’’ علی اور فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ۔‘‘

حافظ عبد الغنی المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت حسن رضی اللہ عنہ ۱۵ رمضان ۳ھ کوپیدا ہوئے۔ یہ آپ کی پیدائش کی بابت صحیح ترین قول ہے۔ اور آپ کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۲۵ شعبان ۳ھ کو پیدا ہوئے۔ اور بعض نے سن تین ہجری کہا ہے۔

میں کہتا ہوں : جس نے کہا ہے : حضرت حسن رضی اللہ عنہ سن دو ہجری میں پیدا ہوئے؛ یہ قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت فاطمہ سے شادی سن دو ہجری میں غزوہ بدر کے بعد ہوئی تھی ۔‘‘

[الإِصابۃ فِی ترجمۃِ فاطِمۃ رضی اللّٰہ عنہا :۳؍۳۶۶]