فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات - ردِ…

فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے کسی نے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا اگر کوئی محرم (یعنی وہ شخص جو احرام کی حالت میں ہو)کسی مکھی کو مار ڈالے (تو کیاحکم ہے؟)توحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اے اہل عراق! تم مکھی کے قتل کا مسئلہ دریافت کرتے ہو؛حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بیٹے (حسین رضی اللہ عنہ )کو قتل کر دیا؛ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :’’ یہ دونوں میری دنیا کے دو پھول ہیں ۔‘‘[بخاری:ح۹۵۹؛ البخاری ۵؍۲۷ ؛ کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ باب مناقب الحسن و الحسین ؛ سنن الترمذي ۵؍ ۳۲۲ ؛ کتاب المناقب ؛ باب مناقب أبي محمد الحسن و الحسین۔]

ایک مجہول سند کے ساتھ یہ بھی روایت کیا گیا ہے یہ واقعہ یزید کے سامنے پیش آیا۔اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس لے جایا گیا تھا۔ اور اس نے چھڑی سے آپ کے دانتوں پر مارا تھا۔باوجود اس کے کہ یہ واقعہ ثابت نہیں ہے ؛ پھر بھی روایت میں اس کے جھوٹے ہونے کی گواہی موجود ہے۔ اس لیے کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھڑی مارنے کے وقت موجود تھے وہ عراق میں تھے ‘شام میں نہیں تھے۔اور کئی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اور نہ ہی وہ آپ کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ بلکہ وہ آپ کو عزت و اکرام سے رکھنا چاہتا تھا جیسا کہ اس کے والد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے وصیت فرمائی تھی۔مگر اس کی چاہت یہ بھی تھی کہ آپ کو خروج سے روکا جائے ‘ اور آپ کو عراق میں حکومت قائم نہ کرنے دی جائے۔ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ عراق پہنچے تو انہیں معلوم ہوگیا کہ اہل عراق انہیں رسوا کریں گے‘ اور انہیں گرفتار کرلیں گے؛ تو آپ نے تین مطالبات کیے :

۱۔ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے ۔

۲۔ یا پھر مجھے اپنے وطن واپس جانے دیا جائے۔

۳۔ یا کسی محاذ جنگ پر جانے دیا جائے ۔

مگر انہوں نے گرفتار کرنے کے علاوہ کسی بات پر رضامندی ظاہر نہ کی ۔ اورآپ سے جنگ کی یہاں تک کہ آپ مظلومیت کی حالت میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اورجب آپ کے قتل کی خبر یزیداور اہل کے اہل خانہ تک پہنچی تو ان پر بہت گراں گزری ۔ اور آپ کے قتل پر رونے لگے۔ یزید نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ ۔ یعنی عبیداللہ بن زیاد ۔ پر لعنت کرے ؛ اللہ کی قسم ! اگر اس کے اور حسین کے مابین کوئی رحم کا تعلق ہوتا تو وہ آپ کو قتل نہ کرتا ۔‘‘ اور کہا : میں قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بغیر اہل عراق کی اطاعت پر راضی تھا۔‘‘اور پھر اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو بہترین انداز میں تیار کرکے مدینہ روانہ کیا ۔مگر اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بدلہ نہیں لیا ‘ اور نہ ہی آپ کے قاتل کو قتل کیا۔

باقی رہا یہ قصہ جو آپ کے اہل خانہ خواتین اور بچوں کو قیدی بنانے اوربغیر پالان کے اونٹوں پربیٹھا کر شہروں میں گھمانے کے بارے میں نقل کیا گیا ؛ یہ سراسر جھوٹ اور باطل ہے ۔ مسلمانوں نے کبھی بھی کسی ہاشمیہ کو قیدی نہیں بنایا ۔ وللہ الحمد ۔ او رنہ ہی کبھی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ہاشمیہ کو قیدی بنانے کو حلال سمجھا ہے۔ مگر اہل ہواء اور جاہل لوگ بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ۔جیسا کہ ان میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ : حجاج بن یوسف نے بنی ہاشم کی ایک جماعت کو قتل کیا تھا۔‘‘ 

بعض وعاظ اور علوی ہونے کے دعویداروں ؛ جن کے نسب میں طعن تھا؛ کے مابین ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ ان میں سے ایک آدمی نے منبر پر کہا : ’’ حجاج نے سارے سید قتل کردیے تھے؛ ان کی عورتوں کے لیے کوئی ایک بھی مرد باقی نہیں بچا تھا ؛ پھر انہوں نے دوسرے لوگوں سے شادیاں کرلیں ۔پس یہ لوگ انہی میں سے ہیں ۔‘‘

حقیقت میں یہ تمام باتیں جھوٹ ہیں ۔ حجاج نے باوجود اس کے کہ اس نے دوسرے لوگوں میں قتل عام کیا تھا مگر بنی ہاشم میں سے کسی ایک فرد کو بھی قتل نہیں کیا۔اس لیے کہ عبد الملک نے اس کے پاس خصوصی پیغام بھیجا تھا کہ خبردار بنی ہاشم کے ساتھ کچھ بھی تعرض نہ کرنا۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بنی حرب نے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تعرض کیا تو ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاج نے دیگر بہت سارے عرب سرداروں اور باقی لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس رافضی جاہل نے جب سنا کہ حجاج نے عرب اشراف کو قتل کیا تھا ؛ تو اس نے یہ سوچ لیا کہ اس نے سادات ہی کو قتل کیا ہو گا۔ اس لیے کہ عام طور پر اشراف کا لفظ بنی ہاشم یا بعض بنی ہاشم پر بولا جاتا ہے۔ اور بعض علاقوں میں اشراف سے مراد حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد لیے جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگوں کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد اشراف شمار ہوتے ہیں ۔

لفظ ’’اشراف ‘‘ پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔ بلکہ حکم کا تعلق بنی ہاشم سے ہے۔ کہ ان لوگوں پربھی صدقہ حرام ہے۔ اور ان کا شمار آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتا ہے ؛ اس کے علاوہ بھی کچھ احکام ہیں ۔

حجاج نے عبد اللہ بن جعفر کی بیٹی سے شادی کررکھی تھی۔اس پر بنی امیہ راضی نہیں ہوئے یہاں تک کہ اسے طلاق دلوا دی؛ اس لیے کہ بنو امیہ بنو ہاشم کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے ۔[اس لیے کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں کا تعلق بنو مناف سے ہے ]۔

خلاصہ کلام ! اسلام کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ انہوں نے کسی ایسی عورت کو قیدی بنایا ہو جس کا تعلق بنو ہاشم سے ہو اورنہ ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد کو قیدی بنایا گیا۔ بلکہ جب یہ لوگ یزید کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں پر آہ و بکاء سے کہرام مچ گیا۔یزید نے ان لوگوں کی خوب عزت افزائی کی ؛ اور انہیں اپنے پاس شام میں رہنے یا مدینہ طیبہ واپس جانے کا اختیار دیا۔ ان لوگوں نے مدینہ واپس جانے کو پسند کیا۔ نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کوگھومایا گیا ؛ [اور نہ ہی کچھ دیگر ایسا ہوا] ان واقعات میں اتنے جھوٹے قصے شامل کردیے گئے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔

صفحہ 2 از 4