فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات - ردِ…

فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

باقی رافضی نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بعد جن واقعات اور عقوبات کا ذکر کیا ہے ؛ تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل بہت بڑے گناہوں اور جرائم میں سے ہے۔ اور آپ کو قتل کرنے والا ؛ اس قتل پر راضی رہنے والا اور اس پر مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس سزا و عقاب کا مستحق ہے جو ایسے قتل پر ملنی چاہیے ۔لیکن یہ ذہن میں رہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ان لوگوں کے قتل سے بڑھ کر نہیں ہے جو آپ سے افضل تھے اور قتل کردیے گئے ؛ جیسا کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور سابقین اولین ؛ اوروہ لوگ جو مسیلمہ کے ساتھ جنگ میں شہید ہوئے ۔اور شہدائے احد ؛ اوروہ لوگ جو بئر معونہ پر قتل کیے گئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل سے بڑھ کر نہیں ۔ خصوصاً جن لوگوں نے آپ کے والد ِ ماجد کو قتل کیا ؛ وہ تو آپ کو کافر اور مرتد سمجھتے تھے۔ اور آپ کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔اس لیے کہ وہ لوگ آپ کو کافر نہیں سمجھتے تھے ۔ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کو قتل کرنے کے خلاف تھے۔ اور آپ کے قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے اغراض و مقاصد کے لیے قتل کیا۔ جیسا کہ لوگ اقتدار کے لیے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اس بارے میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس میں بہت زیادہ جھوٹ ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ اس دن آسمان سے خون کی بارش ہوئی۔ایسا تو کسی ایک کے قتل پر بھی کبھی نہیں ہوا اور یہ واقعہ بیان کرنا کہ اس دن دوپہر کے وقت آسمان پر سرخی ظاہر ہوگئی۔ یہ سرخی اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ ایسی من گھڑت باتیں ہیں ؛ جن کی مثال سابق میں نہیں ملتی۔اس لیے کہ یہ سرخی تو ظاہر ہوتی رہتی ہے مگر اس کے کچھ اور طبعی اسباب ہیں ؛ یہ ایسے ہیں جیسے شفق۔

ایسے ہی رافضی کا یہ دعوی کرنا کہ : ’’ اس دن جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اس کے نیچے سے خون نکلتا ۔‘‘

یہ صاف جھوٹ ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : قاتلان حسین رضی اللہ عنہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں بچا جسے دنیا میں سزا نہ دی گئی ہو۔ گناہوں میں سے جس گناہ کی سزا بہت ہی جلد مل جاتی ہے وہ کسی پر ظلم کرنا ہے ۔ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ظلم کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔

[ اشکال ] : رافضی مصنف کا کہنا ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن او رحضرت حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق مسلمانوں کو بہت زیادہ وصیت کیا کرتے ؛ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’ یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں ۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی:

﴿ قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ (الشوریٰ)

’’آپ فرمادیں کہ میں قرابت داری کی محبت کے سوا تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔‘‘

[جواب]:حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا حق واجب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کے مابین غدیر خم کے مقام پر لوگوں سے خطاب کیا ؛ آپ نے فرمایا : 

’’میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہے ہوں ، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب(قرآن مجید)کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا:’’(دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں ، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں ،میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں ۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۱۷۲۵۔اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے: حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے زید!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں ؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : (]

اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب حسن و حسین رضی اللہ عنہما سب سے بڑے اہم ترین اور خواص اہل بیت میں سے ہیں جیسا کہ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سب پر ایک چادر ڈال دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے پھر ان پر بھی چادر ڈال دی اوردعا کی :’’ یا اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گناہ کی نجاست دور کر دے اور ان کوبھی خوب پاک کر دے۔‘‘[آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں ، اور وہ سب اہل بیت میں سے ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ (زکواۃ، صدقہ و خیرات وغیرہ) حرام ہے۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا وہ کون ہیں ؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خاندان، حضرت عقیل کا خاندان، آل جعفر، آل عباس۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں !ان سب پر صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے۔اس سے ظاہر ہوا جو لوگ صرف اولاد فاطمہ رضی اللہ عنہا کو عترت یا اہل بیت شمار کرتے ہیں وہ خطاء پر ہیں ۔ جامع ترمذی:حدیث نمبر۱۱۵۳۔]

رافضی مصنف کا کہنا ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن او رحضرت حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق مسلمانوں کو بہت زیادہ وصیت کیا کرتے تھے ؛ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’ یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں ۔‘‘

صفحہ 3 از 4