فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات - ردِ…

فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

حدیث کی معروف کتابوں میں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں پائی جاتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بلند و برتر ہیں کہ اپنے بیٹے مخلوق کے پاس امانت چھوڑ کر جائیں ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی وصیت کی ہوتی تو ان کی ایسے حفاظت کی جاتی جیسے امانت کی حفاظت کی جاتی ہے۔ مردوں کو امانت نہیں رکھا جاتا ۔اگرچہ بچوں کو ایسے لوگوں کے پاس امانت رکھا جاتا ہے جو ان کی تربیت کریں ‘اور ان کی خاطر خواہ حفاظت کرسکیں ۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے چھوٹے اور گود میں ہوں ۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کو گود نہیں لیا جاتا ۔ ان میں سے ہر کوئی خود مختار ہوجاتا ہے۔اور اگر رافضی مصنف یہ کہنا چاہتا ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت آپ کی حفاظت کرے ‘ اور آپ کی چوکیداری کرے۔ تو یقیناً اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے ۔وہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔تو پھرامت کے کسی فرد سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مصائب و آفات سے آپ کی حفاظت کرے۔

اگر اس سے مراد یہ ہو کہ انہیں تکلیف نہ دی جائے ؛ ان پر ظلم نہ کیا جائے۔اور جو کوئی ان پر ظلم کے تو اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے ؛ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کسی ادنی مسلمان کے لیے بھی واجب ہے؛ تو پھر آپ کے لیے کیسے واجب نہ ہوتا ؟ یہ مسلمان کے مسلمان پر حقوق میں سے ہے۔جبکہ ان دونوں شہزادوں کا حق کسی بھی دوسرے کے حق سے بڑھ کر ہے ۔

آیت ﴿اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ کا شان نزول :

٭ شیعہ کا کہنا کہ : پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی: ﴿ قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ (شوریٰ)’’آپ فرمادیں کہ میں قرابت داری کی محبت کے سوا تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔‘‘

یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ یہ آیت سورت شوری میں ہے۔جوکہ بالاتفاق مکی سورت ہے۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ۔ اس کا نزول حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت سے بہت پہلے ہوا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں شادی کی تھی۔ اور غزوہ بدر کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی۔[صحیح بخاری، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس(ح:۳۰۹۱) صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ۔ باب تحریم الخمر(ح:۱۹۷۹)۔] غزوہ بدر سن دو ہجری میں پیش آیا تھا ۔ اس پر تفصیلی کلام پہلے گزر چکا ہے۔ اور اس سے وہی مراد ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلقِ قرابت داری نہ ہو اس آیت کے بارے میں :

﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی﴾ [الشوری ۲۳]

’’ کہہ دیجئے!کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی ۔‘‘

آپ فرماتے ہیں : کہ ان قرابت دارانہ تعلقات کی بنا پر جو میرے اور تمہارے درمیان پائے جاتے ہیں تو مجھ سے الفت و محبت کاسلوک روا رکھو۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب المناقب(حدیث:۳۴۹۷) ]،[قبیلہ قریش کے ساتھ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کی روشن مثال حضرت ابوسفیان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیزانہ مراسم ہیں ۔ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تو آپ ابوسفیان کے گھر میں پناہ لیتے تھے۔ اسی لیے آپ نے فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ امن پائے گا۔( سنن ابی داود۔ کتاب الخراج۔ باب ما جاء فی خبر مکۃ، (ح: ۳۰۲۱، ۳۰۲۲) اس کی تفصیلات کے لیے وہ حاشیہ ملاحظہ فرمائیے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوسفیان کے باہمی روابط و تعلقات کی تفصیل درج ہے۔]

اہل سنت والجماعت اور شیعہ میں سے مصنفین کی ایک جماعت اورامام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تولوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ’’ علی اور فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ۔‘‘یہ روایت باجماع محدثین جھوٹ اور من گھڑت ہے۔

اس کی وضاحت اس چیز سے ہوتی ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی ۔ مفسرین کااتفاق ہے کہ پوری کی پوری سورت شوری مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ بلکہ ساری حوامیم [السبع] مکی سورتیں ہیں ۔ حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی مدینہ میں ہجرت کے بعد ہوئی ہے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت بالترتیب سن تین اور چار ہجری میں ہوئی ہے۔ تو پھر یہ کہنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مکہ میں جب یہ سورت نازل ہوئی تولوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ’’ علی اور فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ۔‘‘

حافظ عبد الغنی المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت حسن رضی اللہ عنہ ۱۵ رمضان ۳ھ کوپیدا ہوئے۔ یہ آپ کی پیدائش کی بابت صحیح ترین قول ہے۔ اور آپ کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۲۵ شعبان ۳ھ کو پیدا ہوئے۔ اور بعض نے سن تین ہجری کہا ہے۔

میں کہتا ہوں : جس نے کہا ہے : حضرت حسن رضی اللہ عنہ سن دو ہجری میں پیدا ہوئے؛ یہ قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت فاطمہ سے شادی سن دو ہجری میں غزوہ بدر کے بعد ہوئی تھی ۔‘‘

[الإِصابۃ فِی ترجمۃِ فاطِمۃ رضی اللّٰہ عنہا :۳؍۳۶۶]


صفحہ 4 از 4