فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

٭ جواب : اس سے شیعہ مصنف کی مراد یاتو یہ ہے کہ بارہ ائمہ پر درود بھیجنا واجب ہے۔ یاپھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ان میں سے کسی ایک پر یا کسی دوسرے امام پر درود بھیجنا واجب ہے۔ یا پھر اس سے مراد یہ ہوگی کہ آل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے ۔ اگر اس کی مراد پہلی بات ہے ۔ تو یہ ان کی سب سے بڑی گمراہی اور شریعت محمد ی سے خروج اور تجاوز ہے۔ اس لیے کہ ہم اور شیعہ سبھی جانتے ہیں اوریہ ایک بدیہی بات ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں یا خارج از نمازبارہ ائمہ میں سے کسی امام پر درود و سلام بھیجنے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی آپ کے مبارک دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ایسے کرتا تھا۔ [نہ تابعین نے کبھی اس پر عمل کیا]اور نہ ہی کسی ایک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحیح یا ضعیف سند سے کوئی ایسی رویت نقل کی ہے۔او ر نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کوئی ایک ان بارہ ائمہ میں سے کسی ایک کو اپنا امام مانتا تھا۔ چہ جائے کہ نماز میں ان پر درود بھیجنا واجب ہوتا ۔ اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم [اور صحابہ کرام ]کے عہد میں ادا کی جانے والی نمازیں بالکل درست تھیں ، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔توپھر اس کے بعد کس نے نماز میں ان لوگوں پر درود بھیجنا واجب کردیا۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی نمازوں کو باطل قراردے دیا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص نماز میں بارہ ائمہ پردرود و سلام بھیجنے کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کے خیال میں بجز اس کے نماز باطل ہوتی ہے تو وہ تحریف فی الدین کا ارتکاب کرتا ہے۔اور وہ دین محمدی کو ایسے بدل رہا ہے جیسے یہود و نصاری نے انبیاء کرام علیہم السلام کا دین بدل دیا تھا۔

٭ اگر کہا جائے کہ:’’ آل محمد میں آئمہ اثنا عشر بھی داخل ہیں ۔‘‘

٭ تواس کا جواب یہ ہے کہ آل محمد میں بنو ہاشم[بنی ہاشم سے مراد بنو عباس و بنو لہب ہیں ۔] اور امہات المومنین بھی شامل ہیں ۔[اس لیے کہ امہات المومنین کو اس آیت میں مخاطب کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿یَا نِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ﴾ (الأحزاب)]اور ایک قول کے مطابق بنو مطلب بھی اس میں داخل ہیں ۔جب کہ امامیہ ان میں سے اکثر کی؛بطور خاص بنو عباس کی مذمت کرتے ہیں ؛خصوصاً ان میں سے جو خلفاء ہو گزرے ہیں ۔ حالانکہ ان کا شمار بھی آل محمد میں ہوتا ہے ۔نیز شیعہ امامیہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مذمت کرتے ہیں ۔جب کہ جمہور بنی ہاشم ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے اور ان سے دوستی رکھتے ہیں ۔ اور کوئی بھی صحیح النسب ہاشمی اس کا انکار نہیں کرتا ؛ سوائے چند ایک محدود بنی ہاشم کے [جن پر جہالت کا غلبہ ہے یا جو شیعہ سے متاثر ہوگئے ہیں ]۔ ورنہ اکثر بنی ہاشم جو اہل علم اور دین دار طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے ہیں ۔ 

یہ بات ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ شیعہ تعظیم آل محمد کے مدعی ہیں حالانکہ انھوں نے خودبھر پور کوششیں کرکے تاتاریوں کواسلامی دار الخلافہ بغداد پر حملہ کرنے کے لیے بلایا؛ حتی کہ ان کافروں نے اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا جن کی صحیح گنتی تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان میں ہاشمی اور غیر ہاشمی سبھی شامل تھے۔ انہوں نے بغداد اور اس کے گردو نواح میں اٹھارہ لاکھ ستر ہزار سے زیادہ مسلمانوں کوقتل کیا۔ اولاد علی و عباس میں سے ہزاروں کو قتل کیا۔ ہاشمیوں کے بیوی بچوں کو قیدی بنایا۔[علاوہ ازیں لا تعداد نادر کتب کے مسوّدات جن میں سے بعض کے نام بھی ہم کو معلوم نہیں دریائے دجلہ میں بہاد یے۔ ]

حقیقت میں بلا شک و شبہ یہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی نشانی ہے۔ اس لیے کہ کافروں نے یہ کام رافضیوں کی مدد سے کیا تھا۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے ہاشمی عورتوں کو قیدی بنانے کے لیے اپنی کوششیں صرف کیں ۔اس کے علاوہ بھی ان کے ایسے شرمناک کارنامے ہیں جن کی تفصیل کایہ موقع نہیں ۔الغرض شیعہ جو بھی عیب دوسرے لوگوں پر لگائیں گے وہ خود ان کے اندر بڑھ چڑھ کر بدرجہ اتم موجود ہوگا۔ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو:

’’ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کما صلیت علی إِبراہِیم وعلی آلِ ِإبراہِیم إِنک حمِید مجِید۔ اللہم بارِک علی محمد وعلی آلِ محمد کما بارکت علی إِبراہِیم وعلی آلِ إِبراہِیم إِنک حمِید مجِید۔‘‘ وفي روایۃ :وَعلی اَزْوَاجِہٖ و ذُرِّیّٰتِہٖ۔‘‘[البخاری، کتاب احادیث الانبیاء باب(۱۰)، (ح:۳۳۶۹)، صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد التشھد (ح:۴۰۷)۔سنن ابی داؤد۔ کتاب الصلاۃ۔ باب الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد التشھد (ح :۹۸۲)؛ یہاں پر ان الفاظ میں درود نقل کیا گیا ہے: ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَ اَزْوَاجِہٖ اُمَّہَاتِ الْمُؤمِنِینَ وَ ذُرِیّٰـتِہٖ و اَہْلِ بَیْتِہٖ کَمَا صَلَّیْت عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ۔‘‘ ( و سندہ ضعیف)۔ علماء زیدیہ میں سے قاضی شوکانی نیل الاوطار میں اس حدیث پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ ’’ آل ‘‘ سے ازواج و اولاد مرا د ہے۔‘‘]

اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ صدقہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘ [مسلم ۲؍۷۵۲؛ سنن ابی داؤد۳؍۲۰۳ ]

یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اور عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ہمیں زکواۃ و صدقات وصول کرنے پر بھیجا جائے ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بیشک صدقہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہے؛ یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔‘‘ [مسلم ۲؍۷۵۳ ]

صفحہ 2 از 7