فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

اس سے ثابت ہوا کہ آل عباس اور بنو حارث بن عبد المطلب آل محمد اورذوی القربی میں شامل ہیں اور ان پر زکوٰۃ حرام ہے۔اور حدیث مبارک میں یہ بھی ثابت ہے کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقربی کے حصہ میں سے بنو مطلب بن عبدمناف کو بھی ایک حصہ دیا تھا ؛ اور فر مایا تھا:

’’ بیشک بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک ہی چیز ہیں ۔ یہ نہ ہی ہم سے جاہلیت میں جدا ہوئے اور نہ ہی اسلام میں ۔‘‘[سنن أبي داؤد ۳؍۲۰۰؛ النسائي ۷؍۱۱۸والمسند۴؍۸۱۔]

یہ لوگ بنو عباس اور بنو حارث بن عبد المطلب کی نسبت دور کے رشتہ دار ہیں ۔لیکن اس کے باوجود ان تمام کا شمار ذو القربی [قریبی رشتہ داروں ] میں ہوتا ہے۔ اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آل عباس اور بنو حارث بن عبد المطلب آل محمد اورذوی القربی میں شامل ہیں اور ان پر زکوٰۃ حرام ہے۔اور درود میں بھی یہ لوگ شامل ہوتے ہیں ۔ اور یہ لوگ خمس کے مستحق ہیں ۔ جب کہ بنو مطلب بن عبد مناف کے بارے میں اختلاف ہے ۔کیا ان پر بھی صدقہ حرام ہے ؟ اور کیا یہ بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہیں ؟ اس بارے میں دو قول ہیں ۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی دو روایتیں منقول ہیں :

٭ پہلی روایت : ان پر صدقہ حرام ہے ۔ یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے۔

٭ دوسری روایت: ان پر صدقہ حرام نہیں ہے۔یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کاقول ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہی لوگ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے بارے میں صریح حکم آیا ہے۔ یہی مسلک شریف ابو جعفر بن ابو موسی اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔ جن پر صدقہ حرام ہے وہ بنو ہاشم ہیں ۔ بنو مطلب کے بارے میں دو روایتیں ہیں ۔

ایسے ہی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کیا ان کاشمار بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتا ہے جن پر صدقہ حرام ہے ؟ امام احمد رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں :

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے عتقاء [آزاد کردہ غلام اور لونڈیاں ]جیسے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا [ان] پر صدقہ باجماع مسلمین جائز ہے۔ اگرچہ بنی ہاشم کے موالین پر بھی صدقہ حرام ہے۔ بعض مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک آل محمد سے آپ کی امت مراد ہے۔ صوفیہ کا ایک گروہ اس سے اتقیاء امت مراد لیتاہے۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی متعین شخص پر نماز میں درود بھیجنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر انسان نماز میں بعض اہل بیت پر درود بھیجے اور بعض پر نہ بھیجے ؛ جیساکہ آل عباس پر درود بھیجے اور آل علی پر نہ بھیجے ؛ یا اس کے برعکس کرے ؛ تو ایسا انسان شریعت کی مخالفت کرنے والا ہوگا۔تو پھر باقی تمام آل محمد کو چھوڑ کر چند متعین افراد پر کیسے درود بھیجا جاسکتا ہے ؟

جمہور فقہاء کا نقطہ نظریہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر صلوٰۃ بھیجنا نماز میں واجب نہیں ہے۔ جو لوگ درود بھیجنے کو واجب کہتے ہیں وہ صرف آپ پر درود کو کافی سمجھتے ہیں ‘ آل پر درود بھیجنا واجب نہیں ۔ اور اگرآپ کی آل پر صلوٰۃ بھیجنا نماز میں واجب بھی ہوتا تو بعض آل پر یا باقی لوگوں کوچھوڑ کر چندمتعین افراد پر اکتفا درست نہیں ۔بلکہ علماء کرام کا اختلاف یہ ہے کہ کیا کسی معین شخص کے حق میں درود بھیجنے یا دعا کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے [یا نہیں ہوتی]؟اس میں دو قول ہیں :

اگرچہ اس کا یہی جواب صحیح ہے کہ اس سے نماز باطل نہیں ہوتی؛ لیکن اسے آئمہ کے ساتھ خاص طور پر واجب بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے پر درود بھیجنے کو واجب نہیں کہتے۔نہ ہی اپنے ائمہ پر نہ ہی دوسروں کے ائمہ پر۔اس لیے کہ اپنی طرف سے کسی ایسی چیز کو واجب کرنا گمراہ کرنے والی بدعت اور شریعت الٰہی کی مخالفت ہے۔جیساکہ شہادتین میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔ ایسے ہی آذان ‘نماز اور دوسرے مواقع پر بھی ہے۔اگر کوئی انسان شہادتین کے اقرار میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی امام کا ذکر کرے تو یہ سب سے بڑی گمراہی ہوگی۔

رافضی مصنف کا یہ قول کہ کسی معین خلیفہ پر صلوٰۃ بھیجنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے؛ باطل ہے۔ جمہور علماء کی رائے میں کسی معین شخص کے حق میں نماز میں دعا یا بد دعاء کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یوں دعا کیا کرتے تھے:

((اللہم أنجِ الولِید بن الولِیدِ وسلمۃ بن ہِشام [وعیاش بن أبِی ربِیع] والمستضعفِین مِن المؤمِنِین اللہم اشدد وطأتک علی مضر واجعلہا علیہِم سِنِین کسِنِی یوسف۔))

’’اے اللہ ولید بن ولید کو اور سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیع اور کمزور مسلمانوں کو(کفار مکہ کے پنجہ ظلم) سے نجات دے، اے اللہ اپنی پامالی(قبیلہ)مضر پر سخت کر دے، اور اس کو ان پر قحط سالیاں بنا دے، جیسے یوسف (کے زمانے)کی قحط سالیاں تھیں ۔‘‘ [صحیح بخاری:ح۷۷۰]

اور آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے : اے اللہ رعل و ذکوان اور عصیہ پر لعنت کر ۔‘‘ [مسلم ۳؍۱۹۵۳]

دعائے قنوت میں ایک قوم کے حق میں دعائے خیر کرتے اور دوسری قوم کے افراد اور قبائل کا نام لے کر ان پر لعنت بھیجا کرتے تھے۔[صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب (۱۲۶)، (حدیث:۷۹۷،۸۰۴،۴۵۶۰)، صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات (حدیث: ۶۷۵، ۶۷۶)۔] جو کوئی اسے فاسد کہتا ہو‘ اس کا قول بھی اسی طرح فاسد ہے جس طرح نماز میں چند متعین اشخاص پر درود کو واجب کہنے والے کا قول فاسد ہے۔ 

اہل سنت والجماعت نہ ہی اس کو حرام کہتے ہیں اور نہ ہی واجب قرار دیتے ہیں ۔ بلکہ وہ اسی چیز کو واجب سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے واجب قرار دیا ہو‘ اور اسے حرام کہتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کہا ہو۔

اگر [رافضی مصنف کی] مراد یہ ہے کہ نماز میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے کسی دوسرے پر نہیں ۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ : اس مسئلہ میں علماء کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔

صفحہ 3 از 7