فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

اکثر لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی آل پر درودپڑھنا واجب نہیں ۔ یہ امام ابو حنیفہ ؛ مالک اور ایک روایت میں امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ امام طحاوی نے دعوی کیا ہے کہ قدیم میں اس پر اجماع ہے۔ 

دوسرا قول یہ ہے کہ : نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی آل پر درودپڑھنا واجب ہے۔ یہ امام شافعی کا اور دوسری روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ پھر اس روایت کی بنا پر مزید اختلاف ہے ؛ کیا یہ درود رکن ہے یا واجب ہے جو کہ بھول جانے کی صورت میں سجدہ کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں ۔

پھر جن لوگوں نے نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی آل پر درودپڑھنا واجب قراردیا ہے ؛ وہ کہتے ہیں : یہ درود ان ہی الفاظ میں واجب ہے جو احادیث میں منقول ہیں ۔امام احمد کا ایک قول یہی ہے۔اس صورت میں آل محمد پر درود واجب ہوجاتا ہے ۔اور بعض علماء کرام رحمہم اللہ الفاظ کی قید کو واجب قرار نہیں دیتے۔ جیساکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب میں بھی معروف ہے۔ اس صورت میں آل پر درود پڑھنا واجب نہ ہوگا۔

جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس مسئلہ میں اختلاف بڑا مشہور ہے تو پھر کہا جائے گا کہ اگر نماز میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑہنا واجب بھی مان لیا جائے تو یہ درود تمام آل محمد کو شامل ہوگا؛ صرف ان کے صالحین یا ائمہ معصومین کے لیے خاص نہیں ہوگا [جیسا کہ رافضیوں کا خیال ہے ]۔ بلکہ یہ تمام لوگوں کو شامل ہوگا ۔ جیسا کہ اگر مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لیے دعا کی جائے تو اس میں وہ تمام لوگ شامل ہوں گے جو ایمان یا اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔ عام اہل ایمان کے لیے یا عام اہل بیت کے لیے دعا کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں سے ہر ایک نیک اور متقی ہو۔ بلکہ دعا میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے فضل و احسان مانگا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہر ایک کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حق زیادہ ہے ‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس امت پر کچھ حقوق ہیں جن میں دوسرے لوگ ان کے ساتھ شریک نہیں ہیں ۔آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ محبت و موالات کے مستحق ہیں ۔جس محبت کے سارے قریشی قبائل مستحق نہیں ۔ ایسے ہی قریش اس محبت کے مستحق ہیں جس کے باقی عرب قبائل مستحق نہیں ‘ اور عرب اس محبت کے مستحق ہیں جس کی مستحق باقی اولاد آدم نہیں ۔ یہ ان لوگوں کا مذہب جو عربوں کو باقی لوگوں پر فضیلت دیتے ہیں ؛ اور قریش کو سارے عربوں پر اور بنی ہاشم کو سارے قریش پر فضیلت دیتے ہیں ۔جیسا کہ امام احمد اور دوسرے ائمہ رحمہم اللہ کا مذہب ہے ۔

نصوص اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی کَنَانَۃَ مِنْ وَلَدِ اسْمٰعِیْلَ، وَاصْطَفَی قُرَیْشاً مِّنْ کَنَانَۃَ ،وَاصْطَفَی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِي ہَاشَمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِيْ ہَاشَمٍ )) [مسلم کتاب الفضائل ؛ باب : فضل نسب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ح: ۴۳۱۸۔ صحیح ابن حبان ؛ کتاب التاریخ ،ذکر اصطفاء اللہ جل و علا صفیہ ؛ ح: ۶۴۲۴۔]

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو ، اور کنانہ کی اولاد سے قریش کو چن لیا تھا، اور قریش سے بنی ہاشم کو ، اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا ہے ۔‘‘

دوسری حدیث میں آتاہے : ’’ لوگ ایسے ہی کان کی طرح ہیں جیسے سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں ۔ان میں سے جو جاہلیت میں اچھے لوگ تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ‘اگر وہ دین کی سمجھ حاصل کریں ۔‘‘[البخاری ۴؍۱۵۲؛ مسلم ۴؍۱۹۵۸۔]

ایک طائفہ کا خیال ہے کہ ان اجناس کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دی جائے۔ یہ اہل کلام کی ایک جماعت کا قول ہے؛ جیسے قاضی ابوبکر بن الطیب ؛ اور دیگر حضرات۔اور قاضی ابو یعلی نے یہی قول المعتمد میں نقل کیا ہے۔ اور شعوبیہ کے مذہب میں بھی یہی قول ہے۔ یہ اہل بدعت کے اقوال میں سے ایک ضعیف قول ہے۔ جیسا کہ اپنی جگہ پر یہ مسئلہ تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اور ہم نے بیان کیا ہے مجمل کی مجمل پر تفضیل کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ فرد کو بھی فرد پر فضیلت حاصل ہو۔ جیسا کہ قرن اول کی قرن ثانی پر فضیلت ؛ اورقرن ثانی کی قرن ثالث پر فضیلت بھی اس کا تقاضا نہیں کرتی۔ بلکہ قرن ثالث میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو کئی امور میں قرن ثانی کے بہت سارے لوگوں سے بہت بہتر ہیں ۔

بیشک علمائے کرام رحمہم اللہ کا اختلاف غیر صحابہ کے بارے میں ہے؛ ان میں سے کون ایک دوسرے سے بہتر ہے؟ اس میں دو قول ہیں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں حکم شریعت خصوصی طور پر قریش کے حق میں ثابت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حاکم ان میں سے ہوگا؛ دوسرے لوگوں میں سے نہیں ہوگا۔ اور بنی ہاشم کی یہ خصوصیت ثابت ہے کہ ان پر صدقہ حرام ہے۔ایسے ہی یہ لوگ اکثر علماء کے نزدیک مالِ فئے کے مستحق ہیں ۔ اور اس میں ان کے ساتھ بنو مطلب بھی شمار ہوتے ہیں ۔ پس ان پر درود کا تعلق اسی باب سے ہے۔ ان کے خاص احکام میں ہیں جن میں ان کے حقوق اور ان کے فرائض بیان ہیں ۔ یہ احکام ان میں سے ہر ایک کے لیے ثابت ہیں بھلے وہ نیک نہ بھی ہو؛ گنہگار اور بدکار بھی ہو۔

رہ گیا یہ معاملہ کہ اہل قرابت میں ثواب اور عقاب میں اسی ترتیب کو برقرار رکھنا؛ اور اللہ تعالیٰ کا کسی متعین شخص کی تعریف کرنا؛ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کرامت والا ہوں ؛ اس نسب پر مؤثر نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس میں مؤثر ایمان اور عمل صالح ہوتا ہے؛ جو کہ تقوی سے آتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿ اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ﴾ (الحجرات۱۳]۔

’’ بیشک اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے ؛ وہ سب سے بڑا متقی ہو۔‘‘

صفحہ 4 از 7