فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7

صحیح بخاری میں یہ ثابت شدہ ہے؛ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا :

’’ یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ:’’ ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ [سب سے زیادہ شریف ہیں ]۔‘‘

صحابہ نے کہا کہ:’’ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے ۔‘‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھا عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو ۔ سنو جو جاہلیت میں شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جبکہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے ۔‘‘[البخاری ۴؍۱۴۰؛ کتاب الانبیاء ؛ باب قولہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراہیم خلیلا۔]

اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ جسے اس کا علم پیچھے چھوڑ دے؛ اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘[مسلم ۴؍۲۰۷۴ ؛ کتاب الذکر والدعاء ؛ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن و علی الذکر ؛ سنن الترمذي ۴؍۲۶۵؛ کتاب القرآن ؛ باب منہ ۳۔ و سنن ابن ماجہ ۱؍۸۲۔]

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کی تعریف کی ہے؛ اور یہ خبر دی ہے کہ وہ ان سے راضی ہوگیاہے؛ جیسا کہ عمومی طور پر اہل ایمان کی تعریف بھی کی ہے۔ پس کسی انسان کا مؤمن ہونا ایسا وصف ہے جس کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں مدح اور ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اور ایسے کی کسی انسان کا ان لوگوں میں سے ہونا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے؛ اور آپ کا ساتھ اختیار کیا؛ یہ ایسا وصف ہے جس پر مدح اور ثواب کا استحقاق بنتا ہے ۔ اور وہ اس صحبت میں مختلف ہوتے ہیں ۔ جو کوئی اس صحبت میں سب سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر قائم رہنے والا ہو؛ وہ دوسروں سے افضل ہے۔ جیسے سابقین اولین اپنے علاوہ دوسرے لوگوں سے افضل ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فتح مکہ سے قبل اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا؛ اور جہاد کیا۔ ان میں اہل بیعت رضوان بھی شامل ہیں ۔ ان کی تعداد چودہ سو سے زیادہ تھی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں نہیں جائے گا ۔جیسا کہ صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے۔ [سبق تخریجہ ]

جہاں تک صرف قرابت داری کا تعلق ہے؛ تو نہ ہی اس پر کوئی ثواب مرتب ہوتا ہے اور نہ ہی عقاب؛ اور نہ ہی کسی ایک کی صرف اس وجہ سے تعریف کی جاسکتی ہے۔اوریہ اس کے بھی منافی نہیں ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ بعض اجناس اور قبائل بعض دوسروں سے افضل ہوتے ہیں ۔اس تفضیل کا وہی معنی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے؛ فرمایا: ’’ لوگ کانوں کی طرح ہوتے ہیں ؛ جیسے سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں ؛ جو لوگ ان میں سے جاہلیت میں بہترین تھے؛ وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب وہ دین کی سمجھ حاصل کرلیں ۔‘‘

پس زمین میں ہی سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں ۔ سونے کی کان بہترین ہوتی ہے۔اس لیے کہ اس میں ان دونوں میں سے افضل ترین چیز پائے جانے کا امکا ن ہوتا ہے۔اگر سونے کی کان ختم ہوجائے ؛ اس سے کچھ بھی نہ نکلے؛ تو اس سے چاندی کی کان افضل ہوتی ہے؛ جس سے کچھ نہ کچھ نکل رہا ہوتا ہے ۔

ایسے ہی عربوں کی بھی اجناس ہیں ۔ اور قریش میں ہاشم بھی ہیں ۔ اور قریش میں یہ امید لگائی جاتی ہے کہ دوسروں سے بڑھ کر خیر و بھلائی پائی جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی ہاشم میں سے تھے۔قریش میں کوئی دوسرا آپ کے ہم پلہ نہیں تھا۔چہ جائے کہ پورے عرب یا غیر عرب میں آپ کی کوئی نظیر پائی جاتی۔ اورسابقین اولین عرب میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے ؛ جن کی نظیر باقی تمام لوگوں میں نہیں پائی جاتی تھی۔

پس یہ ضروری ہے کہ اس صنف میں وہ افضل پایا جائے جس کی نظیر مفضول میں موجود نہ ہو۔ اور کبھی مفضول میں کوئی ایسا پایا جاتا ہے جو فاضل کے بہت سارے لوگوں سے افضل ہو۔ جیسا کہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام جو عرب میں سے نہیں تھے؛ وہ ان عرب سے افضل ہیں جو انبیاء نہیں تھے۔ اور مؤمن اور متقی غیر قریش میں سے ؛ ان قریش سے افضل ہیں جو ایمان و تقوی میں ان کے ہم مثل نہیں ہیں ۔ اور ایسے ہی قریش میں سے متقی اور مومن ان بنی ہاشم سے افضل ہیں جو ایمان و تقوی میں ان جیسے نہیں ہیں ۔

اس باب میں معتبر یہی وہ بنیادی اصول ہے جس نے مطلق طور پر نسب کی وجہ سے فضیلت کے معیار کو کالعدم کردیا تھا۔اور یہ گمان بھی کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کے نسب کی وجہ سے ایمان و تقوی میں اس کے ہم مثل پر فضیلت دیتے ہیں ۔ کجا کہ کوئی انسان ایمان و تقوی میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔یہ دونوں قول خطا پر مبنی اور متقابل ہیں ۔ بلکہ نسبت کی وجہ سے فضیلت ایک اچھی چیز ہے؛ اور اس میں سبب کا گمان پایا جاتا ہے۔ اور ایمان و تقوی کی فضیلت جو اس کے حقائق اور مقاصد کو سچ ثابت کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔پہلی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک سبب اور نشانی ہے۔ اس لیے کہ اجمالی طور پر باعتبار عدد یہ ان سے افضل ہیں ۔ اور دوسری فضیلت اس لیے کہ اس کا مقصود حقیقی اور منتہیٰ ہے۔اور جوکوئی اللہ تعالیٰ سے جتنا زیادہ ڈرنے والا ہو؛ وہ اللہ کے ہاں اتنی زیادہ عزت والا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب اس چیز پر ملتا ہے۔ اس لیے کہ یہ وہ حقیقت ہے جو پائی گئی ہے۔ تو یہاں پر کسی حکم کو محض گمان کے ساتھ معلق نہیں رکھا گیا۔ اور اس لیے کہ اللہ تعالیٰ چیزوں کی حقیقی ماہیت کو جانتے ہیں ۔ پس اسباب اور علامات سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لیے سابقین اولین سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی آل محمد پر صلاۃ سے افضل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی رضامندی کی خبر دیدی ہے۔پس یہ رضا حاصل ہوچکی؛ جب کہ صلاۃ ؛ ایک استدعا اورسوال ہے؛ جو کہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آپ پر درود پڑھتے ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ﴾ (الاحزاب۵۶)

صفحہ 5 از 7