فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں ۔‘‘

تو آپ کی فضیلت محض آپ کی امت کے آپ پر درود پڑھنے کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے خصوصی طور پر آپ پر درود پڑھتے ہیں ۔اگرچہ عمومی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے عام اہل ایمان پر بھی درود پڑھتے ہیں ۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

﴿ ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النور﴾ (الاحزاب ۳۳]

’’وہی ہے جو تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے، تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے۔‘‘

ایسے ہی لوگوں کو خیر و بھلائی کی بات سکھانے والوں پر بھی درود پڑھتے ہیں ؛ جیسا کہ حدیث میں ہے:

’’ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے لوگوں کو خیر و بھلائی کی بات سکھانے والوں پر درود پڑھتے ہیں ۔‘‘[سنن الترمذي ۴؍۱۵۴ ؛ کتاب العلم ؛ باب في فضل الفقہ علی العبادۃ ؛ صححہ الألباني۔]

پس جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایمان اور لوگوں کو خیر کی تعلیم اور ان امور کی وجہ سے سب سے اکمل تھے جن کی بنا پر درود پڑھا جاتا ہے؛ تو آپ پر درود پڑھنا خبر اور امر ہر اعتبار سے افضل تھا۔ یہ ایسی خصوصیت ہے کہ اس جیسی خصوصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے میں نہیں پائی جاتی۔

پس بنو ہاشم کے بھی کچھ حقوق ہیں ؛ اور ان کے فرائض بھی ہیں ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو ایسا حکم دیتے ہیں جیسا حکم کسی دوسرے کو نہیں دیا؛ تووہ محض اس وجہ سے دوسروں سے افضل نہیں ٹھہرتا۔ بلکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرے گا تو وہ اس اطاعت گزاری کی وجہ سے دوسروں سے افضل ہوگا۔ جیسا کہ حکمران ؛ اور دیگر وہ لوگ جن کو وہ حکم دیے گئے ہیں جو کسی دوسرے کو نہیں دیے گئے۔ پس ان میں سے جو کوئی اللہ کی اطاعت گزاری کرے گا وہ افضل ہوگا۔ اس لیے کہ اس کی اطاعت اکمل ہے۔اور جو کوئی ان میں سے اطاعت گزاری نہ کرے؛ تو کوئی دوسرا جو ایمان اور تقوی میں بڑھ کر ہو؛ اس سے افضل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو باقی تمام لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔ اورامہات المؤمنین میں سے جن کو فضیلت حاصل ہے؛ انہیں باقی تمام خواتین پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین کو وہ احکام دیے تھے جو دوسرے لوگوں کو نہیں دیے گئے تھے۔ پس انہوں نے اعمال صالحہ اس طرح بجا لائے کہ کسی دوسرے میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ تو اس وجہ سے وہ افضل قرار پائے۔ ایسے ہی ازواج مطہرات ؛ جن سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًاo وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًاo﴾ (الاحزاب۳۰۔۳۱)

’’ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی بے حیائی (عمل میں ) لائے گی اس کے لیے عذاب دوگنا بڑھایا جائے گا اور یہ بات اللہ پر ہمیشہ سے آسان ہے۔اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی اسے ہم اس کا اجر دوبار دیں گے اور ہم نے اس کے لیے با عزت رزق تیار کر رکھا ہے۔‘‘

الحمد للہ کہ یہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم یقیناً اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزار اورنیک اعمال کرنے والی تھیں ۔پس اسی لیے دوہرے اجر کی مستحق ٹھہریں ۔پس احکام الٰہی کی اطاعت کی وجہ سے ان کو یہ افضلیت حاصل ہوئی؛ صرف حکم کی وجہ سے نہیں ۔ اور العیاذ باللہ ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان میں سے کوئی ایک فحاشی کا ارتکاب کرتی تو اسے عذاب بھی دوگنا کرکے دیا جاتا۔

حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ اس حکم کو تمام اہل بیت کے لیے عام قرار دیتے تھے۔ اور یہ کہ ان میں سے کسی ایک کی سزا بھی دوگنی ہی ہوگی۔اور اس کی نیکیاں بھی دوگنی ہوں گی۔ جیسا کہ مسجد الحرام میں جو کچھ کیا جائے اس پر ثواب یا عقاب دوگنا ہوتا ہے۔اور جو کوئی رمضان میں کوئی کام کرے تو وہ بھی دو چند کردیا جاتا ہے۔ اسی پر باقی چیزوں کو قیاس کیا جائے۔

ان تمام باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو عزت صرف تقوی کی بنیاد پر ملتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’نہ ہی کسی عربی کو عجمی پر اورنہ کسی عجمی کو عربی پر؛ اور نہ کسی کالے کو سفید پر اور نہ ہی کسی سفید کو کالے پر کوئی فضلیت حاصل ہے؛ مگر تقوی کی بنیاد پر ۔ تمام لوگ حضرت آدم کی اولاد ہیں ۔ اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔‘‘[مسند ۵؍۳۱۱]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے کبر و غرور اور آباء و اجداد پر فخر کرنے کو تم سے دور کردیا ہے۔ انسان دو ہی قسم کے ہوتے ہیں (۱) مومن متقی(۲) فاسق و فاجر۔[دیکھیں سابقہ تخریج]

پس آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑہنا مسلمانوں پر ان کا حق ہے؛ اور یہ نسب ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے۔ اس لیے اس سے واجب یہ ہوتا ہے کہ بنی ہاشم میں ہر ایک پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی اتباع میں درود بھیجنا لازم ہے؛وہ اس سے افضل ہو جس پر درود نہیں پڑھا جاتا۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ

(التوبۃ ۱۰۳) 

’’ ان کے مالوں سے صدقہ لے، اس کے ساتھ تو انھیں پاک کرے گا اور انھیں صاف کرے گا اور ان کے لیے دعا کر، بے شک تیری دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔‘‘

اور صحیحین کی حدیث میں ابن ابی اوفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ صدقات لیکر آتے تو آپ ان پر درود پڑھتے۔ اور میرے والد صاحب بھی آب کی خدمت میں صدقات لیکر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ((اللہم صل علی آل أبی أوفی)) ....’’اے اللہ آل ابی اوفی پر رحمتیں نازل فرما ۔‘‘

صفحہ 6 از 7