خلیفہ کے انتخاب کے لیے کتنے ووٹ کافی ہیں
علی محمد الصلابیعام طور سے مشہور ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کی چھ رکنی کمیٹی مقرر کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ وہ سب یکجا ہوں اور باہم مشورہ کریں اور یہ تحدید کر دی کہ اگر ان میں سے پانچ کسی پر متفق ہو جائیں اور ایک انکاری ہو تو اس کی گردن مار دی جائے اور اگر چار لوگ کسی ایک پر متفق ہو جائیں اور دو انکار کریں تو ان دونوں کی گردن مار دی جائے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 226 )
لیکن یہ روایت غیر مستند روایات میں سے ہے، اس کا تعلق ان غیر معقول اور انوکھی روایات سے ہے جنہیں ابو مخنف (رافضی) نے صحیح نصوص اور صحابہ کرامؓ کی بے داغ و پاک باز سیرتوں کے برخلاف ذکر کیا ہے۔ یہ روایت بالکل جھوٹی اور منکر ہے۔ کیونکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بارے میں ایسا کیوں کر کہہ سکتے ہیں جب کہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ لوگ صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ پاک باز ہیں اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی افضلیت اور مقام و مرتبہ کو دیکھتے ہوئے یہ عظیم کام سونپا تھا۔
(مرویات أبی مخنف من تاریخ الطبری: دیکھیے یحییٰ الیحیٰ، صفحہ 175)
ابن سعد کی روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انصار سے کہا: ان لوگوں کو تین دنوں کے لیے ایک گھر میں چھوڑ دو اگر کوئی بہتر نتیجہ لے کر نکلتے ہیں تو بہتر ہے ورنہ سب کی گردن مار دو۔
(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 342)
یہ روایت بھی سنداً منقطع ہے، نیز اس کی سند میں سماک بن حرب ہے جو ضعیف ہے اور آخری عمر میں حافظہ خراب ہوگیا تھا۔
(مرویات أبی مخنف من تاریخ الطبری: صفحہ 176)
اس باب میں ابن سعد کی وہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اس میں ہے کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے کہا: تین دن لوگوں کی امامت کرو اور اس چھ نفری جماعت کو ایک گھر میں چھوڑ دو، یہ لوگ جسے خلیفہ منتخب کر لیں (اس کی اطاعت کرو) اور جو ان کی مخالفت کرے اسے قتل کر دو۔
(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 342)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس اثر میں اس آدمی کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں جو ان منتخب اراکین کے انتخاب کی مخالفت کرے، مسلمانوں کے اتحاد کو توڑے اور ان میں گروہ بندی پیدا کرے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت میں کہی تھی:
مَنْ أَتَاکُمْ وَأَمْرُکُمْ جَمِیْعٌ عَلٰی رَجُلٍ وَّاحِدٍ ، یُرِیْدُ أَنْ یَّشُقَّ عَصَاکُمْ أَوْ یُفَرِّقُ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوْہُ۔
(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 60 حدیث نمبر 1852 )
ترجمہ:’’جو شخص تمہارے پاس آئے، اس حال میں کہ تم اپنے میں سے کسی ایک کی امارت پر متفق ہو چکے ہو اور وہ آکر تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہو اور تمہاری جماعت کو گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کر دو۔‘‘