اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ -…

اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

اسلامی ممالک کے خلاف

 ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ

وطنِ عزیز پاکستان اس وقت جب نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایک ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرنے کے باوجود بدامنی لوٹ مار خونریزی ہنگامہ فسادات کے ساتھ معاشی ابتری اقتصادی بدحالی بے روزگاری اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ عوام سے حکمرانوں تک ہر شخص عدمِ تحفظ کے احساس میں مبتلا ہو کر دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے اور اپنے مال و دولت کو بیرون ممالک میں محفوظ کرنے کا خیال پاکستانی عوام کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے سیاسی ابتری کرپشن انتقام ریاستی جبر جعلی پولیس مقابلوں کی آڑ میں ماورائے عدالتِ قتل سرکاری انتظامیہ و پولیس کے ہاتھوں شرفاء اور بے گناہوں کی عزت و حرمت کا استحصال نا اہلوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا اور عمر بھر محنت کر کے ڈگریاں حاصل کرنے والوں کا در در کی ٹھوکریں کھا کر مایوسی و قنوطیت کے گڑھوں میں گرتے چلے جانا کوئی حادثاتی بات نہیں ہے کسی معاشرہ پر صرف دس پندرہ سال کے عرصہ میں اتنی مہلک بیماریوں اور تباہ کن وائرس کا نزول یقیناً کسی بڑی سازش اور نادیدہ ہاتھ کی کارستانی کا نتیجہ ہے ورنہ 1947ء سے 1980ء تک اس نومولود مملکت میں جن انتہائی نامساعد و ناموافق حالات میں نہ صرف اپنے وجود کو توانائی سے بہرہ ور کیا بلکہ بھارت کی طرف سے مسلط کردہ تین جنگوں کے زخموں کو بھی برداشت کرلیا آخر وہ دیکھتے ہی دیکھتے اب بغیر کسی جنگی و ہنگامی حالت سے دوچار ہوئے کیونکر اس بھیانک صورتحال کا شکار ہوگئی ہے اور اس کا وجود اندر ہی اندر سے کرم خوردہ لکڑی کی مانند کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے سوچنے کی بات یہ ہے 1980ء سے 1990ء تک کے دس سالوں میں آخر وہ کون سے حالات پیش آئے ہیں کہ جنہوں نے ایک طرف قومیت صوبائیت اور لسانیت کی بنیاد پر نظریہ پاکستان کو بیان کرنے والے عناصر کو جنم دیا اور دوسری طرف مذہب و مسلک کی بنیاد پر ملک میں قتل و غارت گری کا راستہ ہموار کر کے دینی و مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا اور پھر اس ملک کی اکثریتی سُنی آبادی سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور نوجوانوں سے جیلیں بھرنے پر حکمرانوں کو آمادہ کیا اور مخصوص اقلیتی مذہب کے دہشت گرد و تخریب کاروں کو قانون و انصاف سے بالاتر قرار دے کر حکمرانوں کی آغوش میں بٹھا دیا۔

ایک طرف مسلسل سُنی قیادت گولیوں اور بم دھماکوں کا شکار ہوتی چلی گئی تو دوسری طرف اس قیادت کے کارکنوں کو سرکاری دہشت گردی اور ریاستی جبر کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ کراچی جیسے منی پاکستان کی روشنی کو گل کر کے ایک آسیب زدہ شہر میں تبدیل کر کے جیتے جاگتے انسانوں کی قتل گاہ بنا کر ایک طرف لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں کو بند کرا کے بندر گاہوں کو ویران بنا کر ملک کی معاشی حالت کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف تیزی کے ساتھ غیر ملکی قوتیں کراچی میں زمینیں خریدنے میں مصروف ہیں اور پڑوسی ممالک کے لوگ فوج در فوج اس میں داخل ہو رہے ہیں تیسری طرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کر کے تنہا کرنے اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے رابطہ کی کوششوں سبوتاژ کرنے (افغانستان میں پاکستان کی حامی طالبان حکومت) کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں کو وسیع پیمانے پر پھیلانے ہندوستان کے ساتھ راہ و رسم بڑھا کر پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کے گرد شکنجہ کسنے کا جو سلسلہ جاری ہے آخر اس سازش کے تانے بانے کون بن رہا ہے۔

قارئین محترم! درج بالا سطور میں جس سازش اور ناپاک منصوبہ کی طرف اشارہ کیا ہے اسے لفظ بلفظ صحیح ثابت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں ایک ایسی دستاویز پیش کی جارہی ہے جسے معاصر مجلّہ "البیان" نے مارچ 1998ء کی اشاعت میں اور ہندوستان کے معروف ماہنامہ الفرقان لکھنؤ نے اکتوبر 1998ء کی اشاعت میں شائع کیا ہے یہ دستاویز رابطہ اہلِ سنت ایران نے اپنے لندن کے دفتر سے نشر کی ہے یہ دستاویز کیا ہے؟ ایران کی موجودہ سپریم انقلابی کونسل جو ایران میں (اعلیٰ دستوری اختیار کی حامل ہے) کی تین فکری نشستوں کا نچوڑ ہے جسے مرتب کر کے ایران کے صوبائی گورنروں اور اسلامی ممالک میں موجود ایران کے سفارت خانوں کو خفیہ طور پر پہنچایا گیا ہے اس دستاویز کا مطالعہ ہی ہر صاحبِ انصاف کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہوگا اگر اس دستاویز کے مطالعہ کی روشنی میں آپ بحرین امارات عرب افغانستان پاکستان ترکی اور عراق میں پیدا ہونے والے پندرہ سال کے حالات کا جائزہ لیں گے تو اس کی سچائی کے درجنوں شواہد آپ کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے۔

رابطہ اہلِ سنت ایران (دفتر لندن) نے دستاویز نشر کی ہے جس کو معاصر مجلّہ "البیان" نے اپنی مارچ 1998ء کی اشاعت میں شائع کیا ہے جس کا ترجمہ مجلّہ مذکور کے شکریہ کے شائع کیا جا رہا ہے ہم نے کچھ توضیحی نوٹس بھی بڑھا دیے ہیں اور معمولی سا اختصار بھی کیا ہے ملاحظہ ہو۔

اگر ہم اپنے انقلاب کا دائرہ پڑوسی ممالک تک وسیع نہیں کر سکے (یہاں پر اصل میں جو معنیٰ خیز تعبیر ہے اس کے لفظی معنیٰ انقلاب ایکسپورٹ کرنے کے ہیں جس کا ہم نے انقلاب کی توسیع ترجمہ کیا ہے آگے بھی جہاں یہ تعبیر آئی ہے ہم اس کا یہی ترجمہ کیا ہے) تو یقینی طور پر ان ملکوں کی مغرب زدہ تہذیب و ثقافت ہم پر حملہ آور ہوگی اور غالب ہوکر رہے گی۔

اب جبکہ امام علیہ السلام کی جانباز امت کی زبردست قربانیوں کے سبب ایران میں صدیوں بعد اثناء عشریوں کی حکومت قائم ہوچکی ہے ہم پر قابلِ احترام شیعہ قائدین کی ہدایات کے بموجب انقلاب کی توسیع کی انتہائی اہم نازک اور بھاری ذمہ داری ہے۔

ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ ہماری حکومت کی اولین ذمہ داری (ملک کی آزادی و حریت اور عوامی حقوق کے سلسلہ کی دیگر ذمہ داریوں کے علاوہ) انقلاب کے دائرہ کی توسیع ہے اس لئے کہ یہ ایک خاص مسلک کی حکومت ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہم انقلاب کی توسیع کو اپنی ترجیحات میں اولین پوزیشن دیں۔

صفحہ 1 از 4