اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ -…

اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

لیکن موجودہ عالمی حالات اور رائج و معروف نام نہاد عالمی قوانین کے پیش نظر ہمارے لئے انقلاب کی توسیع ممکن نہیں ہے بلکہ (اگر ایسی کوشش کی گئی تو) اس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے (لیکن ان بھیانک نتائج کے اندیشہ کے پیشِ نظر ایرانی حکومت کے اس بنیادی مقصد اور اولین ذمہ داری سے دستبردار ہونے کو نہیں سوچتی بلکہ زیادہ سے زیادہ صرف طریقہ کار (Lion of Action) ہی تبدیل کرتی ہے آگے ملاحظہ فرمائیں۔

لہٰذا کونسل نے تین نشستوں کے غور فکر کے بعد اور شریک ممبروں اور ذیلی کمپنیوں کے تقریباً اتفاق رائے سے ایک 50 نکاتی پروٹوکول (لائحہ عمل) ترتیب دیا ہے جو 5 مراحل پر منقسم ہے ہر مرحلہ کی مدت 10 دس سال ہوگی۔

ہمارا مقصد انقلاب کے دائرہ کی توسیع اور ایک ہی قسم کے اسلام کی ترویج و اشاعت ہے (مراد واضح ہے یعنی پڑوسی علاقوں اور آبادیوں میں شیعہ مذہب کی اشاعت و ترویج اس حد تک کہ صرف وہی باقی رہے اور دیگر کچھ نہیں) اس لئے کہ ہمارے لئے مشرق و مغرب کے ہر خطرے سے کہیں بڑا خطرہ وہابی یا سُنی حکومتیں ہیں اس لئے کہ یہ (وہابی و اہلِ سنت) ہمارے مشن کی مخالفت کرتے ہیں اور یہی اصل دشمن ہیں ائمہ (اہلِ بیتؓ) اور (ان کے نائبین) فقہاء کی حکومت کے اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایران کے اندر سُنی آبادیوں خصوصاً سرحدی علاقوں میں اپنا نفوذ بڑھائیں اپنی مسجدوں کی ماتم گاہوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور زیادہ سے زیادہ مؤثر و فعال طور پر مذہبی تقریروں اور مجالس کا انعقاد کریں جن علاقوں میں 90 تا 100 فیصد سُنی آبادی ہے وہاں (اس تبدیلی کے لئے) فضاء سازی کے لئے اندرون ایران سے شیعہ آبادی کو لے جا کر بسایا جائے وہ وہاں مستقل طور پر آباد ہوں اپنی تجارت کریں اور کاروباری زندگی میں مشغول ہوں حکومتی اداروں پر ان کے تئیں یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست ان کی حفاظت اور ان کے مفادات کی نگرانی کریں نیز بیورو کریسی انتظامیہ تعلیمی ادارے اور سماجی مراکز کو مقامی سُنی آبادی سے بتدریج پاک کیا جائے اور ان شعبوں کو شیعوں کے حوالے کیا جائے۔

ہم نے جو (تفصیلی) پروٹوکول اور لائحہ عمل (انقلاب کی توسیع) کے لئے مرتب کیا ہے وہ بغیر کسی شور و شغب یا خونریزی کے کامیاب اور مفید مقصد ہوگا یہاں تک کہ بڑی عالمی طاقتوں کی طرف سے بھی اس پر کسی رد عمل کا اندیشہ نہیں ہے نیز اس لائحہ عمل کی تنفیذ پر جو مالی وسائل خرچ ہوں گے یقیناً ان سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔

 پڑوسی ریاستوں کو داخلی طور پر کیسے کمزور کیا جائے

کسی ریاست اور قوم کی طاقت تین عناصر سے ملکر تشکیل پاتی ہے۔ 

  1.  حکومت کا استحکام اور اس کی طاقت۔ 
  2.  علماء اور سکالرز کا علمی و تحقیقی معیار۔
  3. اقتصاد و معیشت جس کی باگیں سرمایہ دار طبقہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔

اگر ہم ان حکومتوں کے وجود کو گھلانا چاہتے ہیں تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ ہم حکومت اور علماء و اہلِ دانش طبقہ میں اختلاف ڈال دیں اور سرمایہ دار طبقہ کے درمیان انتشار پیدا کر کے ان کو یا تو اپنے ملک آنے کی پیشکش کریں یا پھر ان کو آمادہ کریں کہ وہ اس علاقہ سے اپنا سرمایہ لے کر کہیں اور منتقل ہوجائیں۔

اگر ہم ایسا کر سکے تو ہم نے ان حکومتوں کی مذکورہ تینوں بنیادیں کھوکھلی کردیں اور یقیناً ایک بڑا ہدف پالیا۔

باقی مانده 70۔80 فیصد عوام کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ طاقت کے غلام ہوتے ہیں اور ان کو قابو میں کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا اس لئے کہ ان بیچاروں کو اپنی روٹی کپڑے اور مکان کے مسائل سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ کچھ سمجھ سکیں ہاں چھت پر جانے کے لئے پہلا قدم جو ہوتا ہے وہ ایک سیڑھی کے بقدر ہی ہوتا ہے (لہٰذا تدریجی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے جو قدم اٹھائے جائیں ان کو چھوٹا نہ سمجھا جائے)۔

ہمارے وہابی یا سُنی پڑوسی ممالک ترکی عراق افغانستان پاکستان اور جنوبی سرحدوں کے پاس خلیج فارس کے سرے پر واقع کچھ عرب اسٹیٹس اگرچہ باہم متحد نظر آتے ہیں لیکن در حقیقت ان میں باہم اختلافات ہیں اور خاص طور پر یہ علاقہ (خلیج) ماضی و حال دونوں میں بڑی اہمیت رکھتا ہے پٹرول نے اس کو دنیا کا قلب بنا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے نازک اور حساس علاقہ ہے پٹرولیم کی تجارت نے اس علاقے کے حکمرانوں کو بہترین اسباب عیش بھی فراہم کردیے ہیں۔

ان ممالک کے عوام تین قسم کے ہیں۔ 

  1. صحرائی بدو جو سینکڑوں سال سے یہاں آباد ہیں۔
  2. وہ لوگ جو ان جزیروں اور ساحلی بندرگاہوں سے وہاں جا کر آباد ہوگئے ہیں جو آج ہماری قلمرو میں داخل ہیں ان لوگوں کی ہجرت کا سلسلہ اسماعیل شاہ صفوی کے زمانہ سے شروع ہوتا ہے اور مختلف زمانوں سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ اسلامی انقلاب کے ابتدائی زمانہ تک جاری رہا۔ 
  3. تیسرا طبقہ وہ ہے جو مختلف عرب علاقوں اور ایران کے داخلی علاقوں سے وہاں گیا ہے تعمیراتی ادارے ان لوگوں کی ملکیت ہیں جو یہاں کے اصل باشندے نہیں ہیں اصل باشندوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ عمارتوں کے کرائے یا بڑی تجارتیں ایکسپورٹ امپورٹ کمپنیاں اور بڑی جائیداد کی خرید و فروخت ہے حکام کے اقرباء اور بارسوخ طبقہ سروس پیش ہے اور ان لمبی چوڑی تنخواہوں سے فائدہ اٹھاتا ہے جن کا اصل ذریعہ تیل ہے

ان ملکوں کا تہذیبی و سماجی بگاڑ بالکل عیاں ہے مخالف اسلام اعمال علی الاعلان کئے جاتے ہیں ان ملکوں کے اکثر باشندے دنیوی لذتوں میں ڈوبے ہوئے اور فسق فجور میں غرق ہیں۔

 ان ملکوں پر ہمارے قبضہ کا مطلب آدہی دنیا پر قبضہ ہے

اس 50 نکاتی منصوبہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے ضروری ہے کہ پڑوسی کے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوں اور طرفین میں احترام دوستی اور اعتماد کی فضاء قائم ثقافتی سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی استواری کے بعد یقیناً ایرانیوں کی ایک تعداد ضرور ان ملکوں کو ہجرت کرے گی اور ہمارے لئے ممکن ہوگا کہ ان کے بیچ کچھ اپنے ایجنٹ بھی بھیج دیں جو بظاہر مہاجر ہوں گے اور اندر سے وہاں کے نظام و حکومت میں ہمارے کارندے ان کو بھیجتے وقت یا ان کی خدمات حاصل کرتے وقت ان کے معاوضے بھی معین کئے جائیں گے۔

صفحہ 2 از 4