اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ -…

اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

آپ حضرات پچاس سال کی مدت کو طویل اور اکتا دینے والا خیال نہ کریں ہمارے انقلاب کی کامیابی کے پیچھے 20 سال کی منصوبہ بند محنت تھی ہم اور ہمارے مذہب کو بہت سے ان ممالک میں جو رسوخ اور نفوذ حاصل ہے یہ ایک یا دو دن میں حاصل نہیں ہوگیا ماضی میں کسی حکومت میں ہمارے ملازمین تک نہیں تھے چہ جائیکہ وزیر گورنر یا سیکرٹری وہابی شافعی حنفی مالکی حنبلی فرقے ہم کو مرتد اور خارج اسلام قرار دیتے آئے ہیں یہ سچ ہے کہ (اس مظلومی کے زمانے میں) ہم نہیں تھے مگر ہمارے آباؤ اجداد تھے اور آج ہماری زندگی ان کے افکار معتقدات اور مساعی کا ہی ثمرہ ہے ہو سکتا ہے کہ اس پروٹوکول کے پورے ہونے تک ہم نہ بھی رہیں لیکن ہمارا انقلاب اور ہمارا مذہب باقی رہے گا۔

اسی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لئے جان و مال کی قربانی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ سب ایک طے شدہ اور منصوبہ بند پروگرام کے تحت ہو پروٹوکولس (منصوبے) بنائے ہوں گے چاہے وہ کتنے ہی طویل المیعاد ہوں چاہے 50 سال کے بجائے 500 سالہ ہی کیوں نہ ہوں ہم کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم لاکھوں شہداء کے وارث ہیں جو رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سے آج تک ان شیطانوی بربریت کا نشانہ بنتے رہے جو اپنے اوپر اسلام کا لیبل لگائے رہتے ہیں ہماری تاریخ کے دل کے یہ زخم اس وقت تک مندمل نہ ہوں گے جب تک اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا ہر شخص سیدنا علیؓ و اہلِ بیتؓ رسولﷺ پر عقیدت نہ رکھنے لگے اور اپنی آباؤ اجداد کی غلطیوں کا اعتراف نہ کرلے اور شیعت کو اسلام کا حقیقی اور سچا وارث نہ جان لے۔

 پروگرام کے پانچ مراحل

افغانستان پاکستان ترکی عراق اور بحرین میں اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اسلیئے ہم یہاں دوسرے دس سالہ مرحلہ سے ہی ابتدا کرسکتے ہیں۔

(1) باقی ممالک میں ہمارے مہاجرین پر تین باتوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

  • (جائیداد عمارتیں اور گھر خریدیں اپنے ہم مذہبوں کیلئے روزگار اور رہائش کی فراہمی کریں تاکہ وہ وہاں رہیں اور عددی طاقت میں اضافہ کا سبب بنیں۔
  • معاشرے کے بارسوخ اور سر آوردہ افراد مثلاً سرمایہ دار بیور کریٹس شہرت یافتہ اشخاص اور سیاسی حلقوں میں اثر رکھنے والے افراد سے گہرے تعلقات قائم کریں۔
  • ان ممالک میں سے بعض ابھی ترقی و آباد کاری کے مراحل سے گزر رہے ہیں نئے نئے شہر بس رہے ہیں ہمارے مہاجروں (ایجنٹوں) کو چاہیئے کہ وہ یہاں جائیدادیں خریدیں مکانات بنائیں اور پھر انکو بہت مناسب اور کم قیمت پر ان لوگوں کو بیچیں جو ان ملکوں کے اہم مرکزی شہروں اور مقامات میں رہتے ہیں اس طرح ان ملکوں کے اہم مرکزی مقامات انکے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔

(2) اپنے لوگوں (شیعوں) کو اسکی ترغیب دینی چاہیئے کہ وہ قانون انتظامیہ اور حکومت کی اطاعت کریں اور مذہبی تقریروں ماتم گاہوں اور مساجد کیلئے باقاعدہ لائسنس لیں اپنے آزاد کاموں کی بنا ڈالنے کیلئے مناسب ہے کہ گھنی آبادی والے علاقوں کا انتخاب کیا جائے تا کہ ہمارے کام حساس جگہوں پر ہونے کی وجہ سے بحث و مناقشہ کا موضوع بن سکیں ان دونوں مرحلوں میں ہمارے لوگوں کو ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اس مقصد کیلئے دوستوں اور اہلِ تعلق کے تعاون کے علاوہ قیمتی ہدیوں کی پیش کش سے کام لینا چاہیئے نیز اپنے نوجوانوں کو حکومتی ملازمتوں اور فوجی خدمات کیلئے آمادہ کیا جانا چاہیئے۔

اس دس سالہ مرحلہ کے دوسرے پانچ سال میں ان ملکوں میں پھیلے ہوئے سماجی بگاڑ اور مخالف اسلام اعمال کے خلاف دوسرے ملکوں کی مذہبی شخصیتوں و اداروں کے نام سے مذمتی تحریریں و بیانات تقسیم کیے جائیں اور اسکے ذریعہ سُنی و وہابی علماء کو اپنی حکومتوں کے خلاف برانگیختہ کیا جائے لیکن یہ سب کچھ براہِ راست نہ ہو بلکہ خفیہ طور پر اور پس پردہ رہ کر کیا جائے اس سے ان ملکوں کے عوام کی بڑی تعداد اپنی حکومتوں کے خلاف بھڑک اٹھے گی آخر کار یا تو حکومتیں ان مذہبی قیادتوں کو گرفتار کریں گی یا یہ حضرات اپنے نام سے نشر ہونے والے مذہبی بیانات کی تردید کریں گے (دونوں ہی صورتوں میں جو غیر یقینی اور انتشار کی فضاء قائم ہوگی وہ شیعہ کاز اور اس منصوبہ کو تقویت پہنچائے گی) اور اہلِ دین طبقہ ان مذہبی تحریروں کا زبردست دفاع اور پر جوش حمایت کرے گا اس وقت کچھ شبہ میں ڈالنے والے حادثات ہونگے (بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی ایجنٹ کچھ مشتبہ وارداتیں کریں گے) جس کے نتیجہ میں بہت سے ذمہ دار معطل کیئے جائیں گے یا ان کا ٹرانسفر ہوگا۔

اس صورتِ حال کا یہ نتیجہ برآمد ہو گا کہ حکام اپنے ملکوں کے سارے ہی دین دار طبقہ سے بدظن ہوجائیں گے اور پھر کسی بھی دینی سرگرمی دعوتی کام مساجد کی تعمیر اور دینی مراکز کی تعمیر وغیرہ کی سرپرستی نہیں کریں گے بلکہ ہر دینی تقریر و جلسہ اور تقریب کو اپنی حکومت کے خلاف بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک سازش سمجھیں گے حکومتوں اور علماء کے درمیان نفرت و عداوت کی خلیج بڑھتی جائے گی اور خود اہلِ سنت اور وہابیوں کو اپنے ہی مرکزوں کی حمایت و تائید حاصل نہیں رہے گی اور نہ ہی باہر سے کوئی ان کی حفاظت کیلئے آئے گا۔

(3) اس مرحلہ میں سرمایہ داروں اور بڑے افسران سے ہمارے ایجنٹوں کے گہرے دوستانہ مراسم قائم ہو چکے ہونگے خود انکی ایک تعداد فوج میں اور انتظامیہ میں پوری سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ بغیر کسی دینی سرگرمی میں حصہ لئے کام کر رہی ہوگی نتیجہ حکمران ان سے پہلے سے زیادہ مطمئن ہوں گے اور دوسری جانب حکام میں اور دین دار طبقہ میں اختلافات و دوریاں اور نفرتیں پیدا ہو چکی ہوں گی لہٰذا ان ملکوں کے ہمارے علماء ان حکومتوں کے ساتھ اپنی وفاداری اور مکمل تائید کا خاص طور پر مذہبی تقریبات میں ضرور اظہار کریں اور شیعت کو ایسے انداز کے طور پر پیش کریں کہ جس سے انکو اور انکی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا اور اگر ان کیلئے ممکن ہو کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اپنی وفاداری کا اظہار کرسکیں تو اس سے بھی کوئی دریغ نہ کریں۔ تاکہ انکو حکمران طبقہ کی توجیہات حاصل ہوسکیں انکو حکومتی مناصب دیتے وقت کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔

صفحہ 3 از 4