اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ -…

اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا تیار کردہ پچاس سالہ منصوبہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

اسی مرحلہ میں ہماری بندرگاہوں اور جزیروں کی صورتِ حال میں کچھ تبدیلی آئے گی ساتھ ہی وہاں کے مرکزی بینکوں میں ہماری سرمایہ کاری ہوگی جس کے ذریعے ہم ان پڑوسی ممالک کے اقتصاد و معیشت کو چوٹ پہنچانے کیلئے منصوبہ بندی کریں گے جب ہم دوسروں (کیلئے اپنی منڈی کو کھول کر ان) کو اپنے ملک کی تجارتی سرگرمیوں اور بینک کے نظام میں حصہ لینے کی آزادی دیں گے تو یقیناً ہمارے تاجروں کا ان ملکوں میں بھی استقبال کیا جائے گا اور انکو کاروباری مراعات دی جائیں گی۔

(4) اس مرحلہ کے آتے آتے ان ممالک کے حالات ہمارے کام کیلئے بالکل تیار ہوں گے علماء اور حکام کے درمیان نفرتیں اور دشمنیاں ہوں گی تجارت و معیشت دیوالیہ ہوا چاہتی ہوگی عوام شدید انارکی و بے چینی کے عالم میں اونے ہونے اپنی جائیدادیں بیچ کر کسی پُر امن اور مستحکم جگہ منتقل ہونا چاہیں گے اسی ہنگامے میں ہمارے مہاجرین و علماء ہی حکومت کے حامی و مددگار ہونگے اور اگر ہمارے ایجنٹوں نے ہوشیاری و بیداری سے کام لیا تو ان کیلئے اعلیٰ ترین شہری و فوجی عہدوں تک پہنچنا کچھ مشکل نہ ہوگا اسی طرح انکے اور اعلیٰ اقتدار اداروں اور حکام کے درمیان کی دوری اور گھٹ کر رہ جائے گی ان اعلیٰ پوسٹوں پر پہنچنے کے بعد ہمارے لیئے یہ بھی ممکن ہوجائے گا کہ حکام کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کے خاص معتمدین حقیقت غدار ہیں جس کے نتیجہ میں ان کے بدلے ہمارے عناصر کو رکھا جائے گا اور اس کے ہمارے لئے دو مثبت نتائج بر آمد ہوں گے۔

  1. حکومتی اداروں اور اقتدارِ اعلیٰ کے مراکز میں شیعوں کے بڑھتے اثر سے اہلِ سنت کی ناراضگی و برانگیختی میں مزید اضافہ ہوگا اور ان کی حکومت مخالف سرگرمیوں میں بھی زیادتی ہوگی اس صورت میں پھر ہمارے عناصر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ حکام کا ساتھ دیں اور عوام سے صلح پسندی اور پُرامن رہنے کی اپیل کریں۔
  2.  اسی دوران جو لوگ ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگیں ان کی جائیدادیں خریدنے کی کوشش کی جائے۔

(5) پانچویں اور آخری دس سال میں ماحول مکمل انقلاب کے لئے تیار ہوچکا ہوگا اس لئے کہ حکمران طبقہ خوف و ہراس کے عالم میں طوفان میں پھنسی کشتی کی طرح ہر مفید و مضر تجویز کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگا۔

اس مرحلہ میں ہم مشہور و قابلِ اعتماد شخصیتوں کے ذریعہ حالات معمول پر لانے کے لئے ایک عوامی نمائندہ کمیٹی کی تشکیل کی تجویز رکھوائیں اور اداروں کی نگرانی اور ملک کے انتظام میں حکمرانوں کی مدد کریں یقینی بات ہے کہ وہ اس تجویز کو قبول کرلیں گے اور ہمارے نامزد افراد اس کمیٹی کی اکثر سیٹوں پر آئیں گے اس کے نتیجہ میں بھی تاجر علماء حتٰی کہ حکومت کے مخلصین تک فرار اختیار کرنے لگیں گے اور اس طرح بغیر کسی خونریزی یا جنگ کے ہمارے لئے انقلاب کے دائرہ کی توسیع، ممکن ہوگی۔ اگر بالفرض ہمارا یہ منصوبہ اپنے آخری مرحلہ میں کامیاب نہیں ہوتا تو ہم ایسا کر سکیں گے کہ عوامی انقلاب کے ذریعہ حاکموں سے اقتدار چھین لیں اگرچہ اس صورت میں ہمارے شیعہ عناصر اس ملک کے مالک اور اس کے شہری ہوں گے لیکن ہم اپنے مذہب دین اور اللہ کے سامنے کی مسئولیت سے بری ہو سکیں گے۔

ہمارا مقصد کسی معین شخص کو کرسی اقتدار تک پہنچانا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف اور صرف شیعہ انقلاب کو دوسرے ملکوں میں نافذ کرنا ہے۔


صفحہ 4 از 4