اختلاف کے وقت فیصل کون ہو
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ نصیحت کی تھی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان چھ لوگوں کے ساتھ مجلس شوریٰ میں شریک ہوں گے، البتہ انہیں خلافت کے سلسلہ میں کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔ اور ان سب سے کہا کہ اگر تین آدمی اپنے کسی ایک کو، اور تین اپنے کسی ایک کو خلافت کے لیے منتخب کر لیں تو عبداللہ بن عمر کو فیصل بنانا۔ جس کے حق میں وہ فیصلہ دے دیں اسے چاہیے کہ اپنے آدمی کو امیر منتخب کر لے اور اگر عبداللہ بن عمر کا فیصلہ منظور نہ ہو تو ان لوگوں کے ساتھ ہو جانا جن میں عبدالرحمٰن بن عوف ہوں گے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی نیکی اور تقویٰ شعاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عبدالرحمٰن بن عوف کیا ہی بہتر رائے دینے والے ہیں، نیک اور ہدایت یاب ہیں، اللہ کی طرف سے ان کی محافظت ہو رہی ہے، تم ان کی باتیں مانو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225)