Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پاک طینت و تقویٰ شعار جماعت کے ذریعہ سے انتخابی کارروائی کی نگرانی اور ہنگامہ آرائی پر قدغن

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے کہا: اے ابوطلحہ! اللہ نے تم لوگوں كو ذریعہ اسلام کو سربلند کیا، اپنے قبیلہ کے پچاس انصاری صحابہؓ کو ساتھ لے کر اس جماعت (مجلس شوریٰ) کی نگرانی کرو، یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225 )

اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا: جب تم لوگ مجھے میری قبر میں رکھ دو تو اس چھ رکنی جماعت کو ایک گھر میں بند کر دینا، یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225)

الغرض سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ زندگی کے آخری لمحات میں بھی جب کہ زخموں سے چور اور جان کنی کے عالم میں تھے، مسلمانوں کے معاملات کو بہتر سے بہتر بنانے سے غافل نہ ہوئے اور ایسے شورائی نظام کی بنیاد رکھی جسے آپ سے پہلے کسی نے انجام نہ دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شورائی نظام کا ثبوت قرآن اور سنت میں موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی معاشرہ میں اس کا عملی نفاذ کیا ہے، اس لیے اصل دلیل کی رو سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کو بدعت نہیں کہا جا سکتا ہے، البتہ سیدنا عمرؓ کی جدت طرازی یہ رہی کہ آپؓ نے شورائی نظام کو ایک اصولی شکل دے دی کہ اسی بنیاد پر خلیفہ کا انتخاب عمل میں آئے گا اور اصولی شکل یہ تھی کہ شورائیت کے لیے مخصوص تعداد میں مخصوص (اصحاب حل و عقد) لوگوں کو منتخب کیا۔ پس یہی جدت طرازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صدیقی میں نہ تھی، بلکہ سب سے پہلے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انجام دیا اور یہ اقدام بہت ہی بہتر رہا کیونکہ اس وقت صحابہ کرامؓ کے جو حالات تھے ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی مناسب طریقہ نہیں تھا۔

(أولیات الفاروق: السیاسیۃ: صفحہ 127)