رافضی، قادیانی، بہائی کو بوجہ مسلمان نہ ہونے کے زکوٰۃ و صدقات واجبہ دینے سے ادا نہ ہوں گے
یاد رکھنا کہ جو حکم زکوٰۃ کا ہے وہی حکم صدقات واجبہ کا ہے۔ صدقات واجبہ سے مراد فطرانہ، نذر، منت، قسم کے کفارے کی رقم، کفارۂ ظہار، یہ تمام صدقات واجبہ ہیں۔ ان کے احکام اچھی طرح سمجھ لیں تا کہ دینے والے غلط فہمی کے شکار نہ ہو، اور نہ لینے والے غلط فہمی میں مبتلا رییں۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ واجب قسم کے صدقات کسی غیر مسلم کو نہیں لگتے، یعنی اگر تم غیر مسلم کو زکوٰۃ عشر، فطرانہ وغیرہ دو گے تو وہ ادا نہیں ہوں گے، دینے کے باوجود تمہارے ذمہ اسی طرح باقی رہیں گے۔ اور ہر ایسا شخص مسلمان نہیں ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔
مسلمان وہ ہے جس کو شریعت مسلمان کہے اور وہ نفس الامر میں صحیح معنیٰ میں مسلمان ہو۔ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کہنے میں تو قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں منکرین حدیث اور رافضی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، خارجی، بہائی اور ذکری بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا تصدیق کر کے کہ مسلمان ہے یا نہیں، پھر واجب قسم کا صدقہ دو۔ اگر عقیدے کا کچا ہے تو چاہے وہ کتنا ہی بھوکا اور محتاج کیوں نہ ہو اس کو واجب قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔ (ذخیرۃ الجنان في فهم القرآن: جلد، 8 صفحہ، 134)