مذہبی پہلو
علی محمد الصلابیمذہبی پہلو میں چند باتیں نمایاں ہیں، مثلاً:
ا۔ ہمہ وقت اللہ کے تقویٰ، ظاہر و باطن اور قول وعمل میں خشیت الہٰی کے شدید اہتمام کی وصیت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ جس آدمی کے دل میں اللہ کا تقویٰ ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو ہلاکتوں سے بچائے گا اور جس کے دل میں خشیت الہٰی ہوگی اس کی وہ حفاظت کرے گا اور گناہوں سے دور رکھے گا۔ چنانچہ کہا: ’’میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔‘‘ اور ’’اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، گناہوں کی پاداش میں اس کی پکڑ اور غصہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اور کہا: ’’لوگوں کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘
ب۔ اس بات کی وصیت ہے کہ ’’حدود الہٰی کی تنفیذ میں قریبی اور اجنبی میں کوئی تفریق نہ کرنا۔‘‘ ’’حق کو حق دار تک پہنچانے میں کوئی تردد نہ کرو۔‘‘ اور کہا: ’’اللہ کے دین کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔‘‘ اس لیے کہ الہٰی حدود کی وجوبی تنفیذ پر شرعاً حکم آیا ہے، یہ دین کا ایک حصہ ہیں۔ اسلامی شریعت ہی حجت ہے، لوگوں کے اعمال و افعال کو اسی پر پرکھا جائے گا، شریعت سے غفلت برتنا گویا دین اور معاشرے کو تباہ و برباد کرنا ہے۔
ج۔ اس وصیت میں استقامت اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ یہ چیز دین و دنیا کی ان اہم ضروریات میں سے ہے جسے سب سے پہلے حاکم وقت کو اپنے قول و عمل سے ثابت کرنا چاہیے، پھر یہ ذمہ داری رعایا کی ہے۔ ’’اپنے آپ کو نصیحت کرتے رہو۔‘‘ اور کہا: ’’ان اعمال سے اللہ کی رضا مندی اور آخرت کی بھلائی کے طالب بنو۔‘‘