حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد…

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد

تیسری وجہ : بفرض محال اگر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ امارت کے طالب تھے اور لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔ تو شیعہ کا یہ قول صریح قسم کی دروغ بیانی ہے کہ لوگوں نے طلب دنیا کی بنا پر آپ کی بیعت کی تھی۔ یہ حقیقت محتاج بیان نہیں کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں مال دنیا میں سے کچھ بھی نہیں دیا۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات اپنا سب مال خرچ کر دیاتھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی تو آپ نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے پوچھا : گھر کیلئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ تو آپ نے گزارش کی : ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ آیا ہوں ۔‘‘ [تخریج گزرچکی ہے]۔[اور خلافت کے دوران آپ خالی ہاتھ تھے۔][ذکر البخاری 2؍112؛ کتاب التہجدِ، باب لا صدقۃ إِلا عن ظہرِ غِنی؛ أن أبا بکر تصدق بِمالِہِ کلِہِ. وأورد بو داود2؍173؛ کتاب الزکاۃِ، باب فِی الرخصۃِ فِی ذلک]

مزید برآں آپ کی بیعت کرنے والے دنیا طلبی سے بے نیاز تھے۔یہی وہ لوگ تھے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے۔ یہ حقیقت دور و نزدیک سب کو معلوم ہے کہ حضرت عمر، ابو عبیدہ اور ان کے نظائر و امثال رضی اللہ عنہم زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔انصار کے انفاق فی سبیل سے بھی کوئی بے خبر نہیں ؛ جیسے حضرت اسید بن حضیر؛ ابو طلحہ ؛ ابو ایوب اور ان کے امثال؛ رضی اللہ عنہم ۔ مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کوئی بیت المال نہ تھا، جس سے آپ ان کو کچھ سامان بہم پہنچاتے۔ اور نہ ہی اس وقت کوئی دیوان تھا جہاں سے لوگوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا جاتا ۔ انصار اپنی املاک میں موجود تھے۔ایسے ہی مہاجرین میں سے جس کسی کے لیے مال غنیمت وغیرہ میں سے کچھ موجود تھا ‘ وہ اسی کے لیے تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مال غنیمت کی تقسیم میں مساوات کے قائل تھے۔ اگر صحابہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرتے تو وہ بھی انہیں اسی قدر مال دیتے جتنا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عطا کیا تھا۔حالانکہ آپ کا قبیلہ بنی تمیم سے افضل تھا۔[مزید برآں آپ کا کنبہ قبیلہ اور چچا زاد بھائی حسب و نسب کے اعتبار سے افضل الصحابہ رضی اللہ عنہم تھے]۔بنو عبدمناف قریش کے اشرف ترین لوگوں میں سے تھے جو کہ دوسرے لوگوں کی نسبت بنو امیہ کے قریب تر تھے ۔جیسے ابو سفیان بن حرب؛اور بنی ہاشم جیسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ جاہلیت کے دستور کے مطابق امارت بنی عبدمناف میں رہے۔آپ نے اس ضمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات بھی کی تھی؛ مگر نہ ہی اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مانا نہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اورنہ ہی کسی دوسرے نے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے علم و فضل اور دین و مذہب کی بنا پر ان کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔

غور کیجئے! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے عام لوگوں کو کیا فائدہ پہنچا؟ خصوصاً جب کہ تنخواہ کے معاملہ میں آپ سابقین اولین اور ایک عامی میں کچھ فرق نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

’’ لوگ اللہ سے اجر و ثواب پانے کی امید میں مشرف باسلام ہوئے ہیں اور وہ انہیں اجر عطا کرے گا، جہاں تک تنخواہ کا تعلق ہے وہ صرف بقائے حیات کا ذریعہ ہے اور بس ‘‘ !

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو عطیات میں درجہ بندی کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا: کیا میں ان سے ان کا ایمان خرید لوں ؟ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین وہی لوگ ہیں جنہوں نے پہلے آپ کی اتباع کی ۔ جیسے حضرت عمر؛ ابو عبیدہ؛ اسید بن حضیروغیرہم رضی اللہ عنہم ۔ آپ نے ان صحابہ کرام اور ان طلقاء کے مابین بھی مساوات قائم کی جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے تھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام لائے۔تو کیا پھر ان لوگوں کو آپ کی ولایت و خلافت سے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہوا؟ [جس کی بنا پر شیعہ الزام لگارہا ہے کہ انہوں نے دنیا کی لالچ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی]۔

اہل سنت و شیعہ کا باہمی رابطہ:

[چوتھی وجہ:]....ان سے کہا جائے گا کہ : اہل سنت کا شیعہ سے ربط و تعلق بعینہٖ اسی طرح ہے جیسے مسلمانوں کا نصاریٰ کے ساتھ۔ اہل اسلام ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ مگر نہ ان کی شان میں نصاری کی طرح غلو کرتے ہیں اور نہ یہود کی طرح ان کی تنقیص شان کرتے ہیں ۔ نصاریٰ غلو سے کام لیتے ہیں اور حضرت مسیح کو معبود سمجھتے، اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم اور حضرت موسی علیہم السلام کے مقابلہ میں افضل قرار دیتے ہیں ۔ مبالغہ آمیزی کی حد یہ ہے کہ نصاریٰ حضرت مسیح کے حواریوں کو رسولوں سے بھی افضل تصور کرتے ہیں ۔

شیعہ کا بھی یہی حال ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائید و نصرت کے لیے لڑنے والوں مثلاً اشترنخعی اور محمد بن ابی بکر کو حضرت ابوبکر و عمر اور سابقین اولین اور جمہور مہاجرین و انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کے مقابلہ میں افضل سمجھتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 5