حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد…

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

کفارنے مسلمانوں کے ایک سریہ کو عار دلائی تھی اس لیے کہ انہوں نے حرمت والے مہینے میں ابن الحضرمی کو قتل کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:یہ قتل واقعی بڑا [گناہ ]ہے۔اس کے مقابلہ میں مشرکین جس کفر پر ہیں ‘اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؛ اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ؛ مسجد حرام سے (روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ بڑا ہے۔‘‘اس لیے کہ یہ ایسی چیز سے روکنا ہے جس کے بعد نجات اور سعادت حاصل نہیں ہوسکتی ۔ نیز مسجد الحرام کی حرمت پامال کرنا حرمت والے مہینہ کی پامالی سے بڑھ کر ہے ۔ لیکن اس قسم میں دونوں فریقوں کی مذمت کا عنصر شامل ہے۔ جب کہ پہلی قسم: جس میں دونوں فریقین کی مذمت نہیں ۔بلکہ اس میں دو جگہوں پر شبہ ہے؛ او ردونوں کے پاس دلائل ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ کے دلائل زیادہ مضبوط اور ظاہر ہیں ۔ اوران کا شبہ بڑا کمزور اور مخفی ہے۔ تو ان لوگوں کا مسئلہ ثابت ہونے میں ان لوگوں کی نسبت زیادہ حقدار ہے جن کی دلیلیں کمزور ہیں ‘ اور شبہات قوی ہیں ۔مسلمانوں کے ساتھ یہودو نصاری کایہی حال ہے۔ اور اہل سنت والجماعت کیساتھ اہل بدعت خصوصاً رافضی بھی اسی ڈگر پر چلتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر و علی رضی اللہ عنہماکی نسبت ایک سنی و شیعہ کا معاملہ بعینہ اسی نوعیت کا ہے۔ ایک شیعہ اس وقت تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان و عدالت اور دخول جنت کو ثابت نہیں کر سکتا جب تک حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکے لیے ان کا اثبات نہ کیا جائے، اگر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ان جملہ امور کا اثبات کرے گا، اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو اس سے مستثنیٰ قرار دے گا تو دلائل و براہین اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اسی طرح ایک عیسائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر انداز کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا اثبات کرے گا تو دلائل اس کی موافقت نہیں کریں گے۔

خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرتے اور نواصب آپ کو فاسق قرار دیتے ہیں ؛اگر جب خوارج و نواصب شیعہ سے کہیں گے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ ظالم اور خلافت کے خواہاں تھے، اسی بنا پر وہ شمشیر بکف اپنے اعداء سے لڑتے تھے۔ آپ نے ہزارہا بے گناہ مسلمانوں کو تلوار کے گھاٹ اتارا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ بے بس ہوگئے۔

رفقاء کار آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر چلے گئے،انہوں نے آپ کے خلاف خروج کیا‘[ اور آپ کو کافر قرار دے کر یوم النہروان میں آپ کے خلاف نبرد آزما ہوئے]۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کوقتل کردیا۔ اگر یہ گفتگو خلاف تہذیب اور مبنی پر فساد ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں روافض کی گستاخی اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ شیعہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکے بارے میں جو گل افشانی کرتے ہیں اگر وہ درست اور مبنی برحق و صواب ہے تو اس کلام کے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔

شیخین کے اوصاف خصوصی:

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت بلا جبر و اکراہ لوگوں کی مرضی سے عمل میں آئی اور استحکام پذیر ہوئی تھی۔نہ آپ نے کسی کو[بیعت کی خاطر]مارا ؛ اورنہ ہی کسی پر تلوار چلائی؛نہ ہی کسی نے آپ کی نافرمانی کی ؛ او رنہ ہی کو کوئی مال دیا۔ سب لوگ نے باتفاق آپ کو خلیفہ تسلیم کیا ۔ آپ نے اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کو کوئی عہدہ تفویض نہیں کیا۔نہ ہی مسلمانوں کے بیت المال سے اپنے وارثوں کے لیے کوئی مال باقی چھوڑا۔ بخلاف ازیں اپنا سب اثاثہ اللہ کی راہ میں لٹا دیا؛ اور اس کا کوئی بدلہ آپ نے نہیں لیا۔ اور فوت ہوتے وقت یہ وصیت کر دی کہ گھر میں جو کچھ ہے، سب بیت المال کی نذر کر دیا جائے۔ گھر میں ایک بوسیدہ چادر، ایک لونڈی اور ایک اونٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔[1]یہاں تک حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: کیا تم یہ بھی آل ابو بکر سے لے لو گے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہوگا؛ میں ابو بکر کی قسم پوری کروں گا ‘ اور اس کی قیمت میں ادا کروں گا[اور مال آل ابو بکر رضی اللہ عنہ کو واپس کیا جائے]۔ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں یہاں تک کہا کہ:

’’ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ آپ پر رحم فرمائے؛ آپ نے بعد میں آنے والے امراء کو بڑی مشکل میں مبتلا کر دیا۔‘‘[2]

آپ کے عہد خلافت میں کوئی مسلمان قتل نہیں کیا گیا تھا۔اور نہ ہی کسی مسلمان نے کسی مسلمان سے جنگ کی۔ بلکہ آپ نے مسلمانوں کی معیت میں مرتدین و کفار کے خلاف جنگ لڑی تھی۔آپ کے دور میں بیرونی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب آخری وقت آیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ [رفقاء کار آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر چلے گئے،انہوں نے آپ کے خلاف خروج کیا‘[ اور آپ کو کافر قرار دے کر یوم النہروان میں آپ کے خلاف نبرد آزما ہوئے]۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کوقتل کردیا۔ اگر یہ گفتگو خلاف تہذیب اور مبنی پر فساد ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں روافض کی گستاخی اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ شیعہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکے بارے میں جو گل افشانی کرتے ہیں اگر وہ درست اور مبنی برحق و صواب ہے تو اس کلام کے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔

شیخین کے اوصاف خصوصی

صفحہ 3 از 5