حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد…

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت بلا جبر و اکراہ لوگوں کی مرضی سے عمل میں آئی اور استحکام پذیر ہوئی تھی۔نہ آپ نے کسی کو[بیعت کی خاطر]مارا ؛ اورنہ ہی کسی پر تلوار چلائی؛نہ ہی کسی نے آپ کی نافرمانی کی ؛ او رنہ ہی کو کوئی مال دیا۔ سب لوگ نے باتفاق آپ کو خلیفہ تسلیم کیا ۔ آپ نے اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کو کوئی عہدہ تفویض نہیں کیا۔نہ ہی مسلمانوں کے بیت المال سے اپنے وارثوں کے لیے کوئی مال باقی چھوڑا۔ بخلاف ازیں اپنا سب اثاثہ اللہ کی راہ میں لٹا دیا؛ اور اس کا کوئی بدلہ آپ نے نہیں لیا۔ اور فوت ہوتے وقت یہ وصیت کر دی کہ گھر میں جو کچھ ہے، سب بیت المال کی نذر کر دیا جائے۔ گھر میں ایک بوسیدہ چادر، ایک لونڈی اور ایک اونٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔[طبقات ابن سعد(۳؍۱۳۶)]یہاں تک حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: کیا تم یہ بھی آل ابو بکر سے لے لو گے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہوگا؛ میں ابو بکر کی قسم پوری کروں گا ‘ اور اس کی قیمت میں ادا کروں گا[اور مال آل ابو بکر رضی اللہ عنہ کو واپس کیا جائے]۔ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں یہاں تک کہا کہ:

’’ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ آپ پر رحم فرمائے؛ آپ نے بعد میں آنے والے امراء کو بڑی مشکل میں مبتلا کر دیا۔‘‘[طبقات ابن سعد(۳؍۱۳۶) ]

آپ کے عہد خلافت میں کوئی مسلمان قتل نہیں کیا گیا تھا۔اور نہ ہی کسی مسلمان نے کسی مسلمان سے جنگ کی۔ بلکہ آپ نے مسلمانوں کی معیت میں مرتدین و کفار کے خلاف جنگ لڑی تھی۔آپ کے دور میں بیرونی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب آخری وقت آیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے نادرۂ روز گار تندرست و توانا ] جیسے نادرۂ روز گار تندرست و توانا اور صاحب امانت و دیانت کو اپنا قائم مقام مقرر کیا۔[[جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تقرر میں کنبہ پروری، اقربا نوازی اور دنیا طلبی کا کوئی جذبہ کار فرمانہ تھا، بلکہ مسلمانوں کی نفع رسانی کی خاطر آپ نے یہ اہم کام سر انجام دیا۔ چنانچہ آپ کی بصیرت و فراست کو سراہا گیا اور آپ کے اس بے پایاں احسان کا شکریہ ادا کیا گیا]]۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مختلف شہر اور ملک فتح کئے، دفتر بنائے، بیت المال کو زر و مال سے بھر دیا اور لوگوں میں عدل و انصاف کو فروغ دیا۔ [[بایں ہمہ آپ اسی شاہراہ پر گامزن رہے جس پر قبل ازیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلا کرتے تھے ، عیش پرستی اور نعمت کوشی کی زندگی سے کنارہ کش رہے، اقرباء نوازی سے احتراز کیا تاآنکہ شہادت پاکر اپنے خالق حقیقی سے جاملے]]۔

ان مسلمہ حقائق کے باوجود اگر ایک شیعہ کہے کہ یہ سب کچھ طلب دنیا اور جاہ طلبی کے جذبہ کے پیش نظر تھا اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما طالب دنیا تھے۔ تو ایک ناصبی بڑی آسانی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ [جس طرح اس جاہل نصرانی نے قسطنطنیہ میں امام باقلانی کے روبرو سیدہ عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی کر کے اپنے اہل مذہب کا منہ چڑایا تھا، اسی طرح شیعہ کا یہ فعل مسلم کامل خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے باعث ننگ ہے۔ نوع انسانی میں سے چیدہ و برگزیدہ اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شیعہ کا مسلک مقابلہ و موازنہ پر مبنی ہے،حضرت علی اور ان کی اولاد کا مقام اہل سنت کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ ان کو میدان مقابلہ میں کھینچ لائیں ، جس طرح انبیاء و رسل کے متعلق ہمارا موقف حسب ارشاد ربانی: ’’ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُسُلِہٖ ‘‘ عدم تفریق پر مبنی ہے، اسی طرح صحابہ کرام کے متعلق ہم وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے استاد محترم (سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: تھا:’’ اَصْحَابِیْ کَالنَّجُوْمِ بِاَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ ‘‘ ’’ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ، تم جس کی پیروی کرو گے راہ راست کو پالو گے۔‘‘ (جامع بیان العلم لابن عبد البر(۲؍۹۱) الاحکام لابن حزم(۶؍۸۲) یہ ضعیف روایت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلۃ الضعیفۃ للشیخ الالبانی،ص:۵۸)۔]کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ آپ ریاست و امارت کے خواہاں تھے اور یہی جذبہ جدال و قتال کا محرک ہوا،یہاں تک کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ آپ کبھی کفار کے خلاف صف آراء نہ ہوئے، اور کبھی ایک شہر بھی فتح نہ کیا۔اور آپ کے عہد میں مسلمانوں کے مابین شر و فتنہ کے علاوہ کسی قسم کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ 

اگر شیعہ یہ کہے کہ حضرت علی طالب رضی اللہ عنہ رضائے الٰہی کے طلب گار تھے[اور دین کے معاملہ میں مداہنت کرنے والے نہ تھے] مگر دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کوتاہی پر تھے۔یا یہ کہاجائے کہ:’’آپ مجتہد اور حق پر تھے ؛ اوردوسرے لوگ اس حالت میں خطا کارتھے۔ تو بیشک اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : ’’ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی رضائے الٰہی کے طلبگار ؛ مجتہد اور حق پر تھے ؛رافضی بدرجہ اولی ان کے حق معرفت میں کوتاہ اندیش ؛ ان کی مذمت میں خطاکار ہیں ۔ اس لیے کہ ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما سے مال و دنیا کی طلب کا شبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت بہت دور کا شبہ ہے۔ خوارج جو کہ حضرت عثمان اورحضرت علی رضی اللہ عنہما کو کافر کہتے ہیں ؛ ان کا شبہ رافضیوں کے شبہ کے قریب تر ہے جو حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی مذمت کرتے ہیں اور انہیں کافر کہتے ہیں ۔ توپھر ان صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم کے متعلق ان کا کیا نظریہ و خیال ہوگا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہے ‘ اور ان سے برسر پیکار رہے۔خوارج کا شبہ ان لوگوں کے شبہ سے زیادہ قوی ہے جو حضرات ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم پر قدح و طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ کہیں : ہم صرف اس کی بیعت کرسکتے ہیں ‘ جو ہمارے ساتھ عدل و انصاف کرے ‘ ظلم سے ہمارا دفاع کرے ؛ اور ظالم سے ہمارا حق ہمیں دلائے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے توپھر یا تووہ عاجز ہوگا یا ظالم ؛ او رہم پر واجب نہیں ہے کہ ہم ظالم یا عاجز کی بیعت کریں ۔

صفحہ 4 از 5