Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فوجی پہلو

  علی محمد الصلابی

ا: اس وصیت میں اسلامی فوج پر خصوصی توجہ دینے، اسے مناسب ڈھنگ سے تیار کرنے، ملکی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں ان کے مؤثر کردار اور عظیم ذمہ داری کا انہیں احساس دلانے اور فوج کی تکمیلِ ضروریات کی اہمیت کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ ’’ان کی ضروریات کی تکمیل میں لگے رہنا اور سرحدوں کی حفاظت کرنا۔‘‘

ب: حاکم وقت کو تعلیم دی گئی ہے کہ مجاہدین کو ان کے اہل وعیال سے دور سرحدوں پر لمبی مدت تک ٹھہرانے سے اجتناب کریں، اس لیے کہ اہل و عیال سے لمبی غیر حاضری کے نتیجے میں جنگجوؤں کو اکتاہٹ و بے چینی اور مقصد کے حصول میں ناکامی لاحق ہو سکتی ہے، چنانچہ مخصوص ایام میں متعینہ دنوں کے لیے انہیں چھٹی دینا ضروری ہے، تاکہ ایک طرف وہ آرام کر سکیں اور دوبارہ نئے عزم اور نئی قوت کے ساتھ میدان میں اتریں اور دوسری طرف اپنی بیویوں سے تعلقات قائم کر کے قلبی سکون حاصل کریں اور افزائش نسل کا سلسلہ باقی رکھیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نصیحت میں یہ بات تھی کہ ’’انہیں سرحدوں پر زیادہ دن نہ روکنا ورنہ خدشہ ہے کہ ان کی نسل ہی ختم ہو جائے۔‘‘ اور کہا: ’’مفتوحہ ممالک کے باشندوں کے ساتھ بھلائی کرنا کیونکہ وہ دشمنوں کو دفع کرنے والے ہیں۔‘‘

ج: مال غنیمت اور عطیہ و وظیفہ میں ہر فوجی کا جتنا حق ہے اسے وقت پر دیتے رہنا ضروری ہے تاکہ اسے یہ احساس رہے کہ ہماری اور ہماری آل و اولاد کی ایک مستقل آمدنی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دل لگا کر جہاد کرے گا اور مالی پریشانیوں سے بے فکر ہوگا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نصیحت میں کہا ہے: ’’خود ان سے زیادہ مال فے نہ لینا ورنہ انہیں ناراض کر دو گے، جب وہ عطیات لینے آئیں تو دے دینا ورنہ انہیں محتاج بنا دو گے۔‘‘