حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے…

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا اثبات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا اثبات :

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیش رو بھی طلب امارت و ریاست سے پاک تھے]۔ واقعہ تحکیم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ ہر دو کو معزول کرنے اور شوریٰ سے خلیفہ منتخب کرنے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہم نوا تھے۔ [قضیہ تحکیم سے متعلق صحیح بات یہی ہے،حضرت ابو موسیٰ اور عمر و بن العاص رضی اللہ عنہم اس امر میں متحد الخیال تھے کہ کبار صحابہ کے مشورہ سے خلیفہ منتخب کیا جائے، (العواصم من القواصم: ۱۷۲۔۱۸۱) کے حواشی میں اس کے دلائل پیش کیے ہیں ، کتاب ہذا میں اپنے موقع پر ان عظیم حقائق کی نشاندہی کی جائے گی۔]

بتائیے: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے شبہات کو عبداللہ بن سبا اور اس کے نظائر و امثال کے شکوک سے کیا نسبت جن کا دعویٰ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ الہٰ تھے یا معصوم تھے یا نبی تھے۔

بلکہ اس شبہ کا اس شبہ سے کیا تعلق ہے جو لوگ کہتے تھے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنادیا جائے؛ اور ان لوگوں کا شبہ جو کہتے تھے کہ آپ إلہ یا نبی تھے ۔ یقیناً ایسا کہنے والے باتفاق مسلمین کافر ہیں ۔

یہ دلائل و شواہد اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ ایک رافضی اپنے مذہب کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عدل و ایمان ثابت نہیں کرسکتا،سوائے اس صورت کے کہ وہ اہل سنت وا لجماعت پر چلتے ہوئے ثابت کرے۔خوارج جو کہ آپ کو کافر یا فاسق کہتے ہیں ؛ اگر وہ رافضی سے کہیں : ’’ ہم یہ نہیں مانتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مؤمن تھے۔ بلکہ آپ کافر یا ظالم تھے [معاذ اللہ ] ؛ جیسا کہ رافضی حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکے متعلق کہتے ہیں ؛ تو رافضیوں کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان وعدل پر دلیل نہیں ہوگی۔ اگر کوئی دلیل پیش کرے گا تو وہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکے ایمان پر زیادہ وضاحت کے ساتھ دلالت کرتی ہوگی۔

اگر رافضی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام اور ہجرت وجہاد کے اثبات میں احادیث متواترہ سے استناد کرے گا توایسی متواتر روایات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی موجود ہیں ۔بلکہ معاویہ رضی اللہ عنہ ؛یزید ؛ خلفاء بنی امیہ و بنو عباس کا اسلام ؛ ان کے روزے ؛ نمازیں ؛ کفار کے ساتھ جہاد بھی ایسے ہی تواتر کیساتھ ثابت ہے۔

اگر شیعہ کہے کہ صحابہ اندرونی طور پر منافق اور دین اسلام کے معاندو مخالف تھے تو ایک خارجی بڑی آسانی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نفاق کا دعوی کرسکتا ہے۔

جب کبھی کسی شبہ کا ذکر کیا جائے تو اس کے جواب میں اس سے زیادہ طاقت ور شبہ پیش کیا جائے گا اور اگر یہ کہا جائے کہ ان جھوٹے رافضیوں نے جو باتیں گھڑلی ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کہتے ہیں :

’’ بیشک ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہمااندرونی طور پر منافق تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتے تھے؛ان سے جتنا ہوسکتا تھا انہوں نے دین کو خراب کیا ۔‘‘ تو اس کے جواب میں ایک خارجی بڑے آرام سے کہہ سکتا ہے کہ : آپ اپنے چچا زاد بھائی پر حسد کرتے تھے؛[ اور اس طرح اپنے کنبہ و قبیلہ میں عداوت کے مرتکب ہوتے تھے ]علاوہ ازیں آپ دین میں فساد بپا کرنے کے خواہاں تھے۔خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور میں آپ ایسا نہ کرسکے ؛ یہاں تک کہ آپ نے کوشش کرکے تیسرے خلیفہ کو شہید کروادیا۔ اور جب مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو خون ریزی کا بازار گرم کیا ؛ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور آپ کی امت کو بغض و عداوت کی وجہ سے قتل کرنے میں حد سے تجاوز کر گئے ۔ آپ باطن میں منافقین کی محبت رکھتے تھے جو آپ کے نبی یا الہ ہونے کے دعویدار تھے۔آپ اپنے باطن کے خلاف چیز کااظہار کیا کرتے تھے۔ تقیہ و نفاق کی راہ پر گامزن ہوئے۔ جب ان لوگوں کو آگ میں جلایا تو اس پر انکار بھی کیا ۔ اس لیے کہ آپ باطن میں ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ اسی لیے باطنیہ آپ کے پیروکاروں میں سے تھے ۔ اور آپ کے اسرار انہی کے پاس ہیں ؛ اوروہ آپ سے وہ اسرار نقل کرتے چلے آرہے ہیں جسے وہ دین سمجھتے ہیں ۔

[[ باطنیہ فرقہ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنے والے آپ کی جانب وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دامن حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکی طرح پاک ہے]]۔

اس کے جواب میں ایک خارجی بھی ایسا کلام پیش کرسکتا ہے جو لوگوں کے درمیان مشہور کردیا گیا ہو؛ بلکہ وہ اس کلام سے بڑھ کر ہوگا جو روافض نے خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے متعلق مشہور کررکھا ہے۔ اس لیے کہ خارجی شبہ کی بہ نسبت رافضی شبہ کا فاسد و بیکار ہونا زیادہ ظاہر اور واضح ہے۔جب کہ خود خوارج روافض کی بہ نسبت زیادہ صحیح[سچے] اور بامقصد لوگ ہیں ؛ اور رافضی سب سے جھوٹے اور دینی لحاظ سے فاسد لوگ ہیں ۔

اگر رافضی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایمان و عدل قرآنی نصوص سے ثابت کرنا چاہیں تو ان سے کہا جائے گا کہ قرآنی نصوص عام ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ان کا شمول کسی دوسرے صحابی کے شمول سے بڑھ کر نہیں ہے۔

علی ہذا القیاس شیعہ جس آیت کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مختص تصور کرتے ہوں بڑی آسانی سے اس آیت کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مخصوص قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہر کیف بغیر دلیل کے دعوی کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ، فریقین کے لیے اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔[دلیل کی روشنی میں ]حضرات ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کا دعوی دوسرے کسی بھی دعوی کی بہ نسبت زیادہ ممکن ہے۔

صفحہ 1 از 3