حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے…

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا اثبات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

اہل شوری میں سے صرف حضرت علی اور سعد رضی اللہ عنہما باقی رہ گئے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سر زمین عراق کو زیر نگیں کر کے کسریٰ کے لشکر کو نیچا دکھایا تھا۔ آپ عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک تھے، اور سب سے آخر میں فوت ہوئے۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے عمر بن سعد کا مشابہ قرار نہیں دے سکتے توحضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اس کی مثل کیوں کر ہوئے؟

مقام حیرت ہے کہ شیعہ کے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کے ہم پلہ نہ تھے۔

بلکہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا مرتبہ ان سے بلند تر تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ محمد بن ابی بکرنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایذاء پہنچائی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تربیت یافتہ ہونے کی بنا پر وہ آپ کے خاص اعوان و انصار میں شمار ہوتا تھا۔[سیدنا علی نے صدیق اعظم کی وفات کے بعد ان کی بیوی کے ساتھ نکاح کر لیا تھا، محمد بن ابی بکر اسی بیوی کے بطن سے آپ کا لے پالک تھا۔ ] مگر شیعہ محمد کے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے اور لعنت تک بھیجنے سے نہیں شرماتے۔ [ہم قبل ازیں شیعہ کی معتبر کتب کے حوالہ سے تحریر کر چکے ہیں کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ’’الجبت‘‘ (جادوگر، شیطان) اورحضرت فاروق رضی اللہ عنہ کو ’’ الطاغوت ‘‘ (باغی، سرکش) کے القاب سے نوازتے ہیں ، جب تاریخ انسانیت میں عدل و انصاف کے ایک مثالی کردار فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو.... جن کی بدولت اسلام کا نام روشن ہوا تھا.... طاغوت کہا جاتا ہے تو باقی لوگوں کی کیا حالت ہوگی، دراصل یہ لوگ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی توہین کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ اس اسلام کی مذمت بیان کرتے ہیں ، جوان دونوں حضرات کے طفیل اکناف ارضی میں پھیلا، یہی وجہ ہے کہ شیعہ نے ایک ایسا دین گھڑ لیا ہے جس سے ابوبکر و عمر عثمان و علی ، حسن و حسین رضی اللہ عنہم اور ان کے خلاف آشنا ہی نہ تھے۔ دیکھئے کتاب ’’مختصر التحفۃ الاثنا عشریۃ ۔‘‘]

اگر نواصب عمر بن سعد کے ساتھ یہی سلوک کریں یعنی قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بنا پر اس کی مدح و ستائش کریں اس لیے کہ وہ حامیان عثمان رضی اللہ عنہ میں سے تھا اور ان کا قصاص لینا چاہتا تھا۔ اس کی دوش بدوش وہ عمر بن سعد کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اس لیے برا بھلا کہیں کہ وہ عملی طور پر قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ کرنے والوں یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے ساتھ شریک جنگ نہ ہو ئے، تو ان کے اس فعل اور شیعہ کے فعل میں کچھ فرق نہ ہوگا؛ بلکہ شیعہ کا فعل نواصب کے فعل سے شنیع تر ہوگا۔اور رافضی ان سب سے بڑھ کر برے ہونگے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتبہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بلند تر تھا۔ اس کے پہلو بہ پہلو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی قتل کیے جانے کا کم استحقاق رکھتے تھے۔ تاہم دونوں کے مظلوم اور شہید ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی بنا پر امت اسلامیہ جس فتنہ سے دوچار ہوئی وہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت عظیم تر تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سابقین اولین صحابہ میں سے تھے، آپ خلیفہ مظلوم تھے، بلا وجہ آپ سے معزول ہونے کے لیے کہا گیا تھا، جس کے لئے آپ تیار نہ تھے، آپ نے مدافعت کے لیے جنگ بھی نہ کی اور شہادت سے مشرف ہوئے۔[التعلیقات: ۵۲ تا ۱۴۷) ]

حضرت حسین رضی اللہ عنہ امیر و خلیفہ نہ تھے، البتہ خلافت کے طلب گار تھے۔ جب یہ بات مشکل نظر آئی اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک قیدی کی حیثیت میں یزید کے روبرو پیش ہوں گے تو آپ نے یہ گوارا نہ کیا اور دشمن کے خلاف صف آرا ہوئے، یہاں تک کہ بحالت مظلومی شہادت سے بہرہ ور ہوئے۔[ہادت حسین کے لیے دیکھئے مقالہ محب الدین الخطیب جس کا عنوان ہے: ’’ مَنْ ہُمْ قَتَلَۃُ الْحُسَیْنِ ‘‘ (سیدنا حسین کے قاتل کون تھے؟ ) مجلہ الفتح شمارہ: ۸۵۱، محرم ۱۳۶۷ھ]

یہ واقعات اس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مظلوم تر تھے اور آپ کا صبر و حلم بھی مقابلۃً اتم و اکمل تھا۔ تاہم دونوں کا مظلوم اور شہید ہونا کسی شبہ سے بالا تر ہے، اگر کوئی شخص یوں کہے کہ حضرت علی و حسین رضی اللہ عنہما حکومت و امارت کے اسی طرح ناحق کے طلب گار تھے جیسے اسماعیلیہ میں سے الحاکم وغیرہ اور دیگر سلاطین بنی عبید۔[بنی عبید کے مذہب اور ان کی تاریخ نشو و ارتقاء کے لیے دیکھئے ہمارا مقالہ مجلہ الازہر (م ۲۵ ؍ ۵ جمادی الاول ۳۷۳اھ : ۶۱۲، ۶۳۱) مقالہ کا عنوان ہے: ’’ مَنْ ہُمُ الْعُبَیْدِیُّوْنَ‘‘] تو ایسا شخص بلا شک و شبہ دروغ گو اور مفتری ہوگا، اس لئے کہ حضرت علی و حسین رضی اللہ عنہماہمارے نزدیک اعلیٰ درجہ کے مومن تھے۔ان کی دینداری اور فضیلت مسلمہ ہے۔

جب کہ اسماعیلیہ ان کے مقابلہ میں منافق اور ملحد تھے۔ اسماعیلیہ وغیرہ کافر اورملحد ہیں ۔

علی ہذا القیاس جو لوگ حضرت علی و حسین رضی اللہ عنہما کو ان جھوٹے طلب گاران خلافت کی مثل قرار دیتے ہیں جو بنی طالب میں پیدا ہوئے یا وقتاً فوقتاً سر زمین حجاز اور دیگر بلاد و امصار میں سر اٹھا کرنا حق لوگوں کی جانیں تلف کرتے اور مال چھینتے رہے، تو کیا ایسے لوگ ظالم و کاذب نہ ہوں گے؟ یقیناً وہ جھوٹے ہوں گے۔

نظر بریں جو شخص حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو عمر بن سعد کا مماثل قرار دیتا ہے، اس کا ظلم و کذب سابق الذکر سے بڑھ چڑھ کر ہے۔پھر عمر بن سعد اگر چہ نیکی کے تصور سے کوسوں دور تھا، تاہم اس کے جرم کی انتہاء یہ تھی کہ وہ گناہ کے ساتھ دنیا کا طلب گار تھا؛اور اسے اپنے اس عظیم گناہ کا اعتراف تھا۔اس طرح کے بہت سے گناہ مسلمانوں میں واقعہ ہوتے رہتے ہیں۔


صفحہ 3 از 3