مالی واقتصادی پہلو
علی محمد الصلابیا: ملکی اموال کو لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کے ترازو سے تقسیم کرنا لازم ہے اور ان تمام طریقوں کا تدارک کرنا ضروری ہے جن سے صرف کسی ایک طبقہ میں دولت سمٹ کر رہ جاتی ہو اور دوسرے لوگ محروم رہتے ہوں۔ یہی مفہوم ہے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس وصیت کا کہ ’’دولت صرف مال داروں کے ہاتھوں میں نہ گردش کرتی رہے۔‘‘
ب: ذمی لوگ جب تک مقررہ جزیہ و خراج ملک کو دیتے رہیں ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا جائز نہیں۔ فرمایا: ’’ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔‘‘
ج: رعایا کے مالی حقوق کی ضمانت لی جائے، اس میں انتہا پسندی سے اجتناب کیا جائے۔ وصیت میں کہا گیا ہے کہ: ’’مفتوحہ ممالک کے باشندوں سے وہی کچھ لینا جو ان کی ضرورت سے زائد ہو۔‘‘ اور کہا: ’’دیہات کے عرب باشندوں میں ان کے مال داروں سے زکوٰۃ لے کر انہی کے محتاجوں میں تقسیم کر دینا۔‘‘
(الخلیفۃ الفاروق عمر بن الخطاب: عانی: صفحہ 174، 175)